ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

بی این بی گھوٹالہ : مودی حکومت کا ریزرو بینک آف انڈیا سے سوال ، گھوٹالہ پر کیسے نہیں پڑی نظر ؟ 

پنجاب نیشنل بینک ( پی این بی ) میں ہوئے 11360 کروڑ روپے کے گھوٹالہ کو لے کر مرکزی حکومت نے ریزرو بینک آف انڈیا سے جواب طلب کیا ہے۔

  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
بی این بی گھوٹالہ : مودی حکومت کا ریزرو بینک آف انڈیا سے سوال ، گھوٹالہ پر کیسے نہیں پڑی نظر ؟ 
پنجاب نیشنل بینک ( پی این بی ) میں ہوئے 11360 کروڑ روپے کے گھوٹالہ کو لے کر مرکزی حکومت نے ریزرو بینک آف انڈیا سے جواب طلب کیا ہے۔

نئی دہلی : پنجاب نیشنل بینک ( پی این بی ) میں ہوئے 11360 کروڑ روپے کے گھوٹالہ کو لے کر مرکزی حکومت نے ریزرو بینک آف انڈیا سے جواب طلب کیا ہے۔ آر بی آئی کو لکھے خط میں مودی حکومت نے سوال کیا ہے کہ اس گھوٹالہ پر آر بی آئی کی نظر کیسے نہیں پڑی ؟ مرکزی حکومت نے کہا ہے کہ آر بی آئی کے موجودہ طریقہ کار کی جانچ کی جانی چاہئے۔

پی این بی گھوٹالہ میں گیتانجلی جیمس کے چیف فائنانشیل افسر اور کمپنی سکریٹری کے استعفی کے بعد مرکزی حکومت نے آر بی آئی سے جواب طلب کیا ہے۔ اس سے پہلے سی بی آئی نے نیرو مودی کے ڈائمنڈ جیولری ہاوس کے سینئر افسروں اور چیف فائنانشیل افسر سے گھنٹوں پوچھ گچھ کی ۔

ادھر پنجاب نیشنل بینک کے برانڈی ہاوس برانچ کو بھی سی بی آئی نے سیل کردیا ہے ۔ اسی بینک میں گھوٹالہ ہوا تھا ۔ سی بی آئی کے حکم میں کہا گیا ہے کہ کورٹ یا سی بی آئی کی اجازت کے بغیر اس احاطہ کو نہ تو کھولا جاسکتا ہے اور نہ ہی کوئی اس میں داخل ہو سکتا ہے۔

خیال رہے کہ اس پورے گھوٹالہ میں 200 شیل کمپنیاں اور کئی بے نامی جائیداد سی بی آئی اور ای ڈی کی جانچ کے دائرے میں ہیں ۔ پی این بی گھوٹالہ کو لے کر نیرو مودی اور میہول چوکسی کی کئی کمپنیوں پر اتوار کو ای ڈی نے چھاپہ مارا ۔ اس دوران تفتیشی افسروں نے تقریبا دو درجن غیر منقولہ جائیدادوں کو پرونشن آف منی لانڈرنگ ایکٹ ( پی ایم یل اے ) کے تحت ضبط کیا ہے۔

First published: Feb 19, 2018 01:30 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading