உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    جموں وکشمیرمیں اسمبلی انتخابات نہ کرانے کے فیصلے پرعمرعبداللہ کے بعد محبوبہ مفتی نے ظاہر کی ناراضگی

    محبوبہ مفتی: فائل فوٹو

    محبوبہ مفتی: فائل فوٹو

    پی ڈی پی سربراہ اورجموں وکشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی کا کہنا ہے کہ لوگوں کو عوامی منتخب حکومت چننے سے روکنا جمہوریت کے شایان شان نہیں ہے۔

    • Share this:
      سری نگر:جموں وکشمیر کے سابق وزرائے اعلیٰ عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی نے الیکشن کمیشن آف انڈیا کے ریاست میں لوک سبھا کے ساتھ ریاستی اسمبلی کے انتخابات نہ کرانے کے فیصلے پر ناراضگی ظاہر کی ہے۔ محبوبہ مفتی کا کہنا ہے کہ لوگوں کو عوامی منتخب حکومت چننے سے روکنا جمہوریت کے شایان شان نہیں ہے۔

      پی ڈی پی صدرمحبوبہ مفتی نے اپنے ایک ٹویٹ میں کہا 'جموں وکشمیرمیں صرف پارلیمانی انتخابات کرانے کے فیصلے سے حکومت ہندوستان کے مذموم عزائم کی تصدیق ہوئی ہے۔ لوگوں کوعوامی منتخب حکومت چننے سے روکنا جمہوریت کے شایان شان نہیں ہے۔ یہ ایک ایسا حربہ نظرآتا ہے جس کا مقصد لوگوں کو الگ کرکے اپنا مذموم ایجنڈا پایہ تکمیل تک پہنچانا ہے'۔
      واضح رہے کہ چیف الیکشن کمشنرسنیل اروڑہ کی قیادت میں الیکشن کمیشن کی اعلیٰ سطحی ٹیم 4 اور 5 مارچ کو جموں وکشمیرمیں خیمہ زن رہی۔ اس دوران ریاست کی انتخابی سیاست میں سرگرم تمام سیاسی جماعتوں بشمول نیشنل کانفرنس، کانگریس، پی ڈی پی اور بی جے پی کے نمائندوں نے اس اعلیٰ سطحی ٹیم سے ملاقی ہوکرریاست میں لوک سبھا اوراسمبلی انتخابات بہ یک وقت منعقد کرانے کا مطالبہ رکھا تھا۔
      چیف الیکشن کمشنر سنیل اروڑہ نے 5 جنوری کو جموں میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ جموں وکشمیرکی تقریباً تمام سیاسی جماعتیں لوک سبھا اور ریاستی اسمبلی کے انتخابات کے فوری اورایک ساتھ انعقاد کے حق میں ہیں۔ انہوں نے کہا تھا کہ دو دنوں تک ریاست میں خیمہ زن رہنے والی الیکشن کمیشن کی اعلیٰ سطحی ٹیم تمام متعلقین بشمول سیاسی جماعتوں، سول وپولیس انتظامیہ کے مطالبات وخیالات پروسیع غوروخوض کرکے قومی راجدھانی نئی دہلی میں ایک پریس کانفرنس بلاکر کوئی حتمی اعلان کرے گی۔



      قابل ذکر ہے کہ ریاست کی دو بڑی مقامی سیاسی جماعتوں نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی نے گذشتہ سال ہوئے بلدیاتی اور پنچایتی انتخابات کا بائیکاٹ کیا تھا۔ سال گذشتہ کے ماہ جون میں پی ڈی پی اور بی جے پی کی مخلوط حکومت پاش پاش ہونے کے بعد ریاست میں گورنر راج نافذ ہوا تھا جو چھ ماہ کے بعد ختم ہوا اور فی الاوقت ریاست میں صدر راج نافذ ہے۔
      First published: