ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

نفرتوں کا بازار گرم کرنے کا ذریعہ ثابت ہو رہا ہے سوشل میڈیا

موجودہ دور میں سوشل میڈیا لوگوں تک تیز اور آسان طریقہ سے جانکاری پہنچانے کا ایک اہم ذریعہ ثابت ہو رہا ہے۔ وہیں اس پلیٹ فارم کے ذریعہ پھیل رہی غلط جانکاریاں اور افواہیں سماج میں انتشار تشدد اور فرقہ پرستی کا ماحول بنانے میں بھی مددگار ثابت ہو رہی ہیں۔

  • Share this:
نفرتوں کا بازار گرم کرنے کا ذریعہ ثابت ہو رہا ہے سوشل میڈیا
موجودہ دور میں سوشل میڈیا لوگوں تک تیز اور آسان طریقہ سے جانکاری پہنچانے کا ایک اہم ذریعہ ثابت ہو رہا ہے۔ وہیں اس پلیٹ فارم کے ذریعہ پھیل رہی غلط جانکاریاں اور افواہیں سماج میں انتشار تشدد اور فرقہ پرستی کا ماحول بنانے میں بھی مددگار ثابت ہو رہی ہیں۔

موجودہ دور میں سوشل میڈیا لوگوں تک تیز اور آسان طریقہ سے جانکاری پہنچانے کا ایک اہم ذریعہ ثابت ہو رہا ہے۔ وہیں اس پلیٹ فارم کے ذریعہ پھیل رہی  غلط جانکاریاں اور افواہیں سماج میں انتشار تشدد اور فرقہ پرستی کا ماحول بنانے میں بھی مددگار ثابت ہو رہی ہیں۔ گزشتہ دنوں وزیر اعظم کا کہنا کہ وہ سوشل میڈیا کو چھوڑنے کا ارادہ کر رہے ہیں کئی معنوں میں کافی اہم ہے اور سماج کا دانشور طبقہ بھی نئی نسل پر سوشل میڈیا کے مضر اثرات کو لیکر کافی بے چین اور فکرمند نظر آتا ہے۔

انفارمیشن ٹیکنالوجی کے اس دور میں انٹرنیٹ اور موبائل کے ذریعہ جانکاریوں کا لوگوں تک پہنچنا کافی آسان اور سستا ہو گیا ہے۔ سائنس ٹیکنالوجی ادب اور تفریح کے تمام سادھنوں کے علاوہ خبروں اور مختلف جانکاریوں کو لوگوں تک پہنچانے کے لئے دیگر تمام سوشل میڈیا پلیٹ فارم موجود ہیں۔ ان پلیٹ فارم کے ذریعہ جہاں اہم جانکاریوں کا ذخیرہ لوگوں کو دستیاب ہے۔ وہیں ایسی جانکاریاں بھی موجود ہیں جو فرقہ پرستی جھوٹی  افواہ اور پروپیگنڈا کو پھیلانے کا ذریعہ ثابت ہو رہی ہیں . جانکاروں کے مطابق سوشل میڈیا کے مضر اثرات کا دائرہ اب سماج کے بڑے طبقے تک نظر آ رہا ہے خاص طور پر نوجوانوں کے ذہنوں میں غلط فہمی اور دلوں میں نفرت پیدا کر رہا ہے۔ جس کا تازہ اثر دہلی فسادات میں بھی نظر آیا۔ جانکار مانتے ہیں کہ ایسے ماحول میں سوشل میڈیا کے استعمال میں احتیاط برتنا اور نگرانی کرنا بےحد ضروری ہے۔

سماج کا دانشور طبقہ سمجھتا ہے کہ سوشل میڈیا پر ایک حد تک لگام لگائی جا سکتی ہے لیکن ضروری یہ ہے کہ سماج میں اچھے اور برے کی سمجھ پیدا کی جائے ساتھ ہی لوگوں کو خاص طور پر نوجوان نسل کو اس کے تئیں بیدار کیا جائے کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر آ رہی کسی بھی جانکاری پر یقین کرنے سے پہلے اس کی حقیقت کی تصدیق کر لی جائے۔ جانکاروں کے مطابق بچوں کی  نگرانی بھی بےحد ضروری ہے اور یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ ان کو کیا دیکھنا اور کیا نہیں دیکھنا ہے اور خبر کی تصدیق کیسے کرنی ہے۔

First published: Mar 05, 2020 09:33 PM IST