ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

اے ایم یو اقلیتی کردار : یوپی اے حکومت کی داخل کردہ عرضی کو واپس لے گی مودی سرکار

نئی دہلی : اٹارنی جنرل مکل روہتگی نے آج سپریم کورٹ سے کہا ہے کہ اغلب امکان ہے کہ وہ سابقہ یو پی اے حکومت کی داخل کردہ وہ اپیل واپس لے لیں جس میں الہٰ آباد ہائی کورٹ کے اس فیصلے پر اعتراض کیا گیا ہے جس میں علی گڑھ مسلم یو نیورسیٹی [اے ایم یو]کو ایک غیر اقلیتی ادارہ قرار دیا گیا ہے۔

  • UNI
  • Last Updated: Apr 04, 2016 10:25 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
اے ایم یو اقلیتی کردار : یوپی اے حکومت کی داخل کردہ عرضی کو واپس لے گی مودی سرکار
نئی دہلی : اٹارنی جنرل مکل روہتگی نے آج سپریم کورٹ سے کہا ہے کہ اغلب امکان ہے کہ وہ سابقہ یو پی اے حکومت کی داخل کردہ وہ اپیل واپس لے لیں جس میں الہٰ آباد ہائی کورٹ کے اس فیصلے پر اعتراض کیا گیا ہے جس میں علی گڑھ مسلم یو نیورسیٹی [اے ایم یو]کو ایک غیر اقلیتی ادارہ قرار دیا گیا ہے۔

نئی دہلی : اٹارنی جنرل مکل روہتگی نے آج سپریم کورٹ سے کہا ہے کہ اغلب امکان ہے کہ وہ سابقہ یو پی اے حکومت کی داخل کردہ وہ اپیل واپس لے لیں جس میں الہٰ آباد ہائی کورٹ کے اس فیصلے پر اعتراض کیا گیا ہے جس میں علی گڑھ مسلم یو نیورسیٹی [اے ایم یو]کو ایک غیر اقلیتی ادارہ قرار دیا گیا ہے۔

ملک کے چوٹی کے لاافسر مستر روہتگی نے مرکز کی طرف سے آج عدالت عظمی کے سہ رکنی بنچ سے کہا کہ ’’دو ماہ قبل میں نے اپن ذہن بدل لیا تھا ۔ میں اے ایم یو سے خود کو الگ کر رہا ہوں‘‘جسٹس جگدیش سنگھ کیہر کی قیادت والے بنچ کے دیگر ارکان میں جسٹس مدن بی لوکر اور سی نگپپن شامل تھے۔

اٹارنی جنرل نے آج عدالت کو متعلقہ اپیل واپس لینے اور خود کو اے ایم یو سے الگ کرنے کے مرکز کے فیصلے سے آگا ہ کیااور یہ بھی کہا کہ اے ایم یو ایک مرکزی ایکٹ کے تحت قائم کیا گیا تھا 1967 میں عدالت عظمی کے ایک پانچ رکنی بنچ نے عزیز باشا فیصلے میں اس تعلیمی ادارے کو اقلیتی ادارہ نہیں بلکہ ’’سنٹرل یونیورسٹی‘‘ قرار دیا تھا۔

روہتگی نے عدالتی بنچ سے کہا کہ عزیز باشا فیصلے کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ حکومت ہند کا موقف یہ ہے کہ اے ایم یو کو اقلیتی حیثیت دینا عزیز باشا فیصلے کے برعکس ہوگا جو آج بھی اپنی جگہ درست ہے۔ اٹارنی جنرل کا استدلال سننے کے بعد عدالت عظمی نے مرکز سے بھی کہا کہ وہ اپنی داخل کردہ اپیل واپس لینے کے لئے آٹھ ہفتوں کے اندر حلف نامے کے ساتھ ایک عرضی داخل کرے۔

بنچ نے کہا کہ اس کے بعد اے ایم یو مرکز کے موقف پر جوابی حلف نامہ داخل کر سکتی ہے۔ معاملے کی سماعت گرمی کی تعطیل کے بعد ملتوی کردی گئی۔ سپریم کورٹ نے سنیئر وکیل سلمان خورشید سمیت بعض دوسرے مداخلت کاروں کو بھی اس معاملے میں معاونت کی اجازت دے دی۔

First published: Apr 04, 2016 10:25 PM IST