ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

کشمیر: آرٹیکل 370 ختم کرنے کے فیصلے پر محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کا سخت ردعمل

جموں وکشمیر کی سابق وزیراعلی اور پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر محبوبہ مفتی اور نیشنل کانفرنس کے صدر عمر عبداللہ نے کشمیر معاملہ پر حکومت کے قدم کی سخت تنقید کی ہے۔

  • UNI
  • Last Updated: Aug 05, 2019 04:55 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
کشمیر: آرٹیکل 370 ختم کرنے کے فیصلے پر محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کا سخت ردعمل
واضح رہے کہ عمرعبداللہ کوہری نواس گیسٹ ہاؤس نظررکھاگیاہے وہیں محبوبہ مفتی کوچشمہ شاہی کی ایک سرکاری عمارت میں مقید رکھا گیا ہے۔تینوں سابق وزرائے اعلیٰ، ان ہزاروں افراد میں شامل ہیں، جنہیں حکام نے 5 اگست سے قبل یا اسکے فوراً بعد حراست میں لیا ہے۔ حکام کہتے ہیں کہ ریاست کا خصوصی درجہ ختم کیے جانے کے مرکزی فیصلے کے خلاف عوامی مظاہرے ناممکن بنانے کے لیے ان رہنماوں کوحراست میں رکھا گیا ہے۔

جموں وکشمیر کی سابق وزیراعلی اور پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر محبوبہ مفتی اور نیشنل کانفرنس کے صدر عمر عبداللہ نے کشمیر معاملہ پر حکومت کے قدم کی سخت تنقید کی ہے۔ محبوبہ مفتی نے ٹوئٹ کرکے کہا کہ آج ہندستانی جمہوریت کا سب سے سیاہ دن ہے۔ جموں وکشمیر کی قیادت نے 1947میں دو ممالک کے تصور کو خارج کردیا تھا۔ ہندستان کے ساتھ جڑے رہنے کا فیصلہ اب اس پر بھاری پڑ رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہندستانی حکومت کا دفعہ370کو ختم کرنے کا یکطرفہ فیصلہ غیرقانونی اور غیرآئینی ہے۔ اس کے جزیرہ نما میں تباہ کن نتائج ہوں گے۔ حکومت کے ارادے صاف ہیں۔ وہ جموں وکشمیر کے لوگوں کو ڈرا دھمکا کر اس پر قبضہ کرنا چاہتی ہے۔ اس نے کشمیریوں کے ساتھ کئے وعدے پورے نہیں کئے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کے ارادے صاف اور پرفریب ہیں۔ وہ ملک کی واحد مسلم اکثریتی ریاست کی آبادی میں تبدیلی چاہتی ہے۔ وہ مسلمانوں کو اتنا کمزور بنانا چاہتی ہے کہ وہ اپنی ہی ریاست میں دوسرے درجہ کے شہری بن کر رہ جائیں۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا اور سول سوسائٹی کے ایک طبقہ میں حکومت کے اقدامات پر جشن منایا جارہا ہے جو کہ مایوس کن اور پریشان کرنے والا ہے۔

محبوبہ مفتی نے سوالیہ لہجہ میں کہا کہ جموں وکشمیر کو ہندستان سے جڑ کر کیا ملا۔ مذہب کی بنیاد پر ایک اور تقسیم۔ ہمارا خصوصی درجہ بھیک میں نہیں ملا ہے۔ یہ پارلیمنٹ کی طرف سے دیا گیا حق ہے۔ جموں وکشمیر قیادت اور مرکزی حکومت نے ایک سمجھوتہ کیا تھا جس کی آج خلاف ورزی کی گئی۔


وہیں، عمر عبداللہ نے کہا کہ حکومت کا آج کا یکطرفہ اور حیرت انگیز فیصلہ جموں وکشمیر کے لوگوں کے ساتھ اعتماد شکنی ہے جنہوں نے 1947میں ہندستان پر اعتماد کا اظہار کیا تھا۔ اس فیصلے کے دوررس اور خطرناک انجام ہوں گے۔ یہ ریاست کے لوگوں کے خلاف اٹھایا گیا قدم ہے جس کے بارے میں کل سری نگر میں ہوئی کل جماعتی میٹنگ میں آگاہ کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا سب سے بڑا اندیشہ بدقسمتی سے سچ ثابت ہوگیا۔ حکومت اور جموں وکشمیر میں اس کے نمائندہ نے ہم سے جھوٹ بولا کہ کوئی بڑا منصوبہ نہیں ہے۔ یہ اعلان اس وقت کیا گیا جب پوری ریاست خاص طورپر وادی کشمیر کو قلعہ میں تبدیل کردیا گیا۔ ریاست میں لاکھوں کی تعداد میں سلامتی دستوں کو اتار کر جموں وکشمیر کے لوگوں کو جمہوری آواز دینے والے ہمارے جیسے لوگوں کو قید کردیا گیا۔
سابق وزیراعلی نے کہا کہ یہ فیصلہ یکطرفہ، غیرقانونی اور غیرآئینی ہے اور نیشنل کانفرنس اسے چیلنج کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ ایک لمبی اور مشکل لڑائی ہونے والی ہے۔ ہم اس کے لئے تیار ہیں۔
خیال رہے کہ حکومت نے جموں وکشمیر کو دو حصوں میں تقسیم کرنے والا بل جموں و کشمیر تشکیل نو بل 2019 راجیہ سبھا میں پیش کیا۔ اس سے لداخ کو الگ کرکے مرکز کے زیرانتظام علاقہ بنانے کی تجویز دی گئی ہے۔
First published: Aug 05, 2019 04:36 PM IST