ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

او آئی سی کی تنقید پر نقوی بولے۔ ہندوستان مسلمانوں کے لئے جنت، جنہیں نہیں دکھتا تو یہ ان کی دقت

اقلیتی وزیر نے کہا کہ اگر کوئی تعصب میں مبتلا ہو کر کسی قسم کی بات کر رہا ہے تو اسے اس ملک کی زمینی حقیقت کو دیکھنا چاہئے اور اسے قبول کرنا چاہئے۔

  • UNI
  • Last Updated: Apr 21, 2020 04:30 PM IST
  • Share this:
او آئی سی کی تنقید پر نقوی بولے۔ ہندوستان مسلمانوں کے لئے جنت، جنہیں نہیں دکھتا تو یہ ان کی دقت
مرکزی وزیر برائے اقلیتی امور مختار عباس نقوی کی فائل فوٹو

نئی دہلی۔ اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے ذریعہ ہندوستان میں ’ اسلاموفوبیا‘ کے مبینہ واقعات پر تشویش ظاہر کرنے کے کچھ دنوں کے بعد اقلیتی امور کے مرکزی وزیر مختار عباس نقوی نے کہا کہ سیکولر ازم اور ہم آہنگی ہندوستان اور ہندوستانیوں کے لئے 'سیاسی فیشن' نہیں بلکہ ’پرفیکٹ پیشن‘ ( جنون وجذبہ) ہے اور اسی باہمی اقدار اور پختہ عزائم نے دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کو کثرت میں وحدت کے فارمولہ میں باندھ رکھا ہے۔

نقوی نے منگل کو یہاں صحافیوں سے بات چیت میں کہا’’اقلیتوں سمیت ملک کے تمام شہریوں کے آئینی، سماجی اور مذہبی حقوق ہندوستان کی آئینی اور اخلاقی ضمانت ہے۔ کسی بھی حالت میں ہماری کثرت میں وحدت کی طاقت کمزور نہیں ہو سکتی۔ ہمیں ہوشیار اور متحد ہو کر ایسی قوتوں کے پروپیگنڈے کو شکست دینا ہے‘‘۔


انہوں نے کہا کہ فیک نیوز اور اشتعال انگیز باتوں اور افواہ پھیلانے والی سازش سے ہم لوگوں کو ہوشیار رہنا چاہئے۔ وزیراعظم نریندر مودی کی قیادت میں ہندوستان میں تمام شہریوں کی حفاظت کے لئے کام ہو رہا ہے۔ اس طرح کی سازش سے کورونا وائرس کے خلاف ملک کی اجتماعی جنگ کو کمزور نہیں ہونے دینا ہے۔ وزیر اعظم کی قیادت میں پورا ملک متحد ہوکر مذہب،علاقائیت،ذات پات کی تنگ قیود وحدود سے اوپر اٹھ کرکورونا وائرس کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے۔



مرکزی وزیر نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ہندوستان اقلیتوں کے لئے اور خاص طور پر مسلمانوں کے لئے جنت ہے۔ ان کے سماجی، اقتصادی، مذہبی حقوق ملک میں پختہ اور مستحکم ہیں۔ اگر کوئی تعصب میں مبتلا ہو کر کسی قسم کی بات کر رہا ہے تو اسے اس ملک کی زمینی حقیقت کو دیکھنا چاہئے اور اسے قبول کرنا چاہئے۔ اس ملک میں بڑی تعداد میں مسلم رہتے ہیں۔ ان کی گذشتہ ساڑھے پانچ برسوں کی حکومت کے کاموں کا تجزیہ کرکے دیکھیں گے تو پتہ چلتا ہے کہ سرکاری ملازمتوں میں ان کی تعداد بڑھی ہے، تعلیم کے میدان میں وہ آگے بڑھے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی اقتصادی طور پر خود کفیل بنانے کی سمت میں وہ آگے بڑھے ہیں۔ سماج کے دیگر طبقوں کی طرح مسلمان بھی اونچی شرح ترقی میں شراکت دار بنے ہیں۔ اگر ملک ترقی کر رہا ہے تو مسلمان بھی ترقی کر رہے ہیں۔

وزیر اعظم نریندر مودی جب بھی ہم وطنوں کی بات کرتے ہیں تو وہ 130 کروڑ ہندوستانیوں کے لئے بات کرتے ہیں اور وہ ہمیشہ سب کی خوشحالی اور ترقی کی بات کرتے ہیں اور اگر کسی کو یہ سب نہیں دکھائی پڑ رہی ہے تو یہ دیکھنے والوں کی دقت ہے۔ نقوی نے کہا کہ ملک کے تمام مسلم مذہبی رہنما ، اماموں، مذہبی، سماجی تنظیموں اور ہندوستان کے مسلم سماج نے مشترکہ طور پر 24 اپریل سے شروع ہو رہے رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں گھروں پر ہی رہ کر عبادت، افطار اور دیگر مذہبی فرائض کو پورا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

مرکزی وزیر نے کہا کہ کورونا وائرس کے قہر سے رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں مذہبی، عوامی، ذاتی اراضی پرلاک ڈاؤن، کرفیو، سوشل ڈسٹنسنگ کا مؤثر طریقے سے عمل کرنے اور لوگوں کو اپنے اپنے گھروں پر ہی رہ کر عبادت وغیرہ کے لئے بیدار کرنے کے لئے ملک کے 30 سے زیادہ ریاستی وقف بورڈز نے مسلم مذہبی رہنماؤں، اماموں، مذہبی-سماجی تنظیموں، مسلم سماج اور مقامی انتظامیہ کے ساتھ مل کر کام شروع کر دیا ہے۔ پورا ملک متحد ہوکرکورونا وائرس کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے۔
Published by: Nadeem Ahmad
First published: Apr 21, 2020 03:33 PM IST