ہوم » نیوز » امراوتی

گاندھی کے ہندوستان کوضیاءالحق کا پاکستان نہیں بننے دیا جائے گا: محبوبہ مفتی

سابق وزیراعلیٰ نے کہا کہ طلاق ثلاثہ بل کی منظوری مسلمانوں کی خاندانی ساخت پرحملہ ہے اوراس سے مسلم خواتین مزید اقتصادی بد حالی کا شکار ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ اپنے شوہرسے علاحدگی کے بعد بچوں کی پرورش وپرداخت ایک عورت کے سامنے سب سے بڑا مسئلہ بن جاتا ہے۔

  • UNI
  • Last Updated: Dec 31, 2018 04:47 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
گاندھی کے ہندوستان کوضیاءالحق کا پاکستان نہیں بننے دیا جائے گا: محبوبہ مفتی
سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے طلاق ثلاثہ بل پرپریس کانفرنس کی۔

سری نگر: بی جے پی کی قیادت والی مرکزی سرکارپرملک کومذہبی بنیادوں پرمنقسم کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے پی ڈی پی کی صدراورسابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نےکہا ہے کہ لوک سبھا میں منظورطلاق ثلاثہ بل مسلمانوں پربڑے گوشت اورچمڑے کے کارخانوں پر پابندی عائد ہونے کے بعد دوسرا اقتصادی حملہ ہے۔

سری نگرمیں واقع اپنی رہائش گاہ پرایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے محبوبہ مفتی نے کہا کہ طلاق ثلاثہ بل کی منظوری مسلمانوں کی خاندانی ساخت پرحملہ ہے اوراس سے مسلم خواتین مزید اقتصادی بد حالی کا شکارہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ اپنے شوہرسے علاحدگی کے بعد بچوں کی پرورش وپرداخت ایک عورت کے سامنے سب سے بڑا مسئلہ بن جاتا ہے۔

محبوبہ مفتی نے کہا 'ایک خاتون ہونے کے ناطے اوربذات خود طلاق کا شکارہونے کے واسطے میں نے اس موضوع پر بات کرنا ضروری سمجھا'۔ انہوں نے بی جے پی پر مسلمانوں کو اقتصادی طورکمزور کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ہم گاندھی کے ہندوستان میں ضیاء الحق کے پاکستان کو نہیں بننے دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی یہ بل منظررکرکے ہمارے گھروں میں داخل ہونے کے در پے ہے۔  انہوں نے کہا کہ اس بل سے ہماری گھریلوزندگی متاثرہوگی اورمرد وخواتین اقتصادی بد حالی کے شکار ہوں گے۔ 


انہوں نے کہا کہ جب بی جے پی کے ساتھ مسلمانوں کوتعلیم وغیرہ میدانوں میں ریزرویشن دینے کی بات کی جاتی ہے تو اس وقت وہ اس کومذہبی بنیادوں پرمسترد کرتی ہے، لیکن جب طلاق ثلاثہ بل جیسے معاملات پیش آتے ہیں تووہ پارلیمنٹ کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ بابری مسجد کا ہویا کوئی اورمسئلہ ہو، مسلمان ہمیشہ عدالت عالیہ کے فیصلوں کو تسلیم کرتے ہیں، لیکن یہ بی جے پی ہے جوکہتی ہے کہ وہ سپریم کورٹ کے بابری مسجد یا سبری مالا کیس کے حوالے سے فیصلے کوتسلیم نہیں کریں گے۔

سابق وزیراعلیٰ نے کہا کہ بی جے پی ہمیشہ یہ دعوی کرتی رہتی ہے کہ وہ سابق وزیراعظم واجپئی کے 'سب کا ساتھ، سب کا وکاس' کےنعرے اورآپ کی انسسانیت کی بنیادوں پرمیراث کوآگے لے جائیں گے، لیکن طلاق ثلاثہ کی بل منظورکرکےمسلمانوں کومزید اقتصادی بدحالی کے بھنورمیں دھکیلا جارہا ہے۔
محبوبہ مفتی نےکہا کہ تقسیم ملک کے وقت جومسلمان ہندوستان میں ہی مقیم رہے ہیں، وہ گاندھی کے سیکولرہندوستان میں رہے ہیں اورریاست جموں کشمیرنے بھی مہاتما گاندھی کے سیکولرہندوستان کے ساتھ ہی الحاق کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو ملک میں تاریخ کو مسخ کرنے، شہروں اورجزیروں کا نام تبدیل کرنے کا سلسلہ جاری ہے، ایسا کرنے سے یہ لوگ نہ ہی ملک کی خدمت کرتے ہیں اورنہ ہی ہندومذہب کی کوئی خدمت کرتے ہیں۔
First published: Dec 31, 2018 04:47 PM IST