اپنا ضلع منتخب کریں۔

    اروناچل پردیش میں بڑا حادثہ، سیانگ ضلع میں فوج کا ہیلی کاپٹر ہوا کریش، ریسکیو ٹیم روانہ

    فی الحال فوج کا کون سا ہیلی کاپٹر گر کر تباہ ہوا ہے اور اس میں کتنے افراد سوار تھے اس بارے میں معلومات سامنے نہیں آئی ہیں۔

    فی الحال فوج کا کون سا ہیلی کاپٹر گر کر تباہ ہوا ہے اور اس میں کتنے افراد سوار تھے اس بارے میں معلومات سامنے نہیں آئی ہیں۔

    فی الحال فوج کا کون سا ہیلی کاپٹر گر کر تباہ ہوا ہے اور اس میں کتنے افراد سوار تھے اس بارے میں معلومات سامنے نہیں آئی ہیں۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Arunachal Pradesh, India
    • Share this:
      ایٹا نگر: اروناچل پردیش کے سیانگ ضلع میں آج یعنی جمعہ کو ایک بڑا حادثہ پیش آیا۔ فوج کا ہیلی کاپٹر سیانگ ضلع کے سنگنگ گاؤں کے قریب گر کر تباہ ہو گیا۔ یہ جگہ ٹوٹنگ ہیڈ کوارٹر سے 25 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے جہاں یہ حادثہ پیش آیا۔ گوہاٹی کے ڈیفنس پی آر او نے بتایا کہ ریسکیو ٹیم کو روانہ کر دیا گیا ہے اور جس جگہ حادثہ ہوا ہے وہ سڑک سے منسلک نہیں ہے۔

      فی الحال فوج کا کون سا ہیلی کاپٹر گر کر تباہ ہوا ہے اور اس میں کتنے افراد سوار تھے اس بارے میں معلومات سامنے نہیں آئی ہیں۔ تاہم بتایا جا رہا ہے کہ فوج نے ریسکیو آپریشن شروع کر دیا ہے۔ فی الحال اس واقعہ کے بارے میں تفصیلی معلومات کا انتظار ہے۔

      ہندستان کے خلاف جنگ سے پہلے پاکستان کیلئے بری خبر، اسٹار بلے کے سر پر لگی چوٹ

      جموں۔کشمیر ہائر ایجوکیشن کونسل کی میٹنگ تعلیمی نظام کو لیکر بولے منوج سنہا

      آپ کو بتاتے چلیں کہ اس سے قبل 12 اکتوبر کو بھارتی بحریہ کا ایک MiG-29K طیارہ تکنیکی خرابی کے بعد گوا کے ساحل کے قریب گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ تاہم اس طیارے کا پائلٹ بچ گیا اور نیول ہیڈ کوارٹرز نے واقعے کی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔ آپ کو بتاتے چلیں کہ 'MiG-29K' ایک لڑاکا طیارہ ہے جسے روسی خلائی ہوا بازی کمپنی Mikoyan (MiG) نے تیار کیا ہے۔ ہندوستانی بحریہ نے ایک دہائی قبل روس سے تقریباً 2 بلین امریکی ڈالر میں 45 'MiG-29K' طیارے خریدے تھے۔

      بحریہ نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ MiG-29K طیارہ گوا میں سمندر کے اوپر سے معمول کی پرواز پر تھا اور بحریہ کے اڈے پر واپسی کے دوران اس میں تکنیکی خرابی پیدا ہوگئی۔ پائلٹ بحفاظت باہر نکل گیا اور فوری طور پر تلاش اور بچاؤ آپریشن کے ذریعے اس کا سراغ لگایا گیا۔ واقعے کی وجوہات جاننے کے لیے انکوائری بورڈ تشکیل دے دیا گیا ہے۔
      Published by:Sana Naeem
      First published: