உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    میرٹھ پہنچی این ایچ آر سی کی ٹیم، سی اے اے اور این آر سی کے دوران تشدد میں مہلوکین کے اہل خانہ اور پولیس افسران کے درج کئے بیان

    دسمبر 2019 کو سی اے اے اور این آر سی کے خلاف احتجاج کے دوران میرٹھ میں بھی کئی علاقوں میں تشدد کے واقعات پیش آئے تھے جن میں پولیس اور پبلک کے درمیان تصادم میں گولی لگنے سے پانچ افراد ہلاک ہوئے تھے۔

    دسمبر 2019 کو سی اے اے اور این آر سی کے خلاف احتجاج کے دوران میرٹھ میں بھی کئی علاقوں میں تشدد کے واقعات پیش آئے تھے جن میں پولیس اور پبلک کے درمیان تصادم میں گولی لگنے سے پانچ افراد ہلاک ہوئے تھے۔

    دسمبر 2019 کو سی اے اے اور این آر سی کے خلاف احتجاج کے دوران میرٹھ میں بھی کئی علاقوں میں تشدد کے واقعات پیش آئے تھے جن میں پولیس اور پبلک کے درمیان تصادم میں گولی لگنے سے پانچ افراد ہلاک ہوئے تھے۔

    • Share this:
    سی اے اے اور این آر سی کے خلاف احتجاج کے دوران دسمبر 2019 میں میرٹھ میں پیش آئے تشدد کے واقعات میں گولی لگنے سے پانچ افراد کی جان گئی تھی ہیومن رائٹس کمیشن میں شکایت کے بعد اب ڈیڑھ سال سے زیادہ کا عرصہ گزر جانے کے بعد این ایچ آر سی نے اب اس معاملے میں جانچ شروع کرتے ہوئے بیانات درج کرنے کی شروعات کی ہے مہلوکین کے اہل خانہ اور متاثرین کے علاوہ ضلع انتظامیہ اور پولیس افسران کے بیان درج کرنے این ایچ آر سی کی ٹیم میرٹھ پہنچی۔
    دسمبر 2019 کو سی اے اے اور این آر سی کے خلاف احتجاج کے دوران میرٹھ میں بھی کئی علاقوں میں تشدد کے واقعات پیش آئے تھے جن میں پولیس اور پبلک کے درمیان تصادم میں گولی لگنے سے پانچ افراد ہلاک ہوئے تھے۔ پولیس پر الزام ہے کہ ہنگامے اور پتھراؤ کے دوران پولیس نے لوگوں پر سیدھے فائرنگ کی جس میں پانچ افراد کی جان چلی گئی ان معاملوں میں پولیس نے مہلوکین کے اہل خانہ کی جانب سے رپورٹ تک درج نہیں کی، بعد میں جمعیت علماء اور ہیومن رائٹس ڈیفینڈر الرٹ جیسی سماجی ملّی تنظیموں کی پیش رفت سے اس معاملے میں انصاف دلانے کے لیے ہیومن رائٹس کمیشن میں عرضی داخل کی گئی۔

    ڈیڑھ سال سے زیادہ کا عرصہ گزر جانے کے بعد اب ہیومن رائٹس کمیشن کی ایک ٹیم نے اس معاملے میں جانچ شروع کی ہے مہلوکین کے اہل خانہ اور متاثرین کے علاوہ اُس وقت تھانہ کیساڑی گیٹ برہم پوری اور تھانہ نوچندی علاقے میں تعینات ضلع اور پولیس انتظامیہ کے بیانات درج کرنے کے لئے این ایچ آر سی کی ٹیم میرٹھ پہنچی ہے۔

    ڈیڑھ سال بعد دیر سے ہی سہی لیکن اب این ایچ آر سی کی اس پیش رفت سے مہلوکین کے اہل خانہ اور متاثرین کے علاوہ انصاف کے لیے ان افراد کے ساتھ کھڑے ہونے والے افراد کو بھی مظلومین کے لیے انصاف کی اُمید جگی ہے۔

     

     
    Published by:Sana Naeem
    First published: