اپنا ضلع منتخب کریں۔

    لاک ڈاؤن میں بھی عیاش اور رنگین مزاج افراد کے حوصلے بلند، ریسٹورینٹ میں چھپ کر چل رہا تھا یہ کام

    یرٹھ میں عیاشی اور رنگین مزاج نوجوانوں نے اپنی کرتوتوں سے نہ صرف لاک ڈاؤن کی دھجیاں اُڑا دی ہیں.

    یرٹھ میں عیاشی اور رنگین مزاج نوجوانوں نے اپنی کرتوتوں سے نہ صرف لاک ڈاؤن کی دھجیاں اُڑا دی ہیں.

    کورونا انفیکشن کے بڑھتے خطرے کے پیش نظر یو پی میں ہفتے کے آخری دو دنوں میں مکمّل لاک ڈاؤن کا نفاذ عمل میں لایا جا رہا ہے لیکن میرٹھ میں عیاشی اور رنگین مزاج نوجوانوں نے اپنی کرتوتوں سے نہ صرف لاک ڈاؤن کی دھجیاں اُڑا دی ہیں بلکہ عیاشی حقہ اور شراب نوشی کی محفل سجا کر پولیس کی لاپرواہی کی بھی پول کھول دی ہے۔

    • Share this:
    کورونا وائرس کے بڑھتے خطرے کے پیش نظر یو پی میں ہفتے کے آخری دو دنوں میں مکمّل لاک ڈاؤن کا نفاذ عمل میں لایا جا رہا ہے لیکن میرٹھ میں عیاشی اور رنگین مزاج نوجوانوں نے اپنی کرتوتوں سے نہ صرف لاک ڈاؤن کی دھجیاں اُڑا دی ہیں بلکہ عیاشی حقہ اور شراب نوشی کی محفل سجا کر پولیس کی لاپرواہی کی بھی پول کھول دی ہے۔ معاملہ میرٹھ کے نوچاندی تھانہ علاقے کے شاستری نگر نئی سڑک پر موجود لیول اپ ریسٹورنٹ کا ہے جہاں ویک اینڈ پر پچاس سے زیادہ نوجوان لڑکوں نے حقہ اور شراب کی محفل سجا رکھی تھی۔
    مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ سلسلہ کافی وقت سے جاری تھا لیکن ان عیاش لڑکوں کے خوف سے کسی نے ان کی شکایت کرنے کی ہمت نہیں کی تھی۔ وہیں جب حقہ اور شراب پارٹی کیے جانے کی جانکاری مقامی تنظیم کے سماجی کارکنان کو ہوئی تو ان افراد نے نوچندی تھانہ پولیس اور ایس پی کرائم کو مطلع کیا اور پھر پولیس نے شاستری نگر کے نئی سڑک پر موجود لیول اپ ریسٹورنٹ پر چھاپا مار کر 54 نوجوان لڑکوں کو حراست میں لے لیا۔

    پولیس نے جس وقت ریسٹورنٹ پر چھاپا مارا اس وقت حقہ اور شراب پارٹی اپنی عروج پر تھی اور پارٹی میں موجود نوجوان لڑکے نشے میں مدہوش تھے ، پولیس نے موقع پر سے شراب کی بوتلیں اور دوسری قابل اعتراض اشیاء برآمد کی ، کچھ لڑکوں کے پاس سے طمنچہ بھی برآمد ہوئے ، موقع سے پولیس نے ریسٹورنٹ کے مالک ویکٹر رگھو کے ساتھ 54 دیگر لڑکوں کو حراست میں لیا۔

    پولیس نے ان میں 46 لڑکوں کے خلاف لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی کا معاملہ درج کیا اور باقی آٹھ لڑکوں کے خلاف نشہ خوری اور غیر قانونی ہتھیار رکھنے کا معاملہ درج کرکے جیل بھیج دیا ہے ، حراست میں لیے گئے لڑکوں کے موبائل سے لڑکیوں کی قابل اعتراض تصاویر بھی برآمد ہوئی ہے ، سماجی تنظیموں کے ذمہ داران کا کہنا ہے کہ شہر میں اس طرح کے دوسرے ریسٹورنٹ کی بھی جانچ کی جانی چاہیے۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: