உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    مرکزی حکومت مسلمانوں کی ترقی کے تئیں سنجیدہ: مختار عباس نقوی کا دعویٰ

    مختار عباس نقوی ۔ فائل فوٹو

    مختار عباس نقوی ۔ فائل فوٹو

    نیوز 18 اردو سے خصوصی بات چیت میں اقلیتی وزیر نے دعویٰ کیا کہ حکومت مسلمانوں کی ترقی کے تئیں سنجیدہ ہے اور ان اضلاع کی ترقی کے لئے کام کئے جا رہے ہیں۔

    • Share this:

      نئی دہلی۔  نیتی آیوگ نے گزشتہ روز 101 پسماندہ اضلاع کی فہرست جاری کی ہے جس کا ایک سیاہ پہلو یہ بھی ہے کہ سب سے نچلی پائیدان پر کھڑے 20 اضلاع میں سے 11 مسلم اکثریتی اضلاع ہیں۔ نیتی آیوگ کی اس فہرست پر اقلیتی امور کے مرکزی وزیر مختار عباس نقوی نے اپنی تشویش ظاہر کی ہے۔


      نیوز 18 اردو سے خصوصی بات چیت میں اقلیتی وزیر نے دعویٰ کیا کہ حکومت مسلمانوں کی ترقی کے تئیں سنجیدہ ہے اور ان اضلاع کی ترقی کے لئے کام کئے جا رہے ہیں۔ اعداد وشمار سے اتفاق کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میں مانتا ہوں کہ مسلمان بہت پسماندہ ہیں اور ان کو آگے بڑھانے کے لئے ماضی میں کوئی ٹھوس پیش رفت نہیں کی گئی۔ مرکزی وزیر نے کہا کہ تاہم ہماری حکومت کی طرف سے کوشش جاری ہے، لیکن وہ بھی ناکافی ہے۔ ابھی مسلمانوں کے لئے بہت کچھ کیا جانا باقی ہے۔


      وزیر موصوف نے کہا کہ مسلمانوں کو جذباتی اور اشتعال انگیز مدعوں میں الجھانے کے بجائے انہیں مین اسٹریم میں لانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ نکسل زدہ سکما ضلع سے بھی زیادہ پسماندہ مسلم اکثریتی اضلاع ہیں۔ لہذا وزیر اعظم نریندر مودی نے ان تمام اضلاع میں بغیر کسی بھید بھاو کے کام کرنے کو کہا ہے اور مودی حکومت اس معاملہ میں سنجیدہ ہے۔


      خیال رہے کہ 2006 میں سچر کمیٹی کی رپورٹ آنے کے بعد مسلمانوں کی پسماندگی پر مہر ثبت ہوگئی تھی۔ مگر اس کے بعد سے اب تک صرف اور صرف سیاست ہی کی گئی ہے۔رپورٹ کے آج 12 سال گزر جانے کے بعد بھی نیتی آیوگ نے پسماندہ اور بیک ورڈ اضلاع کی جو فہرست جاری کی ہے ، اس میں سب سے نچلی پائیدان کے 20 اضلاع میں سے 11 مسلم اکثریتی اضلاع ہیں۔ مسلم دانشوروں اور لیڈروں کا کہنا ہے کہ حکومتوں نے مسلمانوں کو دھوکہ دیا ہے۔ سیاسی پارٹیاں مسلمانوں کا ووٹ تو لیتی رہی ہیں ، لیکن ان کیلئے انہوں نے کوئی کام نہیں کیا۔ جبکہ کئی دانشوروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ ان حالات کیلئے مسلمان خود بھی ذمہ دار ہیں۔


      ترقی کے سب سے نچلے پائیدان پر کھڑے اضلاع


      میوات ، ہریانہ


      آصف آباد ، تلنگانہ


      سنگرولی ، مدھیہ پردیش


      کپہر ، ناگالینڈ


      شراوستی ، اترپردیش


      بہرائچ ، اترپردیش


      بلرام پور ، اترپردیش


      سدھارتھ نگر ، اترپردیش


      نمسائی ، اروناچل پردیش


      سکما ، چھتیس گڑھ


      ارریہ ، بہار


      صاحب گنج ، جھارکھنڈ


      کٹیہار ، بہار


      چندیل ، منی پور


      درنرگ ، آسام


      پاکر ، جھارکھنڈ


      پورنیہ ، بہار


      گوال پاڑہ ، آسام


      سون بھدر ، اترپردیش


      بانکا ، بہار


      جیسلمیر ، راجستھان


      حیرانی کی بات یہ ہے کہ دہلی سے صرف 80 کلو میٹر دور میوات ، جو کہ مسلم اکثریتی ضلع ہے ، ملک کا سب سے پسماندہ ضلع ہے۔ اترپردیش کے بہرائچ اور بلرامپور جیسے مسلم اکثریتی اضلاع نکسل متاثرہ سکما سے بھی نیچے دکھائی دیتے ہیںجبکہ بہار کے ارریہ اور کٹیہار جیسے مسلم اکثریتی اضلاع اور جھارکھنڈ کا صاحب گنج ضلع سکما کےساتھ کھڑا ہے۔


      خرم شہزاد کی رپورٹ


      First published: