உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    شوہروں کے بیویوں کے ساتھ جبری جنسی تعلقات پر قانون نہیں بنے گا: مینکا گاندھی

    نئی دہلی۔  بہبود اطفال اور خواتین کی مرکزی وزیر مینکا گاندھی نے کہا ہے کہ شوہروں کی طرف سے بیویوں کے ساتھ جبری جنسی تعلقات ایک سنگین مسئلہ ہے لیکن حکومت اس زیادتی سے نمٹنے کے لئے الگ سے قانون بنانے نہیں جا رہی ہے۔

    نئی دہلی۔ بہبود اطفال اور خواتین کی مرکزی وزیر مینکا گاندھی نے کہا ہے کہ شوہروں کی طرف سے بیویوں کے ساتھ جبری جنسی تعلقات ایک سنگین مسئلہ ہے لیکن حکومت اس زیادتی سے نمٹنے کے لئے الگ سے قانون بنانے نہیں جا رہی ہے۔

    نئی دہلی۔ بہبود اطفال اور خواتین کی مرکزی وزیر مینکا گاندھی نے کہا ہے کہ شوہروں کی طرف سے بیویوں کے ساتھ جبری جنسی تعلقات ایک سنگین مسئلہ ہے لیکن حکومت اس زیادتی سے نمٹنے کے لئے الگ سے قانون بنانے نہیں جا رہی ہے۔

    • UNI
    • Last Updated :
    • Share this:

      نئی دہلی۔  بہبود اطفال اور خواتین کی مرکزی وزیر مینکا گاندھی نے کہا ہے کہ شوہروں کی طرف سے بیویوں کے ساتھ جبری جنسی تعلقات ایک سنگین مسئلہ ہے لیکن حکومت اس زیادتی سے نمٹنے کے لئے الگ سے قانون بنانے نہیں جا رہی ہے۔ محترمہ گاندھی نے کل یہاں خواتین صحافیوں کی قومی ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کا خیال ہے کہ اس معاملے میں الگ قانون کارگر ثابت نہیں ہو گا کیونکہ خواتین اس کی شکایت نہیں کرسکیں گی۔


      انہوں نے کہا کہ امریکہ اور برطانیہ جیسے ممالک میں بھی بیویاں ایسے جبری جنسی تعلقات کی شکایت نہیں کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شوہر کے خلاف اس کی شکایت کرنے پر شادی ٹوٹنے کا خطرہ ہوتا ہے۔ اگر شادی ٹوٹنے کے بعد اس کی شکایت کی جاتی ہے تو واقعہ کا اتنا طویل وقت گزر چکا ہوگا کہ شکایت کا کوئی مطلب نہیں رہ جائے گا۔


      محترمہ گاندھی نے کہا کہ فی الحال گھریلو تشدد کی روک تھام سے متعلق قانون کے تحت ہی اس مسئلے سے نمٹا جائے گا۔

      First published: