உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    راج ببرکومسلم اکثریتی حلقہ مرادآباد سے امیدوار بنائےجانےکا معاملہ: کیا کہتے ہیں مسلم دانشور

    یوپی کانگریس کے صدر راج ببر: فائل فوٹو

    یوپی کانگریس کے صدر راج ببر: فائل فوٹو

    مجلس مشاورت کے صدرنوید حامد نے کانگریس کے فیصلے پرسوال اٹھایا تو سپریم کورٹ کے سینئر وکیل اورمسلم دانشور زیڈ کے فیضان اورالیاس ملک نے اس کا دفاع کرتے ہوئے بہتر فیصلہ بتایا۔

    • Share this:
      لوک سبھا الیکشن 2019 کی بساط بچھنی شروع ہوگئی ہے۔ تمام سیاسی پارٹیاں اپنے امیدواروں کی فہرست کوحتمی شکل دینے میں مصروف ہیں۔ کئی سیاسی جماعتوں نے اپنے امیدواروں کا اعلان بھی کردیا ہے۔ تاہم بی جے پی اورکانگریس ابھی تیاری میں مصروف ہیں۔ کانگریس نے اپنے امیدواروں کی ایک فہرست جاری کی ہے، جس پرتنازعہ پیدا ہوگیا ہے۔  کانگریس نے بھی اپنے امیدواروں کا سلسلہ شروع کیا ہے۔ دراصل یہ پورامعاملہ اترپردیش کے مسلم اکثریتی حلقہ مرادآباد کولےکرہے، جہاں سے کانگریس نے ریاستی صدرراج ببر کو امیدواربنایا ہے، ایک طرف اس پرسوال اٹھایا جارہا ہے تو دوسری طرف اس کا دفاع بھی کیا جارہا ہے۔

      آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کے صدرنوید حامد نےنیوز 18 اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ مسلم اکثریتی حلقے سے راج ببر کو امیدواربنایا جانا سمجھ سے بالا ترہے۔ انہوں نے سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ آخر راج ببر مسلم اکثریتی پارلیمانی حلقہ سے الیکشن کیوں لڑنا چاہتے ہیں؟ وہ توکسی بھی سیٹ سے الیکشن لڑسکتے ہیں۔ نوید حامد نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ کانگریس مسلم لیڈرشپ کو کمزورکرنا چاہتی ہے۔ کیونکہ ایسا نہیں ہے کہ کانگریس کے پاس کوئی مسلم چہرہ نہ ہو، جسے امیدواربنایا جاسکے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ راج ببرکوخود فیصلہ کرنا چاہئے کہ کیا انہیں مرادآباد کی سیٹ سے لڑنا چاہئے۔

      سپریم کورٹ کے سینئرایڈوکیٹ اوردانشورزیڈ کے فیضان نے نیوز18 سے ٹیلیفون پربات چیت میں کانگریس دفاع کیا۔ حالانکہ انہوں نے یہ بھی کہا کہ کانگریس کی یہ کوئی عقلمندی کی بات نہیں ہے، لیکن ہمیں ابھی انتظارکرنا چاہئے کہ جب کانگریس اپنے تمام امیدواروں کا اعلان کردے اورمسلمانوں کومناسب نمائندگی نہ دے، توپھرسوال اٹھایا جانا چاہئے۔ زیڈ کے فیضان نے کہا کہ راج ببر فتح پورسیٹ سے تیاری کررہے تھے، ان کو وہیں سے الیکشن لڑنا چاہئے تھے، لیکن اگرمسلم امیدوار کی بات کریں تو جب ایسی سیٹوں سے دو تین پارٹیاں مسلم امیدواراتاردیتی ہیں تو پھرووٹوں کی تقسیم کا بھی معاملہ پیدا ہوتا ہے۔ لہٰذا میں مسلم مجلس مشاورت، آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ جیسی تنظیموں کو مشورہ دینا چاہتا ہوں کہ وہ ابھی اپنے گھربیٹھیں، الیکشن کے دوران جوامیدواران کو پسند آئے اوربہترلگے، اس کی حمایت کریں۔

      زیڈ کے فیضان نے کہا کہ ٹکٹ دینے کے بہت سارے فیکٹرہوتے ہیں۔ کانگریس کتنے امیدواراتارتی ہے اورکتنے مسلم امیدواراتارے ہیں، یہ الگ معاملہ ہے اوراس پرسوال کیا جانا چاہئے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ کانگریس غیریقینی صورتحال سے دو چارہے، وہ ابھی یہی نہیں فیصلہ کرپاررہی ہے کہ ہمیں اتحاد کرنا ہے یا نہیں، لہٰذا اس کا بہت برا اثرپڑا ہے، جو بہت افسوسناک ہے۔ کانگریس ہائی کمان کو اس پرجلد ازجلد فیصلہ لے کر غیریقینی صورتحال کو ختم کرنا چاہئے۔

      مسلم دانشورالیاس ملک نے کہا کہ میرا نظریہ یہ ہے کہ مرادآباد سے راج ببربہت اچھے امیدوارثابت ہوں گے۔ جہاں تک مسلم لیڈرشپ کی بات ہے، جو مسلمان اس وقت کانگریس میں ہیں، مثلاً سلمان خورشید، غلام نبی آزاد، احمد پٹیل، سلیم شیروانی، نوجوان نسل میں ندیم جاوید جیسے لیڈروں کوکانگریس نے ہمیشہ عزت بخشی گئی ہے اورانہیں لوک سبھا، راجیہ سبھا اوردیگرمحکموں کی ذمہ داری سونپی جاتی رہی ہے۔ یہاں تک کہ پارٹی کے تمام سینئر لیڈروں کواہم وزارت سونپی جاتی ہے، توپھرایسے میں یہ الزام عائد کرنا کہ  کانگریس مسلم لیڈرشپ کوختم کرنا چاہتی ہے، میں اس سے متفق نہیں ہوں۔ بلکہ میرا یہ سوال ہے کہ پھر آخر کونسی پارٹی ہے جومسلم لیڈرشپ بڑھانا چاہتی ہے۔

      الیاس ملک نے کانگریس کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں پہلے اپنے ووٹوں کی تقسیم کو روکنا چاہئے۔ ہمیں خود اپنی حیثیت بنانی ہوگی کہ تمام پارٹیاں ہمارے سامنے ٹکٹ لے کر کھڑی رہیں۔ انہوں نے کہا کہ راج ببرایک اچھے اورسیکولرانسا ن ہیں، اس لئے وہ بہتر امیدوارہیں۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس کسی مسلمان کا ٹکٹ توکاٹ نہیں رہی ہے۔ ایک دو سیٹوں پرایسا ہوتا ہے تو یہ کوئی بڑا مسئلہ نہیں ہے، ہاں تمام مسلمانوں کے ٹکٹ کاٹ دے تو پھرسوال اٹھایا جانا چاہئے۔ الیاس ملک نے کہا کہ ہمارا ماننا ہے کہ اس الیکشن کومذہب اور ذات پات کی نظریے سے نہ دیکھا جائے بلکہ اچھے امیدوارکوجتانے کی کوشش کی جائے۔

      واضح رہے کہ مرادآباد میں تقریباً 47 فیصد مسلمانوں کی آبادی ہے۔ 2014 میں یہاں سے بی جے پی کے کنورسرویش کمارکوجیت حاصل ہوئی تھی جبکہ دوسرے نمبرپرسماجوادی پارٹی کے امیدوارڈاکٹرایس ٹی حسن تھے۔وہیں تیسرے نمبر پربی ایس پی امیدوار حاجی محمد یعقوب قریشی رہے تھے۔ جبکہ 2009 کے لوک سبھا الیکشن میں کانگریس کے ٹکٹ پرسابق کرکٹ کپتان محمد اظہرالدین کو کامیابی ملی تھی۔ وہیں 2004 میں سماجوادی پارٹی کے ٹکٹ پرڈاکٹر شفیق الرحمن برق کو جیت ملی تھی۔ اس طرح سے یہ مسلم اکثریتی حلقہ ہے۔
      First published: