ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

اقلیتوں کی تعلیم پر نئی قومی تعلیمی پالیسی میں خاموشی سے اقلیتی ماہرین فکرمند

نئی پالیسی میں مدارس کا ذکر نہ ہونے او ریزرویشن کے بارے میں کچھ بھی نہ کہے جانے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا کہ اقلیتی طبقہ کی بڑی تعداد کو تعلیمی اداروں میں ریزرویشن کے تحت شامل کیا گیا ہے لیکن حالیہ نئی پالیسی میں اس کی کچھ بھی توضیح نہیں ہے کہ مدارس اور ریزرویشن کے تعلق سے کیا پالیسی اختیار کی جائے گی۔

  • Share this:
اقلیتوں کی تعلیم پر نئی قومی تعلیمی پالیسی میں خاموشی سے اقلیتی ماہرین فکرمند
علامتی تصویر

نئی دہلی۔  نئی قومی تعلیمی پالیسی میں اقلیتوں سے جڑے تعلیمی مسائل اور موضوعات پر چھائی خاموشی  نے اقلیتوں کی فکرمندی میں اضافہ کر دیا ہے۔ اقلیتی تعلیمی ماہرین کے درمیان مسلسل اس بات کو لے کر تبادلہ خیال اور بحث ہو رہی ہے کہ قومی تعلیمی پالیسی اقلیتوں کی تعلیم پر کس طرح اثر انداز ہوگی۔ خاص بات یہ ہے کہ جہاں مسلم طبقہ اور مسلم طبقہ کے تعلیمی ماہرین کا علی گڑھ مسلم یونیورسٹی ، جامعہ ملیہ اسلامیہ، جوہر یونیورسٹی جیسے  بڑے تعلیمی اداروں اور اسی کے ساتھ ساتھ آرٹیکل 30 کے تحت قائم کیے گئے اداروں میں ریزرویشن کا بڑا سوال ہے وہیں دوسری جانب مدرسوں کو لے  کر قومی تعلیمی پالیسی خاموش ہے۔ اس کے علاوہ عیسائی اور جین طبقہ بھی ان تمام امور پر فکر مند ہے۔ یہ فکر مندی جماعت اسلامی ہند کی جانب سے ہوئے ویبینار میں کھل کر سامنے آئی ہے۔ دراصل فیڈریشن آف مسلم ایجوکیشنل انسٹی ٹیوشنس آف انڈیا کی جانب سے ’اقلیتی تعلیمی اداروں پر نئی تعلیمی پالیسی 2020 کے اثرات‘ کے موضوع پر ویبینار منعقد کیا گیاجس میں مختلف دانشوروں نے شرکت کی اور آئین کے آرٹیکل 30 کے تحت اقلیتی تعلیمی اداروں کی حیثیت پر تشویش کا اظہا رکیا۔کیونکہ نئی پالیسی کا فائنل ڈرافٹ اس ایشو پر بالکل اسی طرح خاموش ہے جس طرح مدارس اور تعلیمی اداروں میں داخلہ کے ایشو پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہے۔ جبکہ یہ ایک ایسی پالیسی ہے جس سے اقلیتی طبقے کے علاو ہ شیڈولڈکاسٹ اور شیڈولڈ ٹرائب کو بھی فائدہ ملنا چاہئے۔


اقلیتی اسکولوں کے بارے میں کی جانی چاہئے وضاحت


اس موقع پر جماعت اسلامی ہند کے مرکزی تعلیمی بورڈ کے چیئرمین نصرت علی نے کہا کہ نئی پالیسی میں ملک بھر میں تعلیم کے لئے مرکزی اتھارٹی کی بات کی جارہی ہے۔ لیکن آرٹیکل 30 کے تعلق سے مکمل خاموشی اختیار کر لی گئی ہے، جبکہ یہ اقلیتوں کو اپنے تعلیمی ادارے قائم کرنے کا مکمل اختیار دیتا ہے۔ اس سے نہ صرف ان کی تعلیم میں مدد ملتی ہے بلکہ انہیں اپنی زبان و ثقافت کو فروغ  دینے میں بھی تعاون ملتا ہے۔ اس پالیسی میں چھوٹے اسکولوں کو ضم کرنے کی طرف توجہ مرکوز کراتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اقلیتی اسکولوں کے بارے میں یہ بالکل صاف نہیں کیا گیا ہے کہ جبکہ بہت سے اسکول اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے ذریعہ چلائے جارہے ہیں اور یہ چھوٹے اسکول ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ان تمام امور کی توضیح ہونی چاہئے۔


اقلیتی اداروں میں ریزرویشن پر خاموشی کیوں؟

نئی پالیسی میں مدارس کا ذکر نہ ہونے او ریزرویشن کے بارے میں کچھ بھی نہ کہے جانے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا کہ اقلیتی طبقہ کی بڑی تعداد کو تعلیمی اداروں میں ریزرویشن کے تحت شامل کیا گیا ہے لیکن حالیہ نئی پالیسی میں اس کی کچھ بھی توضیح نہیں ہے کہ مدارس اور ریزرویشن کے تعلق سے کیا پالیسی اختیار کی جائے گی۔ اسی طرح ملک میں دنیا کی 100 یونیورسٹیوں کو یہاں کیمپس کی اجازت دی گئی ہے مگر ان یونیورسٹیوں میں بھی ریزرویشن پر بالکل خاموشی اختیار کرلی گئی ہے۔ اس بات کو درجنوں تعلیمی ادارے چلانے والے مہاراشٹر میں کاسموپولیٹن ایجوکیشن سوسائٹی کے صدر پی اے انعامدار نے بھی محسوس کیا کہ آرٹیکل 30 کے تحت آنے والے تعلیمی اداروں سے اس نئی پالیسی کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ انھوں نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ حکومت ہر ایک کلو میٹر کے دائرے میں کم سے کم ایک سرکاری اسکول قائم کرے تاکہ سب کے لئے تعلیم کا ہدف حاصل ہوسکے۔ انہوں نے طلباء کو انگریزی اور کمپیوٹر میں ماہر بنانے کی بھی بات کہی، کیونکہ موجودہ دور میں تعلیم کاتصور روایتی طریقے سے ہٹ کر ڈیجیٹل نظام میں تبدیل ہوتا جارہاہے۔

ایجوکیشن پالیسی کے ڈرافٹ سے عیسائی طبقہ بھی ناراض

اس موقع پر فادر سنی جیکب نے مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس نئی پالیسی میں ہندوستان کی تعلیم میں عیسائیوں اور دیگر اقلیتوں کی حصہ داری کو نظر اندازکردیا گیا ہے اور ساتھ ہی آزادی کے بعد کے دور میں ہونے والی تعلیم میں شاندار ترقی کو بھی نظر انداز کیا گیا ہے۔ البتہ انہوں  نے ملک کی نئی تعلیمی پالیسی میں تنوع، مساوات، شمولیت، ٹکنالوجی کے استعمال، کمیونیٹی کی شرکت اور جدت طرازی اور تخلیقی صلاحیت جیسے عناصر کو متعارف کروانے کی پالیسی کی تعریف کی۔ ڈاکٹر نرمل جین پرنسپل برائے ہیرا لال جین سینئر سیکنڈری اسکول نے کہاکہ 62 صفحات کی اس نئی تعلیمی پالیسی میں ہندوستان کو علمی سپر پاور بنانے کی بات کہی گئی ہے مگر ایک بار بھی مسلم مدرسوں کا ذکر نہیں کیا گیا۔ یہ اقلیت کے ساتھ تفریق کی کھلی مثال ہے۔ ویبنار میں دہلی مائنارٹی کمیشن کے سابق چیئرمین کمال فاروقی، دہلی یونیورسٹی کے ریٹائرڈ ایکزام کنٹرولر ڈی ایس جگی اور سابق ڈی ایم سی ممبر ہرویندر کور نے شرکت کی۔
Published by: Nadeem Ahmad
First published: Sep 07, 2020 02:32 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading