உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    موہالیRocket Attack کے پیچھے گینگسٹر سے دہشت گرد بنے رنڈا کا ہاتھ؟ پاکستان سے بھی جڑتے نظر آرہے ہیں تار

    Youtube Video

    gangster turned terrorists behind Mohali RPG attack؟ انٹیلی جنس ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ اس حملے کے پیچھے گینگسٹر سے دہشت گرد بنے ہرویندر سنگھ رنڈا Harvinder Singh Rinda کا ہاتھ ہوسکتا ہے۔ رندا کا نام پچھلے سال لدھیانہ کورٹ دھماکے میں بھی سامنے آیا تھا۔

    • Share this:
      چنڈی گڑھ: پنجاب کے موہالی میں انٹیلی جنس ڈیپارٹمنٹ کی عمارت پر راکٹ فائر گرینیڈ (RPG) حملے کے معاملے میں ابھی تک کسی نے ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔ سکیورٹی ادارے دہشت گرد انہ حملے کی زاویے سے بھی تحقیقات کر رہے ہیں۔ دریں اثنا، انٹیلی جنس ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ اس حملے کے پیچھے گینگسٹر سے دہشت گرد بنے ہرویندر سنگھ رنڈا Harvinder Singh Rinda  کا ہاتھ ہوسکتا ہے۔ رندا کا نام پچھلے سال لدھیانہ کورٹ دھماکے میں بھی سامنے آیا تھا۔

      انٹیلی جنس ڈپارٹمنٹ کے ذرائع نے CNN-News18 کو بتایا کہ انٹیلی جنس آفس پر اس حملے کے حوالے سے کوئی خاص ان پٹ نہیں ہے۔ لیکن اس کا تعلق پنجاب کے انتہائی مطلوب گینگسٹر اور منشیات کے اسمگلر جے پال سنگھ بھولر کے سات ماہ قبل کولکاتہ میں ہونے والے انکاؤنٹر سے ہو سکتا ہے۔ اس واقعہ کے بعد پولیس کو خفیہ اطلاع ملی تھی کہ اس انکاؤنٹر میں ملوث افسر پر حملہ کیا جا سکتا ہے۔

      ذرائع کے مطابق کولکاتہ میں اس انکاؤنٹر کے بعد رنڈا کافی پریشان تھا۔ پچھلے ایک سال میں اس کے تمام ماڈیولز کو بھی سیکورٹی فورسز نے تباہ کر دیا ہے۔ نوان شہر اور کرنال میں اس کے ٹھکانے ابھی کچھ دن پہلے ہی برباد کئے گئے ہیں۔ہرویندر سنگھ رندا اپنے نیٹ ورک کے ذریعے پاکستان سے آنے والی منشیات کو ملک بھر میں سپلائی کرنے کا کام کرتا رہا ہے ہیں۔اپنے اڈے تباہ ہونے کے بعد ممکن ہے کہ اس نے اپنی طاقت دکھانے کے لیے موہالی میں محکمہ انٹیلی جنس کے دفتر پر آر پی جی سے حملہ کرایا ہو۔ وہ دکھانا چاہتا ہو کہ اس کا غلبہ ابھی ختم نہیں ہوا۔

      یہ بھی پڑھئے: انٹیلیجنس آفس پرGrenade Attackکےبعد ریاست میں ہائی الرٹ، پولیس کو دہشت گردانہ حملے کی سازش

      پیر کی رات موہالی میں پنجاب پولیس کے انٹیلی جنس یونٹ کے ہیڈکوارٹر Punjab Intelligence Unit Office کے احاطے پر گرینیڈ حملے Grenade Attack in Mohali کے بعد ریاست میں ہائی الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔ پولیس نے چنڈی گڑھ-موہالی سرحد کو سیل کر دیا ہے اور تمام گاڑیوں کی سخت چیکنگ کی جا رہی ہے۔ پنجاب پولیس نے اس دستی بم حملے کے حوالے سے دہشت گردی کی سازش کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔ پولیس کی ٹیمیں معاملے کی گہرائی سے تحقیقات کر رہی ہیں اور شہر کے سی سی ٹی وی کیمروں کو اسکین کیا جا رہا ہے۔ اس پیش رفت کے بعد، وزیر اعلی بھگونت مان نے تمام معلومات حاصل کرنے کے لیے ڈی جی پی اور افسران کے ساتھ ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ کی اور گہرائی سے تحقیقات کا حکم دیا۔


      اس واقعے کے بعد اپوزیشن لیڈران نے ریاست کی سلامتی پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ پنجاب کانگریس کے صدر امریندر سنگھ راجہ وڈنگ نے واقعہ کی گہرائی سے جانچ اور قصورواروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ شرومنی اکالی دل کے سربراہ سکھبیر سنگھ بادل نے اس واقعہ کی سخت مذمت ک یاور کہا ہے کہ یہ ریاست میں سکیورٹی کی خامیوں کو اجاگر کرتا ہے۔ سابق وزیر داخلہ سکھجندر سنگھ رندھاوا نے کہا ہے کہ یہ واقعہ پنجاب کا ماحول خراب کرنے کی کوشش ہے اور اس کی گہرائی سے تحقیقات ہونی چاہیے۔ بی جے پی کے صدر اشونی شرما نے بھی ٹویٹ کرکے اس واقعہ کو پنجاب کا ماحول خراب کرنے کی سازش قرار دیا ہے اور تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
      Published by:Sana Naeem
      First published: