உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    میرٹھ : کاوڑ یاترا منسوخ ہونے سے مسلم کاریگر مایوس، جانیں وجہ

     گزشتہ دو سال سے منسوخ کی جا رہی کاوڑ یاترا کی وجہ سے کاوڑ تیار کرنے والے یہ مسلم کاریگر بھی پریشان ہیں۔

    گزشتہ دو سال سے منسوخ کی جا رہی کاوڑ یاترا کی وجہ سے کاوڑ تیار کرنے والے یہ مسلم کاریگر بھی پریشان ہیں۔

    گزشتہ دو سال سے منسوخ کی جا رہی کاوڑ یاترا کی وجہ سے کاوڑ تیار کرنے والے یہ مسلم کاریگر بھی پریشان ہیں۔

    • Share this:
    ساون کے مہینے میں شیو راتری کے موقع پر شیو مندروں میں چڑھیا جانے والا جل جس کاوڑ میں رکھ کر لایا جاتا ہے اس کاوڑ کو میرٹھ کے کئی مسلم کاریگر اپنے ہاتھوں سے تیار کرتے ہیں لیکن کورونا وبا کے خطرے کی وجہ سے گزشتہ دو سال سے منسوخ کی جا رہی کاوڑ یاترا کی وجہ سے کاوڑ تیار کرنے والے یہ مسلم کاریگر بھی پریشان ہیں
    ساون کے مہینے میں لاکھوں شیو بھکت اپنے کندھوں پر کاوڑ رکھ کر گنگا جل لینے ہری دوار پہنچتے ہیں اور شیو راتري کے موقع پر یہ جل شیو مندر میں چڑھاتے ہیں۔

    شیو بھکت جس کاوڑ میں یہ جل لیکر آتے ہیں اُسے ہندو کاریگروں کے علاوہ میرٹھ کے کئی مسلم کاریگر بھی تیار کرتے ہیں میرٹھ کے یہ مسلم کاریگر گزشتہ پانچ پشتوں سے اس کام کو بڑی عقیدت اور احترام کے ساتھ انجام دیتے آ رہے ہیں لیکن کورونا وبا کی وجہ سے گزشتہ برس اور اس سال بھی کاوڑ یاترا منسوخ کیے جانے سے ان کاریگروں کا روزگار بھی متاثر ہوا ہے۔

    ساون میں شروع ہونے والی کاوڑ یاترا سے دو ماہ قبل ہی کاوڑ تیار کرنے کا کام شروع ہو جاتا ہے ایسے میں آرڈر پر کاوڑ تیار کرنے والے مسلم کاریگروں کی بقرعید بھی اچھی گزرتی ہے لیکن یاترا کی اجازت نہ ملنے کے بعد آرڈر کینسل ہونے سے کاوڑ کاریگر کافی مایوس ہیں۔ گزشتہ سال کی طرح اس سال بھی کاوڑ یاترا کی اجازت نہ ملنے سے جہاں شیو بھکتوں میں مایوسی ہے وہیں کاوڑ تیار کرنے والے کاریگر بھی مایوس ہیں اور حالات کے جلد بہتر ہونے کی اُمید کر رہے ہیں۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: