ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

میرٹھ: مہنگائی کی مار سے پریشان عوام، پیاز کی قیمتوں میں ہوئے بےتحاشہ اضافہ سے نکلے لوگوں کے آنسو

گزشتہ ماہ سے روز مرہ کی ضرورت کی اشیاء اور سبزی کی قیمتوں میں مسلسل ہو رہے اضافے نے اب حالات کے اور مشکل ہونے کا اندیشہ پیدا کر دیا ہے۔ آلو کے بعد اب پیاز کی قیمتوں میں بےتحاشہ اضافے نے عام افراد کے گھر کا بجٹ بگاڑ دیا ہے۔

  • Share this:
میرٹھ: مہنگائی کی مار سے پریشان عوام، پیاز کی قیمتوں میں ہوئے بےتحاشہ اضافہ سے نکلے لوگوں کے آنسو
میرٹھ : پیاز کی قیمتوں میں ہوئے بےتحاشہ اضافہ سے نکلے لوگوں کے آنسو

میرٹھ : کورونا وبا کے قہر سے بچنے کی کوشش میں جہاں لاک ڈاؤن نے اقتصادی ترقی کی رفتار کو دھیما کر دیا وہیں اشیاء ضروریہ کی بڑھتی قیمتوں سے مہنگائی کی مار نے عام لوگوں کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔ گزشتہ ماہ سے روز مرہ کی ضرورت کی اشیاء اور سبزی کی قیمتوں میں مسلسل ہو رہے اضافے نے اب حالات کے اور مشکل ہونے کا اندیشہ پیدا کر دیا ہے۔ آلو کے بعد اب پیاز کی قیمتوں میں بےتحاشہ اضافے نے عام افراد کے گھر کا بجٹ بگاڑ دیا ہے۔


ملک کی جی ڈی پی کے ریکارڈ سطح تک غوطہ لگانے کے بعد اب جہاں ملک کی اقتصادی حالت اور ترقی کی رفتار کو لیکر ماہرین طرح طرح کے خطرے ظاہر کر رہے ہیں وہیں بڑھتی مہنگائی کا سیدھا اثر اب اشیاء ضروریہ کی قیمتوں پر بھی نظر آنے لگا ہے۔ گزشتہ ماہ سے راشن کے سامان اور سبزی کی قیمتوں میں مسلسل ہو رہے اضافے کے بعد اب مہنگائی کی مار آلو اور پیاز کی قیمتوں پر پڑی ہے۔ ملک کے شمالی حصے میں تو آلو چالیس سے پچاس اور پیاز کی قیمتیں ساٹھ سے 80 روپیے کلو پہنچ گئی ہیں۔ حال یہ ہے کہ غریب طبقہ اب اپنے گھر کی ضرورت کے لیے ایسی پیاز بھی خریدنے کو مجبور ہے جسے عام طور پر چھانٹ کر الگ کر دیا جاتا ہے۔ وہیں سماج کا مڈل کلاس طبقہ بھی آلو اور پیاز کی بڑھی ہوئی غیر معمولی قیمتوں کے سبب ضرورت سے بھی کم استعمال کرکے گھر کے بجٹ کو سنبھالنے کی کوشش کر رہا ہے۔


وہیں ماہرین کا ماننا ہے کہ کورونا قہر نے دنیا کے ہر ملک کی اقتصادی حالت کو بری طرح متاثر کیا ہے لیکن ہندوستان جیسے بڑی اور غریب آبادی والے ملک میں اس کا اثر زیادہ نظر آ رہا ہے جو آنے والے دنوں کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔ ملک کی جی ڈی پی کے منفی ہونے کے اثرات کاروبار اور روزگار پر نظر آنے لگے ہیں ایسے میں بڑھتی مہنگائی کی دوہری مار عوام پر پڑنا لازمی ہے۔

Published by: Nadeem Ahmad
First published: Oct 25, 2020 12:30 PM IST