உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    آمدنی سے زیادہ رقم ملی ، تو 200 فیصد لگے گا جرمانہ

    انہوں نے کہا کہ 10 نومبر سے 30 دسمبر 2016 کی مدت میں ہر بینک اکاؤنٹ میں 2.5 لاکھ روپے کی حد سے زیادہ کی تمام نقد جمع کی رپورٹ ہمیں ملے گی۔

    انہوں نے کہا کہ 10 نومبر سے 30 دسمبر 2016 کی مدت میں ہر بینک اکاؤنٹ میں 2.5 لاکھ روپے کی حد سے زیادہ کی تمام نقد جمع کی رپورٹ ہمیں ملے گی۔

    انہوں نے کہا کہ 10 نومبر سے 30 دسمبر 2016 کی مدت میں ہر بینک اکاؤنٹ میں 2.5 لاکھ روپے کی حد سے زیادہ کی تمام نقد جمع کی رپورٹ ہمیں ملے گی۔

    • Pradesh18
    • Last Updated :
    • Share this:
      نئی دہلی: 500 اور 1000 روپے کے پرانے نوٹ بند کرنے کے فیصلہ کے بعد حکومت نے خبردار کیا ہے کہ کالا دھن چھپانے والوں کو 200 فیصد جرمانہ بھرنا پڑ سکتا ہے۔ حکومت نے آج رات آگاہ کیا کہ بڑے نوٹوں کا چلن بند کرنے کے بعد انہیں جمع کرانے کی 50 دن کی رعایت کی مدت میں 2.5 لاکھ روپے سے زیادہ کی نقدی جمع کرنے کے معاملات میں اگر آمدنی کے اعلان میں برابری نہیں پائی گئی تو ٹیکس اور 200 فیصد جرمانہ بھرنا پڑ سکتا ہے۔ ریوینیو سکریٹری ہنس مکھ ادھيا نے ٹوئیٹر پر یہ معلومات دی۔
      انہوں نے کہا کہ 10 نومبر سے 30 دسمبر 2016 کی مدت میں ہر بینک اکاؤنٹ میں 2.5 لاکھ روپے کی حد سے زیادہ کی تمام نقد جمع کی رپورٹ ہمیں ملے گی۔ ہنس مکھ نے کہا کہ انکم ٹیکس محکمہ ان کو انکم ٹیکس ریٹرن سے ملائے گا ۔ بصورت دیگر مناسب کارروائی کی جا سکتی ہے۔ اکاؤنٹ ہولڈر کی طرف سے معلنہ آمدنی اور جمع میں کسی طرح کی بے اصولی کو ٹیکس چوری کا معاملہ تصور کیا جائے گا۔
      انہوں نے کہا کہ ان چھوٹے کاروباریوں، ، فنکاروں اور کاریگروں کو فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں ہے، جنہوں نے کچھ نقد رقم بچا کر گھر میں رکھی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے لوگوں کو محکمہ انکم ٹیکس کی جانچ وغیرہ کے بارے میں فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔
      انہوں نے کہا کہ ایسے لوگوں کو 1.5 لاکھ یا دو لاکھ روپے تک کی چھوٹی رقم جمع کرنے کو لے کر فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں ہے ، کیونکہ یہ رقم تو ٹیکس کے قابل آمدنی کے دائرے میں نہیں آتی۔ اس طرح کے چھوٹے ذخائر والے اکاؤنٹ ہولڈر انکم ٹیکس ڈپارٹمنٹ سے کسی طرح کے ظلم و ستم کی فکر نہ کریں۔ لوگوں کی طرف سے زیورات خریدے جانے کے بارے میں انہوں نے کہا ہے کہ زیورات خریدنے والوں کو پین نمبر دینا ہوگا۔
      First published: