உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ٹیپو سلطان کی خدمات اور قربانیوں کو فراموش کر دیا جانا افسوسناک: شکیل صمدانی

    علی گڑھ ۔ سرسید اویرنس فورم کے زیر اہتمام ٹیپو سلطانؒ کے یوم شہادت پر ایک میٹنگ کا انعقاد کیا گیا جس میں مختلف ملی و سماجی تنظیموں کے عہدے داران وممبران نے شرکت کی۔

    علی گڑھ ۔ سرسید اویرنس فورم کے زیر اہتمام ٹیپو سلطانؒ کے یوم شہادت پر ایک میٹنگ کا انعقاد کیا گیا جس میں مختلف ملی و سماجی تنظیموں کے عہدے داران وممبران نے شرکت کی۔

    علی گڑھ ۔ سرسید اویرنس فورم کے زیر اہتمام ٹیپو سلطانؒ کے یوم شہادت پر ایک میٹنگ کا انعقاد کیا گیا جس میں مختلف ملی و سماجی تنظیموں کے عہدے داران وممبران نے شرکت کی۔

    • Pradesh18
    • Last Updated :
    • Share this:

      علی گڑھ ۔ سرسید اویرنس فورم کے زیر اہتمام ٹیپو سلطانؒ کے یوم شہادت پر ایک میٹنگ کا انعقاد کیا گیا جس میں مختلف ملی و سماجی تنظیموں کے عہدے داران وممبران نے شرکت کی۔ مہمان خصوصی ڈاکٹر جاوید اختر سابق ایڈوائزر اے سی این  گروپ آف اسٹی ٹیوشنزنے کہا کہ اگر ٹیپو سلطان شہید کو دیکھا جائے تو ہمیں ملک کی تاریخ میں کوئی بھی ایسا بادشاہ یا سلطان نہیں ملتا ہے، جس نے اس طرح کی قربانی دی ہو اور وہ بھی صرف اور صرف ملک عزیز ہندوستان کے لئے، انھوں نے کہا کہ شیر میسور ٹیپو سلطان کے نام پر کم از کم ایک رجمنٹ بنائی جائے جس کا نام ٹیپو رجمنٹ رکھا جائے، تاکہ ہمارے فوجی جوان ٹیپو سلطان شہید کے جذبۂ حب الوطنی اور بہادری سے متاثر ہوکر کام کریں اور ملک کے لئے جان دینے سے گریز نہ کریں۔


                  یوپی رابطہ کمیٹی کے سکریٹری ڈاکٹر عبید اقبال عاصم نے اپنے خطاب میں کہا کہ ٹیپو سلطان ’مذہب و وطن‘ کی محبت کی وہ علامت ہے جو نہ تو کارگاہ رزم میں پیچھے کی طرف دیکھتی ہے اورنہ ہی وطنی مفادات کو قربانی کی بھینٹ چڑھاتی ہے، ضرورت اس بات کی ہے کہ عوام ٹیپو سلطان کے حیات کا مطالعہ کر کے اپنے اندر وہ اوصاف پیدا کریں جو شیر میسور میں تھیں۔ انھوں نے سرسید اویرنس فورم کے صدر پروفیسر شکیل صمدانی اور ان کی ٹیم کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ان حضرات کی وجہ سے ہر سال ہم لوگ ٹیپو سلطان کو یاد کرنے کے لئے یکجا ہوجاتے ہیں۔


                  میٹنگ کی صدارت کرتے ہوئے مسلم یونیورسٹی کے معروف استاد اور فورم کے صدر پروفیسر شکیل صمدانی نے کہا کہ جو قومیں تاریخ کو فراموش کردیتی ہیں اور تاریخ سے سبق نہیں حاصل کرتیں تاریخ بھی انھیں فراموش کردیتی ہے اور تاریخ سے ان کا نام و نشان مٹ جاتا ہے اسی لئے عیار، مکار اور ظام قوموں نے تاریخ کو مسخ کرنے کی کوشش کی ہے اور تاریخ کو اپنے نقطہ نظر سے لکھنے کی کوشش کی ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ یہ انتہائی افسوس کی بات ہے کہ ٹیپو سلطان کو اس طرح ملک میں یاد نہیں کیاجاتا جو ان کا حق ہے۔ جس شخص نے اپنی حکومت، اقتدار، خاندان، جاہ وجلال حتی کہ اپنی جان بھی ملک کو انگریزوں کے خونی پنجے سے بچانے کے لئے قربان کردی، اس کے لئے پورے ملک میں نہ تو کوئی جشن منایا جاتا ہے اور نہ ہی کوئی خراج عقیدت پیش کیا جاتا ہے اور مقام افسوس یہ ہے کہ یہ کام انگریزوں کی اس سازش تحت کیا جاتا ہے کہ جو انھوں نے شہید ٹیپو کو بدنام کرنے کے لئے کی اور اس طرح کی تاریخ مرتب کی اور مرتب کروائی جس سے ٹیپو سلطان کی شخصیت کو مسخ کیا جاسکے۔


                  پروفیسر صمدانی نے اپنے پرمغز خطاب میں حکومت کرناٹک کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ گذشتہ سال ان کے یوم پیدائش پر سرکاری طور پر ٹیپو تقریبات کا انعقاد کیا، جس کے لئے حکومت کرناٹک اور وزیر اعلیٰ مبارک باد کے مستحق ہیں۔


                  اخیر میں ایک قرار دار منظور کی گئی اور حکومت ہند اور صوبائی حکومتوں سے مطالبہ کیا گیا کہ قومی سطح پر ٹیپو سلطان کے نام سے بہادری ایوارڈ شروع کیا جائے، ٹیپو سلطان کے نام پر فوج میں ٹیپو ریجیمنٹ بنائی جائے،ٹیپو سلطان کے نام پر مرکزی اور صوبائی سطح پر میوزیم بنایا جائے، اور ان کے نام پر ٹیپو بھون کی تعمیر کرائی جائے، یونیورسٹیوں اور کالجوں میں شیر میسور کے نام پر شعبہ کھولے جائیں اور ان کے نام پر ’چیئر ‘قائم کی جائے۔ پروگرام کا اختتام دعاء پر ہوا۔

      First published: