ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

دہلی موب لنچنگ: 8 سالہ معصوم طالب علم کے اہل خانہ کا انصاف کا مطالبہ، کیجریوال کا کوئی نمائندہ نہ پہنچنے سے بھی ناراضگی

مالویہ نگرکے بیگم پورگاوں واقع جامعہ مسجد سرائے شاہ جی علاقے میں بڑی تعداد میں پولیس فورس تعینات کردی گئی ہے۔

  • Share this:
دہلی موب لنچنگ: 8 سالہ معصوم طالب علم کے اہل خانہ کا انصاف کا مطالبہ، کیجریوال کا کوئی نمائندہ نہ پہنچنے سے بھی ناراضگی
مدرسے کا 8 سالہ محمد عظیم، جسے دہلی کے مالویہ نگر علاقے میں قتل کردیا گیا۔ فائل فوٹو

دارالحکومت دہلی میں ہجومی تشدد کے ذریعہ مدرسہ کے 8 سالہ معصوم طالب علم محمد عظیم کے قتل   کے بعد ایک بارپھرموب لنچنگ پرسوال اٹھنے لگے ہیں۔ مقتول کے اہل خانہ کا واضح طور پرکہنا ہے کہ ہمیں انصاف چاہئے۔ دوسری طرف کچھ لوگوں کا مطالبہ ہے کہ اہل خانہ کو معاوضہ دیا جائے۔  اس واقعہ سے لوگوں میں زبردست ناراضگی پائی جارہی ہے۔ وہیں دوسری طرف علاقہ میں  بڑی تعداد میں پولیس فورس تعینات کردی گئی ہے۔


موصولہ اطلاعات کے مطابق متوفی طالب علم کی نماز جنازہ آج مالویہ نگرکے بیگم پور گاوں واقع جامعہ مسجد سرائے شاہ جی میں آج نمازجمعہ کے بعد ادا کئے جانے کا منصوبہ ہے، لیکن 12 بجے تک لاش نہیں مل سکی ہے، جس کے بعد ایسا ہونا ممکن نظرنہیں آرہا ہے۔  دوسری طرف بڑی تعداد میں لوگ وہاں پہنچنے ہوئے ہیں۔ امید کی جارہی ہے کہ پوری دہلی سے بڑی تعداد میں لوگ نمازجنازہ میں شریک ہوسکتے ہیں۔


کیجریوال کی خاموشی افسوسناک


اس معاملے کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ ہرچھوٹی بڑی بات پر بی جے پی کوگھیرنے اوروزیراعظم نریندرمودی پرسوال اٹھانے والے دہلی کے وزیراعلیٰ اروند کیجریوال اس معاملے پر بالکل خاموش ہیں۔ نہ تو انہوں نے کوئی ٹوئٹ کیا ہے اورنہ ہی ان کا کوئی نمائندہ مدرسے تک پہنچا ہے اورنہ اہل خانہ سے ملاقات کرنے کی ہمت ہوئی۔ جبکہ یہی اروند کیجریوال ہیں جنہوں نے لکھنو کے وویک تیواری قتل معاملے پرایک سخت ٹوئٹ کرتے ہوئے بی جے پی سے سوال پوچھا تھا "وویک تیواری توہندو تھا، پھراسے کیوں مارا گیا؟ بی جے پی لیڈر پورے ملک میں ہندو لڑکیوں کی آبروریزی کرتے ہوئے گھومتے ہیں"۔ تاہم جب کیجریوال کی ریاست میں یہ حادثہ رونما ہوا، تو وہ اس پر خاموش ہیں۔

اس سے قبل پولیس نے اس معاملے میں ایف آئی آردرج کرلیا ہے اورچارملزمین کوحراست میں لے لیا گیا ہے۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ کا انتظارہے، اس کے بعد یہ دیکھنا ہوگا کہ پولیس آگے کیا کارروائی کرتی ہے۔ اس کے علاوہ پولیس نے جن بچوں کو گرفتارکیا ہے، وہ نابالغ بتائے جارہے ہیں۔ اس لئے انہیں چائلڈ ہوم بھیج دیا گیا ہے۔

اس حادثہ کے بعد ایک بارپھرمذہب اورذات کی بنیاد پرپیش آنے والے واقعات پرسیاسی، سماجی اورمذہبی رہنماوں نے سخت تشویش کا اظہارکرتے ہوئے اسے نفرت پیدا کرنے کے لئے حکومت کو مورد الزام ٹھہرایا ہے۔

یہی ہے نیوانڈیا: عمیق جامعی

سماجوادی پارٹی کے قومی ترجمان اورنوجوان لیڈرعمیق جامعی نے اپنے فیس بک پوسٹ میں لکھا ہے "پہچان اورپہناوے کے نام پربچپن کو اگنے کھلنے سے پہلے کچل دیا گیا ہے، کیا فرق پڑتا ہے کسی پنچکربنانے والے کے بچے کا جانا کیا بری خبرہے، بھیڑ بنادی گئی ہے وہ اپنا کام کررہی  ہے۔ کیونکہ یہی ہے نیوانڈیا، یہی ہے بی جے پی کا اصلی انڈیا"۔



خدا کبھی معاف نہیں کرے گا: شہلا راشد

دوسری طرف جے این یو طلبہ یونین کی سابق نائب صدر شہلا راشد نے ایک سخت ٹوئٹ کرتے ہوئے وزیراعظم نریندرمودی کو ٹیگ کیا ہے۔  شہلا راشد نے  لکھا ہے "مسلمانوں کے خلاف ہندوستان میں نفرت پر مبنی جرائم میں اضافہ ہورہا ہے۔ ایک حیران کن واقعہ جس میں ایک ساڑھے سات سالہ لڑکے عظیم کوماردیا گیا، خدا کبھی معاف نہیں کرے گا"۔



واضح رہے کہ گزشتہ روز جمعرات کو مالویہ نگر کے بیگم پورواقع جامعہ فریدیہ مسجد سرائے شاہ میں بچوں کی چھٹی ہونے کے بعد بچے پاس کے ہی میدان میں کھیل رہے تھے، تبھی وہاں کے کچھ مقامی بچوں سے کہا سنی ہوگئی۔ اس دوران میوات کے رہنے والے 8 سالہ معصوم طالب علم محمد عظیم کا قتل کردیا گیا۔ اطلاع ملنے کے بعد جب مقتول کو مدن موہن مالویہ اسپتال میں داخل کرایا گیا توڈاکٹروں نے اسے مردہ قرار دے دیا۔ اس کے بعد علاقے میں زبردست ناراضگی پائی جارہی ہے۔

موب لنچنگ جیسے واقعات نہ روک پانے کے لئے مرکزی حکومت کو ذمہ دار ٹھہرایا جارہا ہے۔ دراصل گزشتہ دنوں میں اس طرح کے حادثات کا رونما ہونا عام بات ہوتی جارہی ہے۔ حد تو یہ ہے کہ عدالت عظمیٰ کے سخت احکامات کے بعد بھی یہ سلسلہ رکنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ اس لئے اب سیاسی جماعتوں کے رہنما بھی اسے حکومت کی ناکامی سے تعبیرکررہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   ہجومی تشدد کو لے کر ریاستوں کے رخ پرسپریم کورٹ برہم ، 8 ریاستوں سے جواب طلب

یہ بھی پڑھیں:   الورموب لنچنگ: قتل کے ملزمین کووشوہندوپریشد نے بتایا بھگت سنگھ، چندرشیکھراورراج گرو

یہ بھی پڑھیں:   موب لنچنگ: نوجوان کا پیٹ پیٹ کرقتل، نہ توپولیس میں شکایت اور نہ ہی کوئی کارروائی!۔

یہ بھی پڑھیں:     ہجومی تشدد پر سپریم کورٹ نے پھر تشویش کا اظہار کیا ، ریاستی حکومتوں سے اسٹیٹس رپورٹ طلب
First published: Oct 26, 2018 12:35 PM IST