ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

اقلیتی اداروں کی حالتِ زار کا حکومت اور مسلمان کون ہے بدحالی کا ذمہ دار ؟

  • Share this:
اقلیتی اداروں کی حالتِ زار کا حکومت اور مسلمان کون ہے بدحالی کا ذمہ دار ؟

لکھنؤ:  اتر پردیش میں اقلیتی اداروں کی حالتِ زار پر بار بار آوازاٹھائے جانے کے بعد بھی سدھار کی کوئی گنجائش نظر نہیں آرہی ہے۔ اہم اقلیتی اداروں کے ذمہ داریاں بھی بحیثیت مشیر اکثریتی طبقے سے تعلق رکھنے والے ان افسران کو دی گئی ہیں۔ جن پر پہلے سے بد عنوانیوں  میں ملوث ہونےکے الزامات ہیں اور اس پہ ستم یہ کہ انہیں کثیر رقم کی شکل میں اعزازیہ بھی پیش کیا جارہاہے۔

معروف سماجی کارکن اور صحافی عامر صابری کہتے ہیں کہ محسوس ہوتا ہے جیسے اقلیتی اداروں کے خلاف ایک منظم سازش ہورہی ہے حیرت کی بات یہ ہے۔گزشتہ ایک سال سے حج کمیٹی کی تشکیل نہیں کی گئی ہے اور مشورے کے لئے اکثریتی طبقے کے دو سبکدوش افسروں کو مشیر بنا کر ابھی تک بیس لاکھ سے زیادہ کی رقم ان کو  بطور مشیر اعزازی پیش کی جا چکی ہے۔اس سلسلے میں گزشتہ دنوں جب وزیر برائے اقلیتی بہبود محسن رضا سے بات کی گئی تھی تو انہوں نے یہی کہہ کر بات کو ٹال دیا تھا کہ معاملہ اہم ہے ہم دیکھ رہےہیں۔جلد ہی کارروائی کریں گے۔

چھ ماہ سے زیادہ کا عرصہ گزر کا ہے لیکن کارروائی ابھی تک  تو نہیں کی گئی ہے تاہم اعزازیہ مسلسل پیش کیا جارہاہے،یوپی مدرسہ تعلیمی بورڈ ، اتر پردیش ریاستی حج کمیٹی، اتر پردیش اقلیتی کمیشن، اور اتر پردیش اردو اکادمی کے بعد اب اتر پردیش سنی سنٹرل وقف بورڈ اور اتر پردیش شیعہ وقف بورڈ  بھی چئر مینوں سے مبرا ہو گئے ہیں۔


افسوس ناک بات یہ بھی ہے کہ حج کمیٹی کے مشیر وہ لوگ متعین کئے گئے جنہیں مذہب اور امورِحج کی بالکل جانکاری نہیں اور مدرسہ بورڈ کے چئر مین کی ذمہداریاں بھی پرنسپل سکرٹری یعنی اکثریتی طبقے کے ایک ایسے افسر کے سپرد کی گئی ہیں جس کے پاس نہ وقت ہے اور نہ وہ مدارس اسلامیہ کے بنیادی مقاصد و مفہوم سے واقف ہے۔ اس باب میں معروف رہنما یٰسین عثمانی کا کہنا ہے کہ  جس وقت حکومت مدارس کو گرانٹ دینے اور ان کے نظام کو تبدیل کرنے کی بات کر رہی تھی۔ اس وقت جو خدشے ظاہر کئے تھے وہ حقیقت میں تبدیل ہوتے نظر آتے ہیں۔

اس تباہی و بربادی کے لئے حکومت کے اقلیت مخالف منصوبے تو ذمہدار ہیں ہی لیکن خود مسلم طبقے کے رہنما ، علماء اور دانشور بھی کم ذمہدار نہیں ،سماج کے ذمہدار لوگوں کو چاہئے کہ وہ اقلیتی اداروں کے تحفظ اور انکو فعال کرنے کے لئے حکومت پر دباو بنائیں۔
First published: Jun 17, 2020 06:57 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading