உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    کہاں گئے اے این -32 کے وہ 29 لوگ، خاموش کیوں ہے حکومت؟ خاندانوں کی گہار: بچے نہیں لوٹا سکتے، جواب تو دو

    ہندوستانی فضائیہ کے طیارے اے این -32 کے ساتھ ہوئے اس حادثے کو پورے چار ماہ ہو چکے ہیں۔ اس کے بعد سے اب تک نہ تو طیارے کا کچھ پتہ چلا ہے اور نہ اس میں سوار 29 افراد کی ہی کوئی خبر ہے۔

    ہندوستانی فضائیہ کے طیارے اے این -32 کے ساتھ ہوئے اس حادثے کو پورے چار ماہ ہو چکے ہیں۔ اس کے بعد سے اب تک نہ تو طیارے کا کچھ پتہ چلا ہے اور نہ اس میں سوار 29 افراد کی ہی کوئی خبر ہے۔

    ہندوستانی فضائیہ کے طیارے اے این -32 کے ساتھ ہوئے اس حادثے کو پورے چار ماہ ہو چکے ہیں۔ اس کے بعد سے اب تک نہ تو طیارے کا کچھ پتہ چلا ہے اور نہ اس میں سوار 29 افراد کی ہی کوئی خبر ہے۔

    • IBN Khabar
    • Last Updated :
    • Share this:
      نئی دہلی۔ وہ 22 جولائی کی صبح تھی۔ ٹھیک 8.30 بجے تانبرم (چنئی) اسٹیشن سے ایئر فورس کے اے این -32 طیارے نے پورٹ بلیئر کے لئے پرواز بھری۔ یہ ایک معمول کی پرواز تھی۔ ایک ہفتے میں ایسی دو پروازیں بھری جاتی ہیں۔ طیارے کو پرواز ہوئے ابھی 30 منٹ ہی ہوئے تھے کہ پائلٹ نے ایئر ٹریفک کنٹرولر (اے ٹی سی) سے موسم خراب ہونے کی شکایت کی۔ راستہ تبدیل کرنے کی بھی بات کہی۔ لیکن اچانک یہ رابطہ ٹوٹ گیا۔ ذرائع کی مانیں تو جہاز کو مسلسل ریڈار پر دیکھا جا رہا تھا۔ قریب 9.20 بجے طیارہ ہوا میں غوطے لگاتا نظر آیا۔ یہ آخری موقع تھا جب طیارے کو ریڈار پر دیکھا گیا۔ اس کے بعد سے اے این -32 کا کوئی پتہ نہیں چلا ہے۔ طیارے میں ایئر فورس، نیوی، کوسٹ گارڈ کے افسر اور آٹھ عام شہریوں سمیت 29 افراد سوار تھے۔

      ہندوستانی فضائیہ کے طیارے اے این -32 کے ساتھ ہوئے اس حادثے کو پورے چار ماہ ہو چکے ہیں۔ اس کے بعد سے اب تک نہ تو طیارے کا کچھ پتہ چلا ہے اور نہ اس میں سوار 29 افراد کی ہی کوئی خبر ہے۔ حادثے کے بعد سے غائب لوگوں کے لواحقین ہر جگہ فریاد لگا چکے ہیں لیکن نہ تو حکومت اور نہ ہی ایئر فورس اور نیوی ان کے سوالات کا جواب دے پائی ہے۔ یہاں تک کہ سمندر کے اندر تلاش آپریشن بھی محض اس وجہ سے روک دی گئی ہے کیونکہ روبوٹ آپریٹ وہیکل (آر او وی) خراب ہو چکا ہے اور اسے ابھی تک ٹھیک نہیں کروایا گیا۔

      ایسے میں حکومت کے خلاف اہل خانہ کا غصہ بڑھ رہا ہے۔ لواحقین طیارے کو اغواء کئے جانے کا خدشہ بھی ظاہر کر رہے ہیں۔ میڈیا میں بھی مارچ 2014 میں لاپتہ ہوئے ملائیشیا ایئر لائنز کے طیارےایم ایچ 370 کی جتنی چرچا ہوئی، اتنی خود اپنے اے این -32 طیارے کو لے کر نہیں ہوئی۔ نیوز 18 انڈيا ڈاٹ کام نے طیارے میں سوار لیفٹیننٹ دیپکا شیرون، فلائنگ افسر پنکج نادیل اور فلائنگ افسر پشپیندر بڑسارا کے اہل خانہ سے بات چیت کی تو پتہ چلا کہ اس انتہائی حساس معاملے میں حکومت کتنی لاپرواہی برت رہی ہے۔

      کوئی تو بتاو میری بیٹی دیپکا گھر کب لوٹے گی؟

      نام : فلائٹ لیفٹیننٹ دیپکا شیرون، عمر 26 سال، باشندہ بھوانی، ہریانہ: 2013 میں دیپکا ایئر فورس میں افسر بنی تھیں۔ ان کے شوہر کلدیپ کوسٹ 2 گارڈ میں اسسٹنٹ کمانڈنٹ ہیں۔ میاں بیوی دونوں کی تعیناتی پورٹ بلیئر میں ہی ہے۔ دیپکا کے والد دلیپ شیرون کو بیٹی کے آنے کا انتظار ہے۔ اسی انتظار میں باپ نے گھر میں دیپ جلا رکھی ہے۔ ایک ہی سوال انہیں پریشان کرتا ہے کہ میری بیٹی گھر کب آئے گی؟

      کوئی تو بتائے کہ طیارے کا تیل کہاں گیا؟

      نام: فلائنگ افسر پنکج ناندیل، عمر 25 سال، باشندہ روہتک، ہریانہ۔ پنکج ناندیل کے والد کرشن ناندیل خود بھی ایئر فورس سے ریٹائرڈ ہیں۔ اس کے چلتے طیارہ حادثہ کی عام اور تکنیکی معلومات کے بارے میں ان کی اپنی بھی معلومات اچھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تکنیکی طور پر اٹھائے گئے ان سوالوں کے جواب نہ تو ایئر فورس اور نہ ہی حکومت کے پاس ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ یہی بتا دو کہ طیارے کا ہزاروں لیٹر تیل جو پانی کے اوپر آ جانا چاہیے تھا، وہ کہاں گیا۔ ان کا ایک ہی مطالبہ ہے کہ کوئی ان سوالوں کا جواب دے دے بس۔

      کیا چین نے اغوا کیا اے این -32 طیارہ؟

      3

      نام فلائٹ لیفٹیننٹ پشپیندر بڑسارا، عمر 24 سال، رہائشی ہریانہ

      فلائٹ لیفٹیننٹ پشپیندر بڑسارا کے والد اے ایس بڑسارا کا کہنا ہے کہ سرچ آپریشن کے دوران کچھ تو ایسا ملتا کہ جس سے ہمیں صبر آ جاتا کہ واقعی طیارہ پانی میں ہی ڈوب گیا ہے۔ ایک آر او وی کے چلتے آپریشن کو درمیان میں روک کر حکومت نے بہت بڑا دھوکہ کیا ہے۔ کچھ مشینری اور ٹیکنالوجی کرایہ پر لے کر آپریشن چلایا جا سکتا ہے۔ اگر طیارہ پانی میں ہوتا تو کچھ تو ملتا۔ کیا یہ ممکن نہیں ہے کہ چین نے طیارے کو ہائی جیک کر لیا ہو۔ ابھی تو ہم جانچ رپورٹ کا انتظار کر رہے ہیں۔

      اہل خانہ کو ان سوالات کے نہیں مل رہے جواب

      تانبرم (چنئی) سے پورٹ بلیئر کے درمیان کیوں طیارے کا کسی بھی ایئر ٹریفک کنٹرولر (اے ٹی سی) سے کوئی رابطہ نہیں رہتا ہے؟

      روبوٹ آپریٹ وہیکل تلاش آپریشن کے دوران خراب ہو گیا تھا، اسے ابھی تک ٹھیک کراکر آپریشن دوبارہ شروع کیوں نہیں کیا گیا؟

      طیارے میں انڈر واٹر لوکیٹر بیکن کیوں نہیں تھا؟ بیکن پانی کے اندر سے سگنل دیتا تو وقت رہتے طیارے کا پتہ لگ جاتا لیکن 1300-1400 کلومیٹر تک پانی کے اوپر اڑائے جانے والے اس طیارے میں یہ بیکن تھا ہی نہیں۔ لائف جیکٹ، کشتی اور ہوائی جہاز کا ہزاروں لیٹر تیل جیسی بہت ساری ایسی ہلکی چیز ہیں جو پانی میں اوپر آ جاتی ہیں، لیکن اس طیارے کا یہ سامان کہاں ہے؟

      4

      ہوائی جہاز کے اندر تین طرح کے سگنل دینے والے آلات ہوتے ہیں، ان تمام آلات سے کوئی سگنل کیوں نہیں ملا؟

      آر اووی خراب ہونے پر کیوں انٹرنیشنل مارکیٹ سے نیا نہیں خریدا، نہ ہی کرائے پر لیا گیا؟

      حکومت اس بات کو کیوں نظر انداز کر رہی ہے کہ چین بھی ہائی جیک کر طیارے کو لے جا سکتا ہے؟

      ایئر فورس اور نیوی نے تو اپنا کام کیا، لیکن وزارت دفاع اس پورے معاملے میں سامنے کیوں نہیں آ رہی ہے؟

      وزیر دفاع منوہر پاریکر سے ہم نے ملنے کا وقت مانگا، ہمیں اب تک وقت کیوں نہیں دیا گیا؟

      کیوں سینکڑوں کلومیٹر تک طیارے سے نہیں رہتا رابطہ ؟

      طیارے میں سوار لوگوں کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ تانبرم سے پرواز بھرنے کے بعد طیارہ 300 کلومیٹر تک تو تانبرم کے رابطے میں رہتا ہے۔ لیکن اس کے بعد کئی سو کلومیٹر تک اس کا کسی سے رابطہ نہیں رہتا۔ وہ صرف ایک ڈائریکشن انڈيكیٹر کے بھروسے اپنی مزید پرواز پوری کرتا ہے۔ بس پورٹ بلیئر پہنچنے سے قریب 280 کلومیٹر پہلے پورٹ بلیئر میں لگے ریڈار کے رابطے میں آ جاتا ہے۔ کیا حکومت اس کی واپسی کو نظر انداز کر رہی ہے؟

      نہیں ملا ایئر فورس سے جواب

      نیوز 18 انڈیا ڈاٹ کوم نے 19 نومبر کو ایک ای میل بھیج کر ایئر فورس کے پی آر او انوپم بنرجی سے اے این -32 معاملے سے جڑے سوالوں پر جواب مانگے تھے، لیکن اس کا کوئی جواب نہیں آیا۔ دوبارہ فون پر جب بات کی گئی تو انہوں نے کہا کہ اسے لے کر فی الحال الگ الگ ونگ سے بات چیت کی جا رہی ہے۔

      آر او وی خراب، 50 دن سے رکا ہے سرچ آپریشن

      تلاش آپریشن میں آر او وی کا استعمال کیا گیا تھا۔ 15-20 ٹارگٹ اسے تلاش کرنے تھے۔ لیکن آر او وی تین چار ٹارگٹ کے بعد ہی خراب ہو گیا اور اسے آپریشن سے ہٹا لیا گیا۔ آر او وی کو ٹھیک کرکے دوبارہ آپریشن شروع کرنے کی بات کہی جا رہی تھی، لیکن اب تک آپریشن شروع نہیں ہوا ہے۔ کیا 29 خاندانوں کے درد سے زیادہ ہے آر او وی کے صحیح ہونے کی قیمت؟

      شہید کا درجہ نہ دینا بن سکتا ہے بڑا مسئلہ

      طیارے میں موجود تمام لوگوں کو مردہ قرار دیا جا چکا ہے لیکن متاثرہ خاندانوں کا درد یہ ہے کہ مرنے والوں کو شہید قرار نہ دے کر حکومت بے رخی دکھا رہی ہے۔ ایئر فورس کے افسر پنکج ناندیل، دیپکا شیرون اور پشپیندر کے والد ابھی تک اپنے بچوں کو شہید کا درجہ نہ دیئے جانے سے بے حد ناراض ہیں۔

      تیار ہو چکی ہے جانچ رپورٹ

      ذرائع کی مانیں تو اے این -32 طیارے کے کریش ہونے کی جانچ رپورٹ تیار ہو چکی ہے۔ رپورٹ فضائیہ سربراہ کو بھی دی جا چکی ہے۔ امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ متاثرہ خاندانوں کے ساتھ زبانی طور پر انکوائری رپورٹ کے کچھ پہلوؤں پر بحث کی جا سکتی ہے۔ اس کے پیچھے مقصد یہ بتایا جا رہا ہے کہ متاثرہ خاندانوں کو اس معاملے پر تسلی دی جا سکے۔

      سرچ آپریشن بند کرنا ٹھیک نہیں: کپل کاک

      ایئر وائس مارشل (ریٹائرڈ) کپل کاک کا کہنا ہے کہ آر او وی کوئی اتنی مہنگی چیز نہیں ہے کہ اسے خریدا نہیں جا سکے یا پھر خراب آر او وی کو اتنے دن بعد بھی صحیح نہیں کیا جا سکے۔ تلاش آپریشن بند کرنا ٹھیک نہیں ہے۔ کچھ غیر ملکی کمپنیاں کرایہ پر بھی آر او وی دیتی ہیں۔ کرایہ کی سہولت لے کر بھی تلاش آپریشن چلایا جا سکتا ہے۔ تانبرم اور پورٹ بلیئر کے درمیان ریڈار نہیں ہونے کا بھی حل نکالا جانا چاہئے۔

      ناصر خان کی رپورٹ
      First published: