உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    حاجیوں کی ناتجربہ کاری اوران میں صبروضبط کا فقدان منی سانحہ کا اصل سبب: مولانا ارشد مدنی

    نئی دہلی۔ گزشتہ چوبیس ستمبر کو مکہ مکرمہ کے منی میں رمی جمرات کے دوران مچی بھگدڑ میں سینکڑوں کی تعداد میں عازمین حج شہید اور زخمی ہوئے ہیں۔ اس المناک حادثہ کی اصل وجہ کیا ہے، گزشتہ کئی برسوں میں دوران حج کیوں ہو رہے ہیں مسلسل حادثے، نیز ملک کے موجودہ حالات اوربہار انتخابات جیسے موضوعات پر جمعیتہ علما ہند کے صدر مولانا سید ارشد مدنی نے نیوز ۱۸ اردو کو ایک تفصیلی انٹرویو دیا۔

    نئی دہلی۔ گزشتہ چوبیس ستمبر کو مکہ مکرمہ کے منی میں رمی جمرات کے دوران مچی بھگدڑ میں سینکڑوں کی تعداد میں عازمین حج شہید اور زخمی ہوئے ہیں۔ اس المناک حادثہ کی اصل وجہ کیا ہے، گزشتہ کئی برسوں میں دوران حج کیوں ہو رہے ہیں مسلسل حادثے، نیز ملک کے موجودہ حالات اوربہار انتخابات جیسے موضوعات پر جمعیتہ علما ہند کے صدر مولانا سید ارشد مدنی نے نیوز ۱۸ اردو کو ایک تفصیلی انٹرویو دیا۔

    نئی دہلی۔ گزشتہ چوبیس ستمبر کو مکہ مکرمہ کے منی میں رمی جمرات کے دوران مچی بھگدڑ میں سینکڑوں کی تعداد میں عازمین حج شہید اور زخمی ہوئے ہیں۔ اس المناک حادثہ کی اصل وجہ کیا ہے، گزشتہ کئی برسوں میں دوران حج کیوں ہو رہے ہیں مسلسل حادثے، نیز ملک کے موجودہ حالات اوربہار انتخابات جیسے موضوعات پر جمعیتہ علما ہند کے صدر مولانا سید ارشد مدنی نے نیوز ۱۸ اردو کو ایک تفصیلی انٹرویو دیا۔

    • News18
    • Last Updated :
    • Share this:

      نئی دہلی۔ گزشتہ چوبیس ستمبر کو مکہ مکرمہ کے منی میں رمی جمرات کے دوران مچی بھگدڑ میں سینکڑوں کی تعداد میں عازمین حج شہید اور زخمی ہوئے ہیں۔ اس المناک حادثہ کی اصل وجہ کیا ہے، گزشتہ کئی برسوں میں دوران حج کیوں ہو رہے ہیں مسلسل حادثے، نیز ملک کے موجودہ حالات اوربہار انتخابات جیسے موضوعات پر جمعیتہ علما ہند کے صدر مولانا سید ارشد مدنی نے نیوز ۱۸ اردو کو ایک تفصیلی انٹرویو دیا۔ پیش ہیں اس انٹرویو کے چند اہم اقتباسات


      مکہ مکرمہ میں اس سال حج کے موسم میں دو المناک حادثات رونما ہوئے۔ پہلا کرین حادثہ اور دوسرا منی حادثہ۔ ان حادثات کے لئے سعودی حکومت کو مورد الزام ٹھہرایا جارہا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ سعودی عرب کی غفلت، لاپروائی اور اس کی بدانتظامی کی وجہ سے ایسا ہوا۔ آپ کا کیا خیال ہے؟


      دیکھئے، یہ حادثات قدرتی حادثات ہیں۔ اس کے لئے سعودی حکومت کو مورد الزام ٹھہرانا صحیح نہیں ہے۔ جہاں تک کرین سانحہ کی بات ہے تو یہ معلوم ہونا چاہئے کہ وہاں عام طور پر طوفان نہیں آتے اور کرین سانحہ شدید طوفان کی وجہ سے رونما ہوا۔ ایسا بھی ہوسکتا تھا کہ  طوفان میں وہاں کے بڑے بڑے مینارے گر جاتے، زلزلہ آ جاتا اور بڑے پیمانہ پر تباہی مچتی پھر آپ کس کو قصوروار ٹھہراتے۔ کسی پر الزام لگانا انتہائی آسان کام ہے اور عملا ً کچھ کر کے دکھانا انتہائی مشکل کام۔


      Hajj Stampede-at makkah


      لیکن حج کے موسم میں جب وہاں لاکھوں کا ہجوم ہوتا ہے، اس دوران تعمیراتی کام اگر روک دیا جاتا تو یہ سانحہ پیش نہ آتا۔


      یہ غلط بات ہے،آج یہ بات کہی جا رہی ہے۔  حقیقت تو یہ ہے کہ وہاں صرف حج کے موسم میں ہی نہیں، بلکہ سال بھرلاکھوں لوگوں کا ہجوم رہتا ہے۔ ہر وقت وہاں دسیوں لاکھ لوگ ہوتے ہیں۔ پورے چوبیس گھنٹے حرم شریف میں اتنی زیادہ بھیڑ ہوتی ہے کہ وہاں تل رکھنے کی جگہ نہیں ہوتی۔ مزید یہ کہ سعودی حکومت اگر زبردست بھیڑ کے مدنظر حج کے موسم میں تعمیراتی کام روک دے تو وہ اپنے ٹارگٹ کو پورا نہیں کر پائے گی۔ جو کام سال دوسال میں ہونا ہے، اس میں کئی کئی سال لگ جائیں گے۔


      البتہ جہاں تک منیٰ سانحہ کی بات ہے تو میں آپ پر یہ واضح کر دوں کہ میڈیا یا سوشل میڈیا میں جو کچھ  کہا جا رہا ہے، اس سے ہمیں بہت زیادہ متاثر نہیں ہونا چاہئے۔ یہ حج کا امتیازی وصف ہی ہے کہ ایک ہی جگہ پچیس سے تیس لاکھ لوگ جمع ہوتے ہیں۔ ان میں سے ستر یا اسی فیصد عازمین ناتجربہ کار ہوتے ہیں۔ حج کے تئیں انہیں معلومات نہیں ہوتی۔ ایک ایک دودو لوگ پورے پورے قافلہ کو لے کر چلتے ہیں۔  منیٰ، عرفات، مزدلفہ، یہ ایسے مقدس مقامات ہیں کہ یہاں تیس پینتیس لاکھ حاجیوں کو ایک ہی تاریخ میں جانا ہوتا ہے۔ آٹھ ذی الحجہ کو منیٰ میں پہنچنا ہوتا ہے ۔ دن بھر اور پھر رات گزار کر فجر کی نماز کے بعد سبھی کو عرفات جانا ہوتا ہے، مغرب کے وقت مزدلفہ کے لئے نکلنا پڑتا ہے اور پھر یہاں فجر کی نماز کے بعد منی کے لئے واپسی ہوتی ہے۔ منیٰ آ کر ان لاکھوں عازمین کو دو پہاڑوں کے بیچ میں واقع جمرات پہنچ کر شیطان کو کنکریاں مارنا ہے اور پھر مکہ جا کر خانہ کعبہ کا طواف اور صفا ومروہ کی سعی کرنا ہے۔


      ہو سکتا ہے کہ دنیا میں کہیں لوگ اس سے دوگنا، تین گنا یا پانچ گنا زیادہ اکھٹا ہوتے ہوں لیکن یہ حج کا امتیاز ہی ہے کہ ایک ہی تاریخ میں کسی ایک بڑے شہر سے کسی دوسرے شہر میں منتقلی ہو رہی ہے۔ اس کے لئے وہ لاکھوں لوگ پیدل چلتے ہیں جن کے اندر طاقت ہوتی ہے۔ زیادہ تر لوگ گاڑیوں، ٹرینوں اور بسوں سے ایک جگہ سے دوسری جگہ جاتے ہیں۔ یہ حج کی خصوصیت ہی ہے۔ منیٰ میں شیطان کو کنکریاں مارنے کے لئے موجودہ سعودی حکومت نے پانچ منزلہ بنائے ہیں۔ ہر ایک منزل پر لاکھوں لوگ جمع ہو سکتے ہیں۔ جانے کے لئے الگ راستے اور واپس آنے کے لئے الگ ،اور یہی نہیں  بلکہ کئی کئی راستے ہیں۔ اب اگر کوئی شخص ان حالات واسباب سے اپنی آنکھیں موند لے تو وہ کچھ بھی کہہ سکتا ہے۔ کسی پر بھی الزام عاید کرسکتا ہے۔ لیکن ان احوال کو جاننے والا اسے مستبعد نہیں سمجھتا کہ منیٰ میں کب کوئی حادثہ پیش آ جائے۔ میں تو سمجھتا ہوں کہ سب کچھ ہو سکتا ہے۔ حاجیوں کی ناتجربہ کاری اور ان کے اندر صبروضبط کا نہ ہونا منیٰ سانحہ کی اصل وجہ ہے۔


      دیکھنے میں آیا ہے کہ نظم وضبط کی پابندی کنکریاں مارنے کی جگہ تو زیادہ ہوتی ہے، لیکن اس سے ایک یا ڈیڑھ کلومیٹر کی دوری پر ایسا نہیں ہوتا۔ لوگ اپنے اپنے حساب سے چلے جا رہے ہیں۔ یہ نہیں دیکھتے کہ بہت زیادہ بھیڑ ہے اور پھر رک جائیں۔ کہیں تو انتظار کر لیں، ٹھہر جائیں۔ حاجیوں کو بھی نظم وضبط کی پابندی کرنی ہوگی خواہ وہ کہیں بھی ہوں۔ حوادث کے رونما ہونے کے درحقیقت کچھ اسباب ہیں اور یہ وہی اسباب ہیں جن کا میں نے تذکرہ کیا۔ یہ اسباب ہمیشہ ہی پریشانی کا باعث بنتے رہے ہیں اور اس بار بھی بن گئے۔


      ہاں، میں اتنا ضرور کہوں گا کہ منیٰ کے دونوں طرف جو پہاڑ ہیں، انہیں مرحلہ وار ہٹا کر زمین برابر کی جا سکتی ہے۔ اس سے منیٰ میں کئی کئی راستے نکل جائیں گے اور پھر حادثات کے امکانات کم ہو جائیں گے۔ اس سے پہلے مکہ میں واقع جبل قینقاع اور جبل مکہ کو توڑ کر اسے برابر کیا گیا۔ یہی معاملہ یہاں بھی کیا جا سکتا ہے۔


      مزید برآں، سعودی حکومت یہاں اتنے بڑے پیمانہ پر کام کر رہی ہے کہ دنیا میں کسی بھی قوم کی عبادت گاہیں ایسی نہیں ہیں، جس طرح دنیا بھر کے مسلمانوں کے لئے یہاں ہیں، لہذا سعودی حکومت کو ان حادثات کے لئے ذمہ دار ٹھہرانا یکسر غلط ہے۔ اسی کے ساتھ ہم مسلمانوں کا یہ عقیدہ بھی ہے کہ موت کا وقت اور اس کی جگہ متعین ہے۔ اسے ٹالا نہیں جا سکتا ۔


      اب اگلا سوال ملک کے موجودہ حالات پرکرنا چاہوں گا۔ میرے خیال میں ان دنوں ملک میں اقلیتوں کے خلاف ماحول ہے، آپ کا ردعمل؟


      دیکھئے،اس وقت ملک کے اندر اقلیتوں کے خلاف جو ماحول  ہے، وہ یقیناًباعث تشویش ہے۔ یہ ماحول مزید خراب ہوتا جا رہا ہے۔ آزادی کے بعد اس سے پہلے ملک کی صورت حال کبھی ایسی نہیں رہی۔ گزشتہ عام انتخابات کے بعد سے ہی اس طرح کی صورت حال پیدا ہوئی ہے۔ فرقہ پرست ذہن کا حامل شخص خود کو آزاد سمجھ رہا ہے۔ وہ ملک کو ہندو مذہبی اسٹیٹ بنانا چاہتا ہے۔ پروین توگڑیا، سادھوی پراچی اور ان کی ذہنیت کے کئی اورفرقہ پرست لیڈران اقلیتوں کے خلاف مسلسل زہرافشانی کر رہے ہیں۔ لیکن انہیں یہ سمجھ لینا چاہئے کہ ایک ایسا ملک جہاں مختلف مذاہب اورعقائد کے ماننے والے ہیں ، وہاں کسی ایک مذہب یا عقیدہ کو تمام لوگوں پر جبراً مسلط نہیں کیا جا سکتا۔ ہندستان کا ہندو اسٹیٹ بننا یہ کسی بھی صورت میں قابل قبول نہیں ہے۔ ہمیں اور ہم جیسے اکثریتی طبقہ کے امن اور صلح پسند لوگوں کو تشویش ہے۔ اس صورت حال کا مقابلہ اچھی حکمت عملی سے کیا جا سکتا ہے۔


      بہار الیکشن قریب ہے۔ وہاں سیکولر طاقتوں میں مہا گٹھ بندھن، ملائم سنگھ کا مورچہ اور پھر ایم آئی ایم بھی انتخابات کے میدان میں ہیں، اسے لے کر اقلیتیں پس وپیش میں ہیں۔ آپ انہیں کیا پیغام دینا چاہیں گے؟


      میں یہ کہنا چاہوں گا کہ جمعیتہ علما ہند فرقہ پرستی، خواہ وہ ہندوفرقہ پرستی ہو یا مسلم فرقہ پرستی اس کی ہمیشہ سے مخالف رہی ہے اور وہ اب بھی اس کے خلاف ہے۔ ہندستان ایک سیکولر ملک ہے۔ یہاں کسی کو بھی الیکشن لڑنے اور پارٹی بنانے کی آزادی ہے۔ لیکن یہ آزادی اس قیمت پر نہیں ہونی چاہئے کہ آپ آگ برسائیں۔ آگ برسانے والا خواہ کوئی فرقہ پرست ہندو ہو یا مسلمان، اس کی بہر حال مخالفت کی جائے گی۔ ہندو کی بنیاد پر ہندو پارٹی یا مسلمانوں کی بنیاد پر مسلم پارٹی کی حوصلہ افزائی نہیں کی جا سکتی۔ اس سے ملک کا امن وامان بگڑے گا۔ یہ ملک ہندو اور مسلمان دونوں کا ہے۔ دونوں کو ہی یہاں پیار اور محبت سے رہنا ہوگا۔ ایسی صورت میں ہی ملک ترقی کر سکتا ہے۔ میرا واضح پیغام ہے کہ بہار انتخابات میں مسلمان بہت سوچ سمجھ کر اپنی طاقت ایک طرف لگائیں۔ وہاں سیکولر محاذ کو مضبوط کریں۔ کیونکہ سیکولر محاذ کو مضبوط کرنا اقلیتوں کے بھی مفاد میں ہے اور ملک کے مفاد میں بھی۔



      لیکن آج کے حالات میں کیا مسلم پارٹی کی ضرورت نہیں ہے؟


      دیکھئے، مسلمان ہمیشہ انتشار کے شکار رہے ہیں اور اب بھی ہیں ۔ یہ مسلمانوں کے حق میں نہیں ہے۔ اس لئے میرا یہ کہنا ہے کہ وہاں مسلمان متحد ہو کر سیکولر محاذ کا ساتھ دیں۔


      نیوز ۱۸ اردو کے ندیم احمد کے ساتھ خصوصی بات چیت پر مبنی

      First published: