உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    زرعی قوانین کے مخالف اور حمایتی کسان کیوں کھڑے ہو رہے ہیں ایک دوسرے کے خلاف!

    زرعی قوانین کے خلاف جاری کسانوں کے احتجاج کو جہاں سماجی اور ملّی تنظیمیں کی حمایت حاصل ہو رہی ہے۔ وہیں قوانین اور حکومت کی حمایت میں بھی کسانوں کا ایک دل کھڑا ہو رہا ہے۔

    زرعی قوانین کے خلاف جاری کسانوں کے احتجاج کو جہاں سماجی اور ملّی تنظیمیں کی حمایت حاصل ہو رہی ہے۔ وہیں قوانین اور حکومت کی حمایت میں بھی کسانوں کا ایک دل کھڑا ہو رہا ہے۔

    زرعی قوانین کے خلاف جاری کسانوں کے احتجاج کو جہاں سماجی اور ملّی تنظیمیں کی حمایت حاصل ہو رہی ہے۔ وہیں قوانین اور حکومت کی حمایت میں بھی کسانوں کا ایک دل کھڑا ہو رہا ہے۔

    • Share this:
    زرعی قوانین کے خلاف جاری کسانوں کے احتجاج کو جہاں سماجی اور ملّی تنظیمیں کی حمایت حاصل ہو رہی ہے۔ وہیں قوانین اور حکومت کی حمایت میں بھی کسانوں کا ایک دل کھڑا ہو رہا ہے۔ زرعی قوانین کے خلاف دلّی بارڈر پر احتجاجی دھرنے پر بیٹھے کسانوں کی حمایت میں تحریک میں شامل سماجی خدمت گار کسان آندولن کے خلاف کھڑے ہو رہے لوگوں کو حکومت کا سیاسی کھیل بتاتے ہوئے آندولن کو ختم کرنے کا حربہ قرار دے رہے ہیں۔

    سردی کے اس سخت موسم میں بھی زرعی قوانین کے خلاف دلّی کی سرحدوں پر ڈٹے کسانوں کی حمایت میں میگاسیسے ایوارڈ یافتہ سماجی خدمتگار راجندر سنگھ راجستھان ہریانہ اُترا کھنڈ اور اُتر پردیش میں یاترا کا انعقاد کرکے کسانوں کے حق میں عوام کو بیدار کر رہے ہیں کسان یاترا کے اس سفر میں میرٹھ پہنچے راجندر سنگھ نے میڈیا اور لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے زرعی قوانین کے نقصانات کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا اور دھرنے پر بیٹھے کسانوں کی مخالفت کرنے والوں کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔

    وہیں زرعی قوانین کی حمایت میں دلّی کوچ کرنے والے کسان حکومت کے وعدے پر یقین ظاہر کرتے ہوئے حکومت کے فیصلے کی تائید کر رہے ہیں اور حکومت کے خلاف کسان آندولن کو غیر ضروری قرار دے رہے ہیں زرعی قوانین ضرورت اور اہمیت کو لیکر کسانوں کی مختلف رائے ہو سکتی ہے لیکن حکومت کے خلاف اور حمایت میں کسان برادری کے ایک دوسرے کے خلاف کھڑی ہو رہی ہے اس سے آپسی ٹکراؤ کا خطرہ بھی پیدا ہو گیا ہے
    Published by:sana Naeem
    First published: