உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    محبوبہ مفتی نے اسمبلی کو تحلیل کئے جانے کے خلاف اپنے اگلے قدم کے بارے میں دیا یہ بڑا اشارہ

    ایک مختصر حکم نامہ میں کہا گیا ہے کہ محبوبہ مفتی کے گھر میں ہی ان کی حراست کو تین ماہ کے لئے بڑھائی جارہی ہے۔ فائل فوٹو۔

    ایک مختصر حکم نامہ میں کہا گیا ہے کہ محبوبہ مفتی کے گھر میں ہی ان کی حراست کو تین ماہ کے لئے بڑھائی جارہی ہے۔ فائل فوٹو۔

    گورنر ستیہ پال ملک نے 21 نومبر کی شام ریاستی اسمبلی کو تحلیل کرنے کا حکم نامہ اُس وقت جاری کیا جب ان کے پاس پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی جنہیں نیشنل کانفرنس اور کانگریس کی حمایت حاصل ہوگئی تھی، کا مکتوب پہنچا تھا

    • UNI
    • Last Updated :
    • Share this:

       پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) صدر محبوبہ مفتی نے گورنر ستیہ پال ملک کی جانب سے قانون ساز اسمبلی کو اچانک تحلیل کرنے کے فیصلے پرعدالت کا دروازہ کھٹکھٹانے سے متعلق سامنے آنے والی تجاویز پر کہا ہے کہ میری رائے یہ ہے کہ ہمیں عوامی عدالت میں جانا چاہیے جو سب سے بڑی عدالت ہے۔ محبوبہ مفتی نے پیر کے روز اپنے ایک ٹویٹ میں کہا 'خیرخواہوں نے گورنر کی جانب سے اسمبلی کو تحلیل کرنے کے حوالے سے میرے سامنے عدالت جانے کی مخلصانہ تجاویز پیش کی ہیں۔ پی ڈی پی ، این سی اور کانگریس ریاست کے مفادات کی خاطر ایک جُٹ ہوگئی تھیں۔ میری رائے ہے کہ ہمیں عوامی عدالت میں جانا چاہیے جو سب سے اعلیٰ فورم ہے'۔


      سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ محبوبہ مفتی کا عوامی عدالت میں جانے سے مراد انتخابات میں شمولیت ہے۔ پی ڈی پی اور نیشنل کانفرنس نے گذشتہ ماہ ریاست میں منعقد ہونے والے بلدیاتی انتخابات کا بائیکاٹ کیا تھا۔ دونوں جماعتوں کا مطالبہ تھا کہ مرکزی سرکار پہلے دفعہ 35 اے پر اپنا موقف واضح کرے اور پھر وہ کسی انتخابی عمل کا حصہ بنیں گی۔ تاہم مرکزی سرکار کا معاملہ پر اپنا موقف واضح کرنا ابھی باقی ہے۔


      واضح رہے کہ گورنر ستیہ پال ملک نے 21 نومبر کی شام ریاستی اسمبلی کو تحلیل کرنے کا حکم نامہ اُس وقت جاری کیا جب ان کے پاس پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی جنہیں نیشنل کانفرنس اور کانگریس کی حمایت حاصل ہوگئی تھی، کا مکتوب پہنچا تھا جس میں ریاست میں حکومت تشکیل دینے کا دعویٰ پیش کیا گیا تھا۔ گورنر کو بی جے پی کے حمایت یافتہ پیپلز کانفرنس کے سربراہ سجاد غنی لون کا بھی مکتوب پہنچا تھا۔ سجاد لون نے اپنے مکتوب میں کہا تھا کہ انہیں بی جے پی کے ساتھ ساتھ 18 دیگر ممبران اسمبلی کی حمایت حاصل ہے۔سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر معاملہ پر فلور ٹیسٹ ہوتا تو نیشنل کانفرنس اور کانگریس کی حمایت سے پی ڈی پی بھاری جیت درج کرتی۔ 21 نومبر کو ریاست میں پیش آئے سیاسی ڈرامے کے تناظر میں کچھ سیاسی لیڈران محبوبہ مفتی کو عدالت جانے کا مشورہ دے رہے تھے۔


      یہ بھی پڑھیں: جموں ۔ کشمیر : حکومت بنانے کے دعوے کے منٹوں بعد اسمبلی تحلیل، محبوبہ بولیں ، 26 سال کے کریئر میں ایسا نہیں دیکھا


      دلچسپ بات یہ ہے کہ گورنر ستیہ پال ملک اور بی جے پی نے بھی کہا تھا کہ محترمہ مفتی کے لئے عدالت کے دروازے کھلے ہیں۔ تاہم سابقہ وزیر اعلیٰ کے ٹویٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ عدالت جانے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی ہیں۔ کانگریس پارٹی کے سینئر لیڈر اور سابق مرکزی وزیر پروفیسر سیف الدین سوز نے کہا تھا کہ پی ڈی پی کو عوامی مفاد میں گورنر کی جانب سے بقول ان کے ریاستی اسمبلی کو نہایت عجلت میں غیرآئینی اور غیرجمہوری طور پر برخواست کرنے کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا تھا کہ پی ڈی پی جسے نیشنل کانفرنس اور کئی دوسری جماعتوں کی حمایت حاصل تھی، ریاست میں ایک جمہوریت اور عوامی حکومت قائم کرنا چاہتی تھی۔


      First published: