ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

اعلیٰ ذات ریزرویشن بل: لوک سبھا میں پیش ہوا آئینی ترمیمی بل، دو بجے سے ہو گی بحث

سماجی انصاف کے وزیر تھاور چند گہلوت نے اس بل کو لوک سبھا میں پیش کیا

  • Share this:
اعلیٰ ذات ریزرویشن بل: لوک سبھا میں پیش ہوا آئینی ترمیمی بل، دو بجے سے ہو گی بحث
وزیر اعظم نریندر مودی: فائل فوٹو۔

اعلیٰ ذات کے اقتصادی طور پر پسماندہ لوگوں کو دس فیصد ریزرویشن دینے کے معاملہ میں آئینی ترمیمی بل کو لوک سبھا میں پیش کر دیا گیا ہے۔ دوپہر دو بجے سے اس پر بحث ہو گی۔  سماجی انصاف و تفویض اختیارات کے وزیر تھاور چند گہلوت نے 124 واں آئینی ترمیمی بل ایوان میں پیش کیا۔ بل کے مقصد اور وجوہات کے بارے میں لکھا گیا ہے کہ اقتصادی طور پر کمزور لوگ بڑے پیمانے پر اعلی تعلیمی اداروں میں داخلے اور سرکاری ملازمتوں سے محروم ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ اقتصادی طور پر مضبوط طبقے کے ساتھ مقابلہ نہیں کر پاتے۔ اگر وہ سماجی اور تعلیمی طور پر پسماندگی کے خصوصی معیار کو پورا نہیں کرتے تو وہ آئین کے آرٹیکل 15 اور آرٹیکل 16 کے تحت ریزرویشن کے بھی اہل نہیں ہوتے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ ’’ اقتصادی طور پر کمزور لوگوں کو اعلی تعلیم اور سرکاری ملازمتوں میں مناسب مواقع فراہم ہوسکیں اس بات کو یقینی بنانے کے لئے آئین میں ترمیم کا فیصلہ کیا گیا ہے‘‘َ۔


اعلیٰ ذات کے اقتصادی طور پر پسماندہ لوگوں کو دس فیصد ریزرویشن دینے کے معاملہ پر بی جے پی رکن پارلیمنٹ انوراگ ٹھاکر نے کہا ہے کہ میں اس فیصلہ کا خیرمقدم کرتا ہوں۔ وزیر اعظم نریندر مودی کی پالیسیوں نے ملک کے غریبوں کی ترقی میں مدد کی ہے۔


وہیں، بی ایس پی صدر مایاوتی نے کہا کہ لوک سبھا انتخابات سے قبل لیا گیا یہ فیصلہ ہمیں درست نیت سے لیا گیا فیصلہ نہیں لگتا ہے، یہ انتخابی اسٹنٹ لگتا ہے۔ سیاسی چھلاوا لگتا ہے۔ اچھا ہوتا اگر بی جے پی اپنی مدت کار ختم ہونے سے ٹھیک پہلے نہیں بلکہ اور پہلے یہ فیصلہ لے لیتی۔


نیوز ایجنسی یو این آئی، اردو کے ان پٹ کے ساتھ
First published: Jan 08, 2019 01:57 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading