உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Niti Aayog: موڈرنااورفائزرویکسین کےمنفی اثرات کی ذمہ داری نہیں اٹھاتا، رکن نیتی آیوگ کا بیان

    ڈاکٹر وی کے پال (Dr VK Paul)

    ڈاکٹر وی کے پال (Dr VK Paul)

    معاوضے کا مطلب یہ ہوگا کہ ان کی پہلی جنریشن کی ویکسین کے کسی بھی حادثے یا منفی اثرات کی صورت میں دوا ساز کمپنیاں ان پر کوئی ذمہ داری نہیں لیں گے۔ نیز خودمختار استثنیٰ کی چھوٹ فرم کو قومی اثاثوں تک رسائی کا حق دے گی تاکہ ہرجانے کی ادائیگی کی جا سکے۔

    • Share this:
      اس طرح کی پہلی عوامی بحث میں نیتی آیوگ (Niti Aayog) کے رکن ڈاکٹر وی کے پال (Dr VK Paul) نے جمعہ کے روز کہا کہ فائزر کی ایم آر این اے کووڈ 19 ویکسین (Pfizer’s mRNA Covid-19 vaccine) ہندوستان میں نہیں لائی جا سکتی کیونکہ فارماسیوٹیکل کمپنی نے معاوضے اور خودمختار استثنیٰ سے چھوٹ کا مطالبہ کیا تھا، جبکہ موڈرنا نے بھی معاوضے کی شق کے ضمن میں اصرار کیا تھا۔

      معاوضے کا مطلب یہ ہوگا کہ ان کی پہلی جنریشن کی ویکسین کے کسی بھی حادثے یا منفی اثرات کی صورت میں دوا ساز کمپنیاں ان پر کوئی ذمہ داری نہیں لیں گے۔ نیز خودمختار استثنیٰ کی چھوٹ فرم کو قومی اثاثوں تک رسائی کا حق دے گی تاکہ ہرجانے کی ادائیگی کی جا سکے۔ ڈاکٹر پال مرکزی حکومت کی جانب سے ان تینوں ویکسین بنانے والوں کے ساتھ بات چیت کی پہل کی سربراہی کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ مطالبات کے باوجود حکومت نے ان کمپنیوں کے لیے مزید طریقے تلاش کرنے کی کوشش کی تاکہ وبائی امراض سے لڑنے کے لیے امید کے طور پر اس کو آسان بنایا جائے۔

      پینل ڈسکشن کے دوران سامعین سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر پال نے کہا کہ موڈرنا معاوضے کا مطالبہ کر رہا تھا، فائزر معاوضے کی شق اور خودمختار استثنیٰ کی معافی دونوں کا مطالبہ کر رہا تھا۔ انہوں نے وضاحت کی کہ مرکز نے کثیر سطحی بات چیت میں تین ویکسین بنانے والی کمپنیوں فائزر، موڈرنا اور جانسن اینڈ جانسن (Pfizer, Moderna and Johnson & Johnson) کو ہندوستانی کمپنیوں کے ساتھ تحقیق اور ترقیاتی سرگرمیوں کو چلانے اور مینوفیکچرنگ شروع کرنے کے لیے تعاون کرنے کی دعوت دی تھی۔

      ڈاکٹر پال نے کہا کہ ہمیں بتایا گیا تھا کہ وہ جولائی 2021 کی تیسری سہ ماہی میں ہماری دعوت پر غور کریں گے۔ جے اینڈ جے نے اپنی ویکسین کی تیاری شروع کرنے کے لیے ایک ہندوستانی فرم کے ساتھ اتفاق کیا اور اس کے ساتھ تعاون کیا۔ مرکزی وزیر برائے صحت اور خاندانی بہبود منسکھ منڈاویہ نے مزید وضاحت کی کہ کس طرح مرکزی حکومت کی غیر ملکی ویکسین بنانے والوں کو راضی کرنے کی کوششوں نے ایک دیسی ویکسین تیار کرنے کے خیال کو تقویت بخشی۔

      انہوں نے کہا کہ ہم نے انہیں یہاں لانے کی پوری کوشش کی، لیکن وہ ان مطالبات کو ترک کرنے کو تیار نہیں تھے جس سے ہماری اپنی ویکسین تیار کرنے کے ہمارے عزم کو تقویت ملی۔ انہوں نے مزید کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی وبائی امراض کے آغاز سے ہی اس بارے میں بات کر رہے تھے۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: