ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

امت شاہ کے الزام پرمحبوبہ مفتی کا جوابی حملہ، اپنے وزرا کے کاموں کا جائزہ لینے کی نصیحت

محبوبہ مفتی نے ٹوئٹ کرکے کہا کہ ہمارے سابق معاون ہم پر مسلسل جھوٹے الزامات لگارہے ہیں۔ اتحاد کو لے کرہماری وفاداری جس میں رام مادھو اورسینئر لیڈرراجناتھ سنگھ کا اتفاق تھا، کبھی کم نہیں ہوئی۔ یہ مایوس کن ہے کہ وہ اب اپنی ہی پہل سے منحرف ہورہے ہیں اوراسے نرم رویہ کا نام دے رہے ہیں۔

  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
امت شاہ کے الزام پرمحبوبہ مفتی کا جوابی حملہ، اپنے وزرا کے کاموں کا جائزہ لینے کی نصیحت
امت شاہ۔ محبوبہ مفتی: فائل فوٹو۔

سری نگر: جموں وکشمیر میں پی ڈی پی اوربی جے پی اتحاد کی حکومت گرنے کے بعد دونوں ہی پارٹی کے لیڈروں کے درمیان الزام اور جوابی الزام کا دور شروع ہوگیا ہے۔ بی جے پی کے لیڈران الزام لگارہے ہیں کہ کشمیر میں دہشت گردوں کے خلاف لڑائی میں پی ڈی پی نرم رویہ اپنا رہی ہے۔


بی جے پی کے قومی صدر امت شاہ نے ایک دن پہلے الزام لگایا کہ جموں علاقے میں ترقی کے لئے جاری کئے فنڈس کا استعمال ہی نہیں کیا گیا۔ اس کے جواب میں سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے کہا ہے کہ یہ مایوس کن ہے کہ بی جے پی اپنے ہی فیصلے سے منہ موڑتے ہوئے اسے نرم رویہ کانام دے رہی ہے۔


محبوبہ مفتی نے ٹوئٹ کیا "ہمارے سابق معاون ہم پر مسلسل جھوٹے الزامات لگارہے ہیں۔ اتحاد کو لے کر ہماری وفاداری جس میں رام مادھو اورسینئرلیڈرراجناتھ سنگھ کا اتفاق تھا، کبھی کم نہیں ہوئی۔ یہ مایوس کن ہے کہ وہ اب اپنی ہی پہل سے منحرف ہورہے ہیں اوراسے نرم رویہ کا نام دے رہے ہیں"۔


بی جے پی کے قومی صدر امت شاہ نے ہفتہ کو الزام لگایا تھا کہ محبوبہ مفتی حکومت میں ہندو اکثریتی جموں علاقہ ترقی میں پیچھے چھوٹ گیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ جموں کے ساتھ بھید بھاو کی وجہ سے ہی ان کی پارٹی نے پی ڈی پی کے ساتھ چارسال پرانا اتحاد توڑنے کا فیصلہ کیا۔

شاہ نے کہا کہ حکومت کبھی بھی بیلنس نہیں رہی۔ ایسے میں ہم نے طے کیا کہ ایسی حکومت میں رہنے سے بہتر اپوزیشن میں بیٹھنا ہوگا۔ ہم ایک ایسی حکومت کوکیسے چلنے دے سکتے ہیں، جوکہ جموں اورلداخ کی ترقی نہیں ہونے دے رہی ہے۔

مفتی نے شاہ کے دعووں کو خارج کرتے ہوئے ایک کے بعد ایک کئی ٹوئٹ کئے۔ انہوں نے کہا "جموں اور لداخ کے ساتھ بھید بھاو کے دعووں میں کوئی سچائی نہیں ہے۔ یہ سچ ہے کہ وادی میں طویل وقت سے تناو ہے اور 2014 میں آیا سیلاب ایک بڑا جھٹکا تھا، ایسے میں وادی میںزیادہ توجہ دینے کی ضرورت تھی، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ کہیں اور ترقی نہیں ہوئی"۔

انہوں نے بی جے پی کو مشورہ دیا کہ اسے اپنے وزرا کے کام کا جائزہ لینا چاہئے۔ مفتی نے لکھا "زمین پر کیا ہوا، نتائج سب کے سامنے ہیں۔ انہیں اپنے وزرا کے کام کا جائزہ لینا چاہئے، جن میں سے زیادہ ترجموں علاقے سے ہیں۔ ان میں سے کسی نے بھی گزشتہ تین سالوں میں نہ ریاستی سطح پر اور نہ ہی مرکزی حکومت  کی سطح پر اس متعلق بات کی۔

بی جے پی نے گزشتہ ہفتہ خود کو اتحاد سے الگ کرکے سبھی کو حیران کردیا تھا۔ تجزیہ نگاروں کا ماننا ہے کہ بی جے پی نے یہ فیصلہ اس لئے کیا کیونکہ ان کا روایتی ووٹ بینک رمضان سیز فائر کے فیصلے سے ناراض ہوگیا تھا۔

اس سے قبل سینئر صحافی شجاعت بخاری کے قتل کا ذکر کرتے ہوئے بی جے پی کے جموں وکشمیر انچارج رام مادھو نے کہا کہ "نرم رویے کے سبب ہی پولیس اور صحافی مارے جارہے ہیں"۔
First published: Jun 24, 2018 08:27 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading