உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ہریانہ میں کشمیری طلباء پر کئے گئے حملے سے افسردہ ہیں محبوبہ اور عمر

    واضح رہے کہ عمرعبداللہ کوہری نواس گیسٹ ہاؤس نظررکھاگیاہے وہیں محبوبہ مفتی کوچشمہ شاہی کی ایک سرکاری عمارت میں مقید رکھا گیا ہے۔تینوں سابق وزرائے اعلیٰ، ان ہزاروں افراد میں شامل ہیں، جنہیں حکام نے 5 اگست سے قبل یا اسکے فوراً بعد حراست میں لیا ہے۔ حکام کہتے ہیں کہ ریاست کا خصوصی درجہ ختم کیے جانے کے مرکزی فیصلے کے خلاف عوامی مظاہرے ناممکن بنانے کے لیے ان رہنماوں کوحراست میں رکھا گیا ہے۔

    واضح رہے کہ عمرعبداللہ کوہری نواس گیسٹ ہاؤس نظررکھاگیاہے وہیں محبوبہ مفتی کوچشمہ شاہی کی ایک سرکاری عمارت میں مقید رکھا گیا ہے۔تینوں سابق وزرائے اعلیٰ، ان ہزاروں افراد میں شامل ہیں، جنہیں حکام نے 5 اگست سے قبل یا اسکے فوراً بعد حراست میں لیا ہے۔ حکام کہتے ہیں کہ ریاست کا خصوصی درجہ ختم کیے جانے کے مرکزی فیصلے کے خلاف عوامی مظاہرے ناممکن بنانے کے لیے ان رہنماوں کوحراست میں رکھا گیا ہے۔

    سرینگر۔ ہریانہ کے مہیندرگڑھ میں کشمیری طلباء پر ہوئے حملے پر جموں و کشمیر کی وزیر اعلی محبوبہ مفتی اور نیشنل کانفرنس (این سی) کے ایگزیکٹو چیئرمین عمر عبداللہ نے گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔

    • UNI
    • Last Updated :
    • Share this:

      سرینگر۔ ہریانہ کے مہیندرگڑھ میں کشمیری طلباء پر ہوئے حملے پر جموں و کشمیر کی وزیر اعلی محبوبہ مفتی اور نیشنل کانفرنس (این سی) کے ایگزیکٹو چیئرمین عمر عبداللہ نے گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔ جموں  و کشمیر پولیس کے ایک ترجمان نے کہا ’’پولیس نے ہریانہ کے مہندرگڑھ میں کل کچھ کشمیری طلباء پر کئے گئے حملے کو سنجیدگی سے لیا ہے اور ہمارے افسران طلباء کے ساتھ رابطہ بنائے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس بابت مہندرگڑھ میں ایف آئی آر درج کرائی گئی ہے۔

      طلبا نے وزیر اعظم نریندر مودی، محترمہ محبوبہ مفتی، مسٹر عبداللہ اور جموں و کشمیر پولیس کو کل ٹویٹ پر بتایا ’’محترم ہم لوگ ہریانہ کی سینٹرل یونیورسٹی کے طالب علم ہیں۔ ہم لوگ آج جمعہ کی نماز ادا کرنے کے لئے یونیورسٹی کے احاطے سے باہر گئے تھے۔ اسی دوران کچھ لوگوں نے ہماری پٹائی کر دی‘‘۔

      محترمہ محبوبہ نے ٹوئٹر پر لکھا ’’ہریانہ کے مهیندرگڑھ میں کشمیری طالب علموں پر حملے کی خبر سن کر دکھی اور پریشان ہوں۔ میں انتظامیہ سے اس معاملے کی تحقیقات اور سخت کارروائی کرنے کی اپیل کرتی ہوں‘‘۔

      مسٹر عبداللہ نے ٹوئٹر پر لکھا ’’یہ خوفناک اور وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے لال قلعہ سے کی گئی تقریر کے جذبہ کے خلاف ہے۔ مجھے امید ہے کہ ہریانہ کے افسران اس تشدد کے خلاف فوری کارروائی کریں گے‘‘۔


      First published: