ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

عام بجٹ میں اقلیتوں اور غریبوں کو کیا گیا نظرانداز ، بجٹ پر جماعت اسلامی کی شدید تنقید

حالیہ مالی سال میں اقلیتوں کے بجٹ میں کمی کئے جانے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے جماعت اسلامی ہند کے نائب امیر پروفیسرمحمد سلیم انجینئر نے کہا کہ یہ پورا بجٹ مایوس کن ہے ۔

  • Share this:
عام بجٹ میں اقلیتوں اور غریبوں کو کیا گیا نظرانداز ، بجٹ پر جماعت اسلامی کی شدید تنقید
عام بجٹ میں اقلیتوں اور غریبوں کو کیا گیا نظرانداز ، بجٹ پر جماعت اسلامی کی شدید تنقید

حالیہ مالی سال میں اقلیتوں کے بجٹ میں کمی کئے جانے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے جماعت اسلامی ہند کے نائب امیر پروفیسرمحمد سلیم انجینئر نے کہا کہ یہ پورا بجٹ مایوس کن ہے ۔ اس مرکزی بجٹ میں ملک کے 16  فیصد آبادی والے درج فہرست ذات / قبائل کے لئے 21 فیصد آبادی والے مسلم طبقہ کے مقابلے میں دس گنا زیادہ رقم مختص کی گئی ہے جو کہ انتہائی افسوسناک بات ہے۔ گزشتہ سال اقلیتوں کے لئے مختص رقم 5021 کروڑ روپے کو کم کرکے محض 4810.77 کروڑ کردیا گیا  ہے۔ یہ بجٹ کارپوریٹس کے مفاد میں ہے جبکہ اس میں عام آدمی کے لئے کوئی فائدہ نظر نہیں آرہا ہے۔ اس وقت ملک کی موجودہ اقتصادی صورت حال کو دیکھتے ہوئے ایکویٹی پر مبنی معیشت کی ضرورت ہے جبکہ حکومت نے ایسا نہیں کیا۔


انہوں نے کہا کہ صحت کے شعبے میں جی ڈی پی کا چھ فیصد مختص کیا جانا چاہئے ۔ جبکہ حکومت نے محض دو فیصد مختص کیا ہے۔ زرعی قوانین پر بات کرتے ہوئے سلیم انجینئر نے کہا کہ کسان جن تین زرعی قوانین کو رد کیے جانے کا مطالبہ کررہے ہیں ، اس پر حکومت کو توجہ دینی چاہئے اور ان کے مطالبات مان لینی چاہئے ۔ کیونکہ یہ قوانین نہ تو کسانوں کے حق میں ہیں اور نہ ہی کنزیومرس کے حق میں ۔ اس کا فائدہ صرف کارپوریٹس کو ملنے والا ہے۔


یوم آزادی کے موقع پر ہوئے تشدد کی مذمت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس سے حکومت اور انتظامیہ کی ناکامی کا پتہ چلتا ہے۔ اس تشدد کے پیچھے موجود کئی چہروں کی شناخت ہونے کے باجود انہیں ہنوز گرفتار نہیں کیا گیا ہے ۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ دنیا بھر سے جہاں بھی کسانوں کی حمایت میں آواز بلند کی جارہی ہے ، درحقیقت یہ جمہوریت کو مضبوط کرنے کی آواز ہے جس کی ستائش ہونی چاہئے ۔ انہوں نے رام مندر کے لئے فنڈ جمع کئے جانے کے بہانے فرقہ وارانہ تشدد پھیلانے والے عناصر پر وزیر اعظم سے روک لگانے کی اپیل کی ۔ وہ جماعت کے مرکز میں منعقد ایک پریس کانفرنس کو خطاب کررہے تھے۔


کانفرنس کو خطاب کرتے ہوئے جماعت کے نیشنل سکریٹری ملک معتصم خاں نے رام مندر کے لئے فنڈ اکٹھا کئے جانے کی آڑ میں مدھیہ پردیش اور گجرات کے مختلف اضلاع میں تشدد پھیلانے اور مساجد کے سامنے یا مسلم آبادی میں جاکر اشتعال انگیز نعرے لگانے کی تفصیلات بیان کی ۔ انہوں نے ملک کے ممتاز شہری اور سماجی کارکنان ، جن میں جماعت بھی شامل ہے ، کی جانب سے لکھے گئے اس خط کا بھی ذکر کیا ، جس میں رام مندر کے لئے فنڈ جمع کرنے کی آڑ میں دہشت پھیلانے والے شدت پسند عناصر پر لگام کسنے اور انہیں اقلیتی علاقے میں یاترا اور اشتعال انگیز نعرے کو روکنے کو یقینی بنانے کی بات کہی گئی ہے ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Feb 06, 2021 11:44 PM IST