ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

سوشل میڈیا پرفرضی خبروں کو روکنے کے لئے مودی حکومت نےکئے یہ اقدامات

فرضی نیوز سے پورا ملک پریشان ہے۔ واٹس اپ اور کچھ دوسرے سوشل میسیجنگ ٹولس کے ذریعہ پورے ملک میں فرضی نیوز کا رواج عام ہوگیا ہے اسی کو دیکھتے ہوئے وزارت داخلہ نے خفیہ بیورو اور ریاستی پولیس اہکاروں کو اس پر ایکشن لینے کے لئے اسپیشل سیل یونٹس بنانے کے احکامات دیئے ہیں۔

  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
سوشل میڈیا پرفرضی خبروں کو روکنے کے لئے مودی حکومت نےکئے یہ اقدامات
فرضی نیوز سے پورا ملک پریشان ہے۔ واٹس اپ اور کچھ دوسرے سوشل میسیجنگ ٹولس کے ذریعہ پورے ملک میں فرضی نیوز کا رواج عام ہوگیا ہے اسی کو دیکھتے ہوئے وزارت داخلہ نے خفیہ بیورو اور ریاستی پولیس اہکاروں کو اس پر ایکشن لینے کے لئے اسپیشل سیل یونٹس بنانے کے احکامات دیئے ہیں۔

نئی دہلی: فرضی نیوز سے پورا ملک پریشان ہے۔ واٹس ایپ اور کچھ دوسرے سوشل میسیجنگ ٹولس کے ذریعہ پورے ملک میں فرضی نیوز کا رواج عام ہوگیا ہے، لہٰذا کئی بار فرضی نیوز کا شکار بے قصور اور معصوم لوگ ہوجاتے ہیں۔ ایسے میں فرضی نیوز سے نجات حاصل کرنے کے لئے وزارت داخلہ نے خفیہ بیورو اور ریاستی پولیس اہکاروں کو اس پر ایکشن لینے کے لئے اسپیشل سیل یونٹس بنانے کے احکامات دیئے ہیں۔


ذرائع کے مطابق وزیراعظم نریندر مودی کی پہل پر وزارت داخلہ نے یہ اقدامات کئے ہیں۔ دراصل حال ہی میں نریندر مودی نے سوشل میڈیا پر بڑھتے فرضی خبروں  پر تشویش کااظہار کیا تھا۔


موجودہ حالات میں فرضی میسیج پر نظر رکھنے کے لئے جتنے بھی قانون بنے ہیں، ان کو نافذ کرنا بہت مشکل ہورہا ہے۔ گزشتہ دنوں ایک بچہ چوری گینگ کی فرضی وائرل ہونے کے سبب جنوبی ہندوستان کے کم ازکم چار ریاستوں تمل ناڈو، کرناٹک، تلنگانہ اور آندھرا پردیش میں تشدد پر مبنی حملے ہوئے ہیں۔


ایسے حالات میں ضرورت یہ ہوتی ہے کہ قانون کو نافذ کرنے والی ایجنسی عام آدمی کو اصلی اور فرضی خبروں کے درمیان صحیح طریقے سے فرق بتائیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ایسے پیغام کہاں سے آرہے ہیں، اس کا پتہ لگایاجائے اور کون لوگ اس میسیج کے پیچھے ہیں؟

حیدرآباد پولیس کے آئی ٹی سیل کے سربراہ شری ناتھ ریڈی نے کہا کہ ان کی ٹیم نے واٹس ایپ اور دیگر میسجنگ خدمات کے ذریعہ سے فرضی خبروں کو پھیلانے ولاے لوگوں کی شناخت کرنے کے لئے کچھ خاص میکانزم تیار کئے ہیں۔

ریڈی نے کامیابی کے ساتھ ایسے کئی مہم اور تشدد کو روکا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ واٹس ایپ اور فیس بک گروپ کے ایڈمن کی شناخت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ حالانکہ انہوں نے اعتراف کیا کہ فرضی خبروں کو روکنے کے لئے واٹس ایپ ایک بڑا چیلنج ہے۔

 

 
First published: Jun 05, 2018 02:34 PM IST