ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

کہاں جا رہا ہے غریبوں کے حصے کا راشن، کیوں تین مہینے سے غریبوں کو ہے سرکاری راشن کا انتظار؟

میرٹھ میں ان دنوں ایسی کئی راشن ایجینسیوں کی شکایتیں سامنے آئی ہیں جہاں بی پی ایل کارڈ والوں کو بھی فروری ماہ سے اب تک اپنے حصے کا راشن ملنے کا انتظار ہے ۔

  • Share this:
کہاں جا رہا ہے غریبوں کے حصے کا راشن، کیوں تین مہینے سے غریبوں کو ہے سرکاری راشن کا انتظار؟
کہاں جا رہا ہے غریبوں کے حصے کا راشن، کیوں تین مہینے سے غریبوں کو ہے سرکاری راشن کا انتظار

میرٹھ ۔ ہمارے ملک میں آج بھی آبادی کا ایک حصہ سرکاری راشن کے ذریعہ اپنا گزارا کرتا ہے۔ سرکاری سبسڈی کے ذریعہ بہت ہی کم قیمت پر غریب اور پسماندہ خاندانوں کو فی ممبر پانچ کیلو اناج راشن ایجنسی کے ذریعہ ہر ماہ تقسیم کیا جاتا ہے ۔ راشن کی تقسیم میں بدعنوانی کو لیکر یوں تو پہلے بھی راشن ایجنسیوں پر سوال اٹھتے رہے ہیں لیکن لاک ڈاؤن کے دوران سخت سرکاری احکامات اور ہدایات کے باوجود راشن ایجنسیوں کی لاپرواہی اور غریب عوام کی مشکلات کم ہونے کا نام نہیں لے رہی ہیں۔میرٹھ میں ان دنوں ایسی کئی  راشن ایجینسیوں کی شکایتیں سامنے آئی ہیں جہاں بی پی ایل کارڈ والوں کو بھی فروری ماہ سے اب تک اپنے حصے کا راشن ملنے کا انتظار ہے ۔ موقع پر پہنچ کر جب حالات کا جائزہ لیا گیا تو حقیقت اجاگر ہو گئی۔


میرٹھ کے شاستری نگر کی یہ ایک واحد ایجنسی کا معاملہ نہیں ہے بلکہ شہر میں ایسے درجنوں راشن ایجنسیاں موجود ہیں جو غریبوں کو لاک ڈاؤن اور بے روزگاری کے ان حالات میں بھی پریشان کر رہی ہیں۔ ایجنسی مالکان کوٹے کا راشن ملنے کے باوجود اسے غریبوں میں تقسیم کرنے میں آنا کانی کر رہے ہیں اور بدعنوانی کے کھیل میں ملوث ہیں۔ راشن کے لیے ایجینسی کا چکر لگانے والوں کو راشن کی جگہ ایک پرچی تھما دی جاتی ہے جس پر اگلے کسی دن یہ مہینے کی تاریخ لکھی ہوتی ہے۔ اس تاریخ میں جب وہ غریب اپنے حصے کا راشن لینے ایجینسی پر پہنچتا ہے تو اسے راشن ختم ہو جانے کا بہانہ بنا کر اگلی کوئی تاریخ کی پرچي تھما دی جاتی ہے۔ زیادہ ہنگامہ ہونے پر راشن تقسیم تو کیا جاتا ہے لیکن حصے کا مکمّل راشن نہیں دیا جاتا۔ ایسے میں غریب ان راشن ایجينسیوں کا چکّر لگا لگا کر تھک جاتا ہے اور مایوس ہوکر گھر لوٹ آتا ہے۔


وہیں ضلع سپلائی افسر کا کہنا ہے کہ اس طرح کے معاملوں میں پہلے بھی کئی کوٹے داروں پر کارروائی کی گئی ہے اور راشن تقسیم کا ایک سسٹم بنایا گیا ہے۔ ایسے میں اگر کسی ایجنسي مالک کی شکایت ملتی ہے تو اس کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

First published: Jun 30, 2020 07:42 AM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading