ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

ہندوستان کے 80 سے زیادہ اراکین پارلیمنٹ، فنکاروں اور دانشوروں نے کی مسجد اقصی میں اسرائیلی کارروائی کی مذمت

اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ رمضان المبارک کے مہینے کے دوران اسرائیلی پولیس کے ذریعہ اپنے نو آبادیاتی منصوبے کو نافذ کرنے کرنے کی بھرپور کوشش ہو رہی ہے ۔ مسجد اقصیٰ پر حملہ کرنے ، متعدد پرامن نمازیوں کو زخمی کردینے ، شیخ جراح اور دیگر علاقوں میں فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے زبردستی نقل مکانی پر مجبور کرنے کے واقعات سے مسلم معاشرے اور پوری مہذب دنیا میں غم اور غصہ پھوٹ پڑا ہے۔

  • Share this:
ہندوستان کے 80 سے زیادہ اراکین پارلیمنٹ، فنکاروں اور دانشوروں نے کی مسجد اقصی میں اسرائیلی کارروائی کی مذمت
ہندوستان کے 80 سے زیادہ اراکین پارلیمنٹ، فنکاروں اور دانشوروں نے کی مسجد اقصی میں اسرائیلی کارروائی کی مذمت

نئی دہلی : فلسطین اسرائیل کے درمیان حالیہ جھڑپ کے دوران پر حکومت ہند کی خاموشی کے دوران تقریبا 80 سماجی تنظیموں ، سیاستدانوں بشمول اراکین پارلیمنٹ ، فنکاروں، صحافیوں اور دانشوران نے اسرائیلی پولیس کے ذریعہ فلسطینیوں کو اپنی زمین سے جبری طور پر بے دخل کرنے اور مسجد اقصیٰ پر دھاوا بولنے پر غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے ایک اعلامیے پر دستخط کیے ہیں ۔


دستخط کنندگان میں مجلس اتحاد المسلمین کے سربراہ اسدالدین اویسی ، آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے سکریٹری شکیل احمد خان ، سی پی ایم رہنما محمد سلیم ، بی ایس پی کے لوک سبھا رکن پارلیمنٹ کنور دانش علی ، کانگریس کے راجیہ سبھا رکن پارلیمنٹ سید نصیر حسین ، دہلی یونیورسٹی کے پروفیسر اپوروانند ، مولانا آزاد یونیورسٹی جودھپور کے وائس چانسلر پروفیسر اختر الواسع ، مصنف شھدبراتا سین گپت ، شاعر کوشک راج اور موسیقار پوجن ساحل شامل ہیں ۔


دستخط کنندگان نے اسرائیلی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مسجد اقصیٰ کے تقدس کو بحال کرتے ہوئے اپنی غیرانسانی اور نسل پرستانہ پالیسیاں فوری طور پر روکے اورشیخ جراح اور دیگر مقامات سے فلسطینیوں کی بے دخلی پر لگام لگائے۔ انہوں نے مرکزی حکومت سے اسرائیلی سفیر کو طلب کرنے اور اسرائیلی حکومت پر فلسطینیوں کے خلاف اپنی پُرتشدد کارروائیوں کو فوری طور پر روکنے کے لئے آمادہ کرنے پر بھی زور دیا ہے ۔


اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ رمضان المبارک کے مہینے کے دوران اسرائیلی پولیس کے ذریعہ اپنے نو آبادیاتی منصوبے کو نافذ کرنے کرنے کی بھرپور کوشش ہو رہی ہے ۔ مسجد اقصیٰ پر حملہ کرنے ، متعدد پرامن نمازیوں کو زخمی کردینے ، شیخ جراح اور دیگر علاقوں میں فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے زبردستی نقل مکانی پر مجبور کرنے کے واقعات سے مسلم معاشرے اور پوری مہذب دنیا میں غم اور غصہ پھوٹ پڑا ہے۔

آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ، آل انڈیا کرسچن کونسل کے سکریٹری جنرل جان دیال اور آل انڈیا امبیڈکر مہاسبھا کے چیئرمین اشوک بھارتی نے بھی اس اعلامیے کی حمایت کی ہے۔ جماعت اسلامی ہند، جمعیت علماء ہند، جمعیت اہل حدیث اور پاپولر فرنٹ آف انڈیا سمیت متعدد تنظیموں نے اس اعلامیہ پر دستخط کیے ہیں۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: May 14, 2021 12:02 AM IST