ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

ہیں اور بھی دنیا میں سخن ور بہت اچھے، کہتے ہیں کہ غالب کا ہے انداز بیاں اور

غالب کی پیدائش 27 دسمبر 1796 کو آگرہ میں ایک فوجی پس منظر والے خاندان میں ہوئی تھی۔

  • Pradesh18
  • Last Updated: Dec 27, 2016 04:04 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
ہیں اور بھی دنیا میں سخن ور بہت اچھے، کہتے ہیں کہ غالب کا ہے انداز بیاں اور
فائل فوٹو

نئی دہلی۔ ہیں اور بھی دنیا میں سخن ور بہت اچھے، کہتے ہیں کہ غالب کا ہے انداز بیاں اور۔ صحیح کہتے ہیں غالب کا انداز بیان سب سے جدا ہے۔ یہ دعویٰ کوئی غلط دعویٰ بھی نہیں تھا۔ اس لئے کہ غالب کو مشکل ترین موضوعات کو انتہائی سادگی اور سلاست کے ساتھ بیان کر دینے کے فن پر کمال حاصل تھا۔ اردو اور فارسی کے مشہور شاعر مرزا اسد اللہ خان غالب کی آج سالگرہ ہے۔


غالب کی پیدائش 27 دسمبر 1796 کو آگرہ میں ایک فوجی پس منظر والے خاندان میں ہوئی تھی۔ آگرہ کی جس حویلی میں غالب کی پیدائش ہوئی تھی، وہ جودھپور کے بادشاہ سورج سنگھ کے بیٹے گج سنگھ کی تھی۔


مغل بادشاہ کی طرف سے نجم الدولہ، دبیر الملک اور نظام جنگ کے خطابات عطا ہوئے، غالب ان کا تخلص تھا اور اس کا اثر ان کے کلام پر بھی رہا، کوئی انہیں مغلوب نہ کر سکا۔


پانچ سال کی عمر میں والد کی وفات کے بعد غالب اپنے چچا کے ہاں رہنے لگے تاہم چار سال بعد چچا کا سایہ بھی ان کے سر سے اٹھ گیا۔

غالب نے لڑکپن سے ہی شعر کہنا شروع کردیئے تھے، شادی کے بعد غالب دہلی منتقل ہوگئے، جہاں انھوں نے ایک ایرانی باشندے عبد الصمد سے فارسی کی تعلیم حاصل کی۔

غالب اردو اور فارسی میں شعر کہتے تھے تاہم فارسی شاعری کو زیادہ عزیز جانتے تھے۔

آگرہ سے ہے مرزا غالب کا رشتہ

آگرہ شہر کے بازار سیتارام کی گلی قاسم جان میں واقع حویلی میں غالب نے اپنی زندگی کا طویل وقت گزارا ہے۔ اس حویلی کو میوزیم کی شکل دے دیا گیا ہے جہاں پر غالب کا کلام بھی دیکھنے کو ملتا ہے۔ پیار سے انہیں لوگ مرزا نوشا کے نام سے پکارتے تھے۔

غالب اور اسد نام سے لکھنے والے مرزا مغل دور کے آخری حکمراں بہادر شاہ ظفر کے درباری شاعر بھی رہے ہیں۔ آگرہ، دہلی اور کلکتہ میں اپنی زندگی گزارنے والے غالب کو بنیادی طور پر ان کی اردو غزلوں کے لئے یاد کیا جاتا ہے۔ انہوں نے اپنے بارے میں خود ہی لکھا تھا کہ دنیا میں بہت سے شاعر ضرور ہیں، لیکن ان کا لہجہ سب سے نرالا ہے۔

غالب کے چند مشہور اشعار

یہ عشق نہیں آساں، بس اتنا سمجھ لیجئے / اک آگ کا دریا ہے اور ڈوب کر جانا ہے

 ان کے دیکھے سے جو آ جاتی ہے چہرے پر رونق / وہ سمجھتے ہیں کہ بیمار کا حال اچھا ہے

 عشق نے غالب نکما کر دیا / ورنہ ہم بھی آدمی تھے کام کے

 کوئی میرے دل سے پوچھے تیرے تیر-نيم كش کو / یہ خلش کہاں سے ہوتی جو جگر کے پار ہوتا

 ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے / بہت نکلے میرے ارمان لیکن پھر بھی کم نکلے
First published: Dec 27, 2016 04:03 PM IST