ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

پارلیمنٹ کا مانسون اجلاس آج سے ، ہنگامہ خیز ہونا تقریبا طے ، ان معاملات پر اپوزیشن مودی حکومت کو گھیرنے کی تیاری میں

اپوزیشن جہاں کشمیر کے موجودہ حالات، اروناچل پر سپریم کورٹ کے فیصلے اور بڑھتی ہوئی مہنگائی معاملات پر حکومت کو گھیرنے کی تیاری میں ہے وہیں حکومت کا زور اشیا اور خدمات ٹیس (جی ایس ٹی) بل کو منظور کرانے پر رہے گا

  • UNI
  • Last Updated: Jul 18, 2016 09:50 AM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
پارلیمنٹ کا مانسون اجلاس آج سے ، ہنگامہ خیز ہونا تقریبا طے ، ان معاملات پر اپوزیشن مودی حکومت کو گھیرنے کی تیاری میں
اپوزیشن جہاں کشمیر کے موجودہ حالات، اروناچل پر سپریم کورٹ کے فیصلے اور بڑھتی ہوئی مہنگائی معاملات پر حکومت کو گھیرنے کی تیاری میں ہے وہیں حکومت کا زور اشیا اور خدمات ٹیس (جی ایس ٹی) بل کو منظور کرانے پر رہے گا

نئی دہلی :  پارلیمنٹ  کا مانسون اجلاس آج سے شروع ہورہا ہے ۔ مانسون سیشن کے دوران اپوزیشن جہاں کشمیر کے موجودہ حالات، اروناچل پر سپریم کورٹ کے فیصلے اور بڑھتی ہوئی مہنگائی معاملات پر حکومت کو گھیرنے کی تیاری میں ہے وہیں حکومت کا زور اشیا اور خدمات ٹیس (جی ایس ٹی) بل کو منظور کرانے پر رہے گا۔

پارلیمنٹ کا یہ اجلاس 18 جولائی سے 12 اگست تک چلے گا اور اس دوران اس کی کل 20 نشستیں ہوں گی۔ کچھ مسائل پر اپوزیشن کے رویہ کو دیکھتے ہوئے لگتا ہے کہ اجلاس کے ابتدائی دن هنگامہ خیز رہیں گے۔ وادی کشمیر میں حزب کمانڈر برہان وانی کی حالیہ تصادم میں ہلاکت کے بعد بھڑکے تشدد اور احتجاجی مظاہروں کا مسئلہ دونوں ایوانوں میں اٹھے گا۔ اس تشدد میں 40 سے زائد افراد مارے جا چکے ہیں اور سکیورٹی جوانوں سمیت 3500 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔


کانگریس اور کچھ دیگر اپوزیشن پارٹیاں الزام لگا رہی ہیں کہ مرکز اور ریاستی حکومت وہاں صورت حال سے صحیح طریقے سے نمٹنے میں ناکام رہی ہیں ۔ بھارتیہ جنتا پارٹی مرکز میں اقتدار میں ہونے کے ساتھ ساتھ جموں کشمیر میں بھی مخلوط حکومت میں شامل ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ اس نے علاقائی پارٹی کو دباؤ میں لیکر وہاں حکومت بنائی ہے اور وہاں آر ایس ایس کا ایجنڈا نافذ کر رہی ہے، جس کی وجہ سے لوگوں میں غصہ ہے۔ پارٹی مودی حکومت کی پاکستان پالیسی پر بھی مسلسل نکتہ چینی کرتی آ رہی ہے۔


کانگریس نائب صدر راہل گاندھی کا کہنا ہے کہ ترقی پسند اتحاد حکومت نے کشمیر میں امن کے لئے دس سال جو محنت کی تھی مودی حکومت نے اس پر پانی پھیر دیا ہے۔ اس لئےپارٹی کشمیر کا مسئلہ پارلیمنٹ میں زور شور سے اٹھانے کا من بنا رہی ہے۔

اتراکھنڈ میں صدر راج نافذ کرنے پر منہ کی کھانے کے بعد اروناچل پردیش کے بارے میں سپریم کورٹ کا فیصلہ مودی حکومت کے لئے بڑا دھچکا ہے اور اس سے کانگریس کو حوصلہ ملا ہے۔ وہ اور کچھ دوسری پارٹیاں مودی حکومت پر گورنروں کے ذریعے غیر بی جے پی حکومتوں کو کمزور کرنے کا پہلے ہی الزام لگاتی رہی ہیں۔ بہار کے وزیر اعلی نتیش کمار نے تو یہاں تک کہا ہے کہ موجودہ وفاقی ڈھانچے میں گورنر کی ضرورت ہی نہیں رہ گئی ہے۔ چنانچہ اروناچل پردیش کے معاملے پر اپوزیشن کا اس اجلاس میں حکومت کو گھیرنا طے ہے۔

بڑھتی ہوئی مہنگائی کے مسئلےپر بھی اپوزیشن پارٹی حکومت کو گھیرنے کی تیاری میں ہے۔ خاص طور پر دال اور دیگر خوردنی اشیاء کی قیمتوں میں اضافے کا مسئلہ دونوں ایوانوں میں اٹھایا جائے گا۔ کانگریس اس مسئلے کو پارلیمنٹ سے لے کر سڑک تک اٹھانے کی تیاری میں ہے۔ اس نے مہنگائی کے خلاف 20 جولائی کو مظاہرے کا اعلان کیا ہے اور پارٹی کا کہنا ہے کہ وہ پارلیمنٹ میں بھی حکومت سے اس پر جواب مانگےگي۔ ترنمول کانگریس، بائیں بازو کی پارٹیاں اور دیگر اہم اپوزیشن جماعتیں بھی اس معاملے کو زور شور سے اٹھائیں گی۔

دفاع سمیت مختلف شعبوں میں راست غیر ملکی سرمایہ کاری کی حد بڈھائے جانے، ساتویں تنخواہ کمیشن کی سفارشات سے ملازمین میں عدم اطمینان اور خارجہ پالیسی خاص طور پر جوہری سپلائر گروپ کی رکنیت کے معاملے پر ناکامی کے معاملے پر بھی اپوزیشن پارٹیاں حکومت پر حملہ کریں گی۔

حکومت کا کہنا ہے کہ وہ اپوزیشن کی طرف سے اٹھائے جانے والے تمام مسائل پر ضابطے کے مطابق بات چیت کرنے کو تیار ہے۔ اس نے اپوزیشن سے جی ایس ٹی سمیت تمام اہم بلوں کو پاس کرانے کی اپیل کی ہے۔ وزیر خزانہ ارون جیٹلی کہہ چکے ہیں کہ حکومت جی ایس ٹی کو عام رائے سے منظور کرانا چاہتی ہے۔

مسٹر جیٹلی اور پارلیمانی امور کے وزیر اننت کمار نے راجیہ سبھا میں کانگریس کے لیڈر غلام نبی آزاد اور ڈپٹی لیڈر آنند شرما کے ساتھ جی ایس ٹی کے معاملے پر ملاقات بھی کی ہے۔یہ طے ہوا ہے کہ بات چیت جاری رہے گی اور اجلاس کے دوران دونوں پھر ملاقات کریں گے۔ راجیہ سبھا میں حکمراں جماعت کی اکثریت نہیں ہے اور کانگریس جی ایس ٹی بل کی کچھ دفعات کی مخالفت کر رہی ہے جس کی وجہ سے یہ بل گزشتہ سال سے ہی ایوان میں زیر التوا ہے۔ انا ڈی ایم کے کو چھوڑ کر تقریبا تمام پارٹیاں بل کے حق میں ہیں۔
First published: Jul 18, 2016 09:38 AM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading