ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

عازمین حج کے لئے انکم ٹیکس ریٹرن پر وزارت اقلیتی امور اور وزارت خزانہ کے درمیان پھنسا پینچ

اگر آپ نے 2019 میں سعودی عرب، ایران یا کسی دوسرے ملک کا سفر کیا ہے اور اگر اس سفر پر دو لاکھ سے زیادہ لاگت آئی ہے اور آپ نے انکم ٹیکس ریٹرن داخل نہیں کیا ہے تو 31 دسمبر تک ریٹرن فائل کریں ورنہ آپ پر 10 ہزار روپے جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے۔

  • Share this:
عازمین حج کے لئے انکم ٹیکس ریٹرن پر وزارت اقلیتی امور اور وزارت خزانہ کے درمیان پھنسا پینچ
فائل فوٹو

نئی دہلی۔ اگر آپ نے 2019 میں سعودی عرب، ایران یا کسی دوسرے ملک کا سفر کیا ہے اور اگر اس سفر پر دو  لاکھ سے زیادہ لاگت آئی ہے اور  آپ نے انکم ٹیکس ریٹرن داخل نہیں کیا ہے تو 31 دسمبر تک ریٹرن فائل کریں ورنہ آپ  پر 10 ہزار روپے جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے۔


اگرچہ ہر سال لاکھوں افراد بیرون ملک سفر کرتے ہیں، لاکھوں خرچ کرتے ہیں لیکن ایک بڑی تعداد سعودی عرب اور ایران جیسے ممالک میں بھی مذہبی سفر پر جاتی ہے ، لیکن اگر آپ حج یا مذہبی زیارت پر جاتے ہیں اور 2019 میں آپ کے سفر پر دو لاکھ روپے خرچ ہو گئے یا پھر کسی اور کے لیے اگر آپ نے اخراجات اٹھائے ہیں تو آپ کو فنانس ایکٹ 2019 کے تحت انکم ٹیکس ریٹرن جمع کروانا ہوگا۔


فنانس ایکٹ 2019 کا سیکشن 139


دراصل، فنانس ایکٹ 2019 کی دفعہ 39 کے تحت یہ ضروری ہے کہ اگر آپ نے ایک کروڑ سے زیادہ کا لین دین کیا ہے یا خود یا کسی اور کے غیر ملکی سفر پر دو لاکھ سے زیادہ خرچ کیا ہے تو ریٹرن داخل کرنا ضروری ہے۔

اس سارے معاملے میں گلزار کرشمہ  ملک جو پیشے سے ایک چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ ہیں، انہوں نے اس بابت وزارت کو آگاہ کیا ہے۔وہ بتاتی ہیں کہ محکمہ انکم ٹیکس کے ذریعہ تفصیلات مانگی جارہی ہیں۔ ہمارے بہت سے کلائنٹ ہیں ہم یہی کام کرتے ہیں۔ محکمہ انکم ٹیکس  کے ذریعہ تفصیلات مانگی جا رہی ہیں اور اگر 31 دسمبر دو ہزار بیس تک انکم ٹیکس ریٹرن فائل نہیں کیا تو دس ہزار روپے کا جرمانہ لگے گا۔

ہمسایہ ممالک کے مذہبی سفر کو دیا گیا ہے استثناء

حالانکہ، اس ایکٹ میں ہمسایہ ممالک کے مذہبی دوروں کو انکم ٹیکس گوشواروں سے خارج  کیا گیا ہے۔ دوسرے لفظوں میں اگر کہا جائے تو نیپال، پاکستان، سری لنکا، بنگلادیش اور برما کے مذہبی سفر پر جانے والے لوگوں کو انکم ٹیکس ریٹرن فائل نہیں کرنا پڑے گا۔

وزارت خزانہ کے ساتھ مسئلے کو سلجھا لیا جائے گا: مختار عباس نقوی

وزارت اقلیت اور حج امور کے وزیر مختار عباس نقوی نے اس پورے معاملے کی تصدیق کرتے ہوئےکہا ہے کہ وزارت خزانہ کو اس سلسلے میں ایک خط بھی لکھا گیا ہے اور ان سے گفت و شنید کی جا رہی ہے۔ جو حاجی سعودی عرب جانے کے اہل ہیں وہ حج پر ضرور جائیں گے۔ اس پورے معاملے کی حساسیت  کے پیش نظر وزارت خزانہ کے ساتھ مل کر مسئلے کو حل کرلیا جائے گا۔ غور طلب ہے کہ 2020 میں عازمین حج پر نہیں جا سکے تھے تاہم  2019 میں ہندوستان سے سعودی عرب حج جانے والے افراد کی تعداد ہی 2 لاکھ ہے اور اگر یہ لوگ 31 دسمبر تک اپنا ریٹرن داخل نہیں کرتے ہیں تو  10000 کا جرمانہ عائد کیا جاسکتا ہے اور ان سب کو ڈیفالٹر سمجھا جائے گا۔ بہرحال اس پورے معاملے میں اب پینچ پھنسا ہوا ہے۔
Published by: Nadeem Ahmad
First published: Dec 18, 2020 09:53 AM IST