ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

تین طلاق : مودی حکومت نے داخل کیا حلف نامہ ، کہا : پرسنل لاء کی بنیاد پر خواتین کو آئینی حقوق سے محروم نہیں کیا جا سکتا

تین طلاق کے معاملہ پر مرکزی حکومت نے سپریم کورٹ میں اپنا حلف نامہ داخل کردیا ہے ۔ مودی حکومت نے اپنے حلف نامے میں تین طلاق کو خواتین کے ساتھ جنسی امتیاز پر مبنی قرار دیا ہے ۔

  • Pradesh18
  • Last Updated: Oct 07, 2016 06:15 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
تین طلاق : مودی حکومت نے داخل کیا حلف نامہ ، کہا : پرسنل لاء کی بنیاد پر خواتین کو آئینی حقوق سے محروم نہیں کیا جا سکتا
تین طلاق کے معاملہ پر مرکزی حکومت نے سپریم کورٹ میں اپنا حلف نامہ داخل کردیا ہے ۔ مودی حکومت نے اپنے حلف نامے میں تین طلاق کو خواتین کے ساتھ جنسی امتیاز پر مبنی قرار دیا ہے ۔

نئی دہلی: تین طلاق کے معاملہ پر مرکزی حکومت نے سپریم کورٹ میں اپنا حلف نامہ داخل کردیا ہے ۔ مودی حکومت نے اپنے حلف نامے میں تین طلاق کو خواتین کے ساتھ جنسی امتیاز پر مبنی قرار دیا ہے ۔ خیال رہے کہ مسلم پرسنل لا بورڈ اس سلسلہ میں پہلے ہی اپنا حلف نامہ داخل کرچکا ہے اور صاف طور پر کہہ چکاہے کہ سماج میں اصلاح کے نام پر پرسنل لا کو دوبارہ تحریر نہیں کیا کاجاسکتا ہے۔

حلف نامے میں مرکزی حکومت نے کہا ہے کہ پرسنل لاء کی بنیاد پر کسی کو آئینی حقوق سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔ تین طلاق خواتین کے ساتھ جنسی امتیاز ہے۔ خواتین کے وقار کے ساتھ کسی طرح کا سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔







تین طلاق کے معاملے میں آل انڈیا پرسنل لاء بورڈ پہلے ہی سپریم کورٹ میں حلف نامہ داخل کر کے اپنی مخالفت درج کرا چکا ہے۔ حلف نامے میں کہا ہے کہ پرسنل لا کو سماجی اصلاحات پر دوبارہ سے نہیں لکھا جا سکتا۔ طلاق کی قانونی حیثیت سپریم کورٹ فیصلہ نہیں کر سکتا۔
First published: Oct 07, 2016 06:15 PM IST