உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    خاص شخصیت : ملک کے پہلے مسلم وزیر داخلہ تھے مفتی محمد سعید

    پی ڈی پی کے سرپرست مفتی محمد سعید جموں و کشمیر کے 12 ویں وزیر اعلی تھے۔ 79 سال کے سعید کو نرم دل سیاستدان کے طور پر دیکھا جاتا تھا۔ اپنی بیٹی محبوبہ مفتی کے ساتھ 1999 میں پی ڈی پی کا قائم کرنے سے پہلے سعید نے اپنے سیاسی کیریئر کا طویل عرصہ کانگریس میں رہ کر گزارا۔

    پی ڈی پی کے سرپرست مفتی محمد سعید جموں و کشمیر کے 12 ویں وزیر اعلی تھے۔ 79 سال کے سعید کو نرم دل سیاستدان کے طور پر دیکھا جاتا تھا۔ اپنی بیٹی محبوبہ مفتی کے ساتھ 1999 میں پی ڈی پی کا قائم کرنے سے پہلے سعید نے اپنے سیاسی کیریئر کا طویل عرصہ کانگریس میں رہ کر گزارا۔

    پی ڈی پی کے سرپرست مفتی محمد سعید جموں و کشمیر کے 12 ویں وزیر اعلی تھے۔ 79 سال کے سعید کو نرم دل سیاستدان کے طور پر دیکھا جاتا تھا۔ اپنی بیٹی محبوبہ مفتی کے ساتھ 1999 میں پی ڈی پی کا قائم کرنے سے پہلے سعید نے اپنے سیاسی کیریئر کا طویل عرصہ کانگریس میں رہ کر گزارا۔

    • News18
    • Last Updated :
    • Share this:

      پی ڈی پی کے سرپرست مفتی محمد سعید جموں و کشمیر کے 12 ویں وزیر اعلی تھے۔ 79 سال کے سعید کو نرم دل سیاستدان کے طور پر دیکھا جاتا تھا۔ اپنی بیٹی محبوبہ مفتی کے ساتھ 1999 میں پی ڈی پی کا قائم کرنے سے پہلے سعید نے اپنے سیاسی کیریئر کا طویل عرصہ کانگریس میں رہ کر گزارا۔


      سال 1950 کی دہائی میں وہ جی ایم صادق کی کمان میں ڈیموکریٹک نیشنل کانفرنس کے رکن بھی رہے۔ نیشنل کانفرنس کے فاروق عبداللہ کی طرح گولف کے دلدادہ مفتی سعید نے بھی اپنی پارٹی کے قیام کے تین سال کے اندر اندر ہی کانگریس کی حمایت سے ریاست میں اپنی حکومت بنائی ۔ تاہم 2008 کے اسمبلی انتخابات میں وہ ہار گئے اور عمر عبداللہ نے ریاست میں اپنی پارٹی کو جیت دلائی۔


      ایک وکیل سے لے کر ملک کے اب تک کے واحد مسلم وزیر داخلہ بننے تک کا سفر طے کرنے والے مفتی محمد سعید نے ایک منجھے ہوئے سیاسی کھلاڑی کی طرح قومی سیاست اور جموں و کشمیر کی سیاست میں اپنے لئے ایک الگ مقام بنایا۔ تقریبا چھ دہائیوں تک اپنے سیاسی کیریئر میں سعید طاقتور عبداللہ خاندان کے خلاف مضبوط حریف بن کر کھڑے رہے ۔ سیاست کے کھیل میں ہمیشہ اپنے پتے عین وقت پر کھولنے والے مفتی سعید اپنے سیاسی ایجنڈے کے مطابق چلنے کے لئے متضاد نظریات کی حامل جماعتوں کے ساتھ بھی دوستی کرنے سے گریز نہیں کرتے تھے۔


      اننت ناگ ضلع کے بجبیهرا میں 12 جنوری 1936 کوپیدا ہوئے سعید سرینگر کے ایس پی کالج اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے طالب علم رہے ، جہاں سے انہوں نے قانون اور عرب تاریخ میں ڈگری حاصل کی تھی۔ سعید نے 1962 میں ان کی جائے پیدائش سے ڈی این سی کی قیادت میں الیکشن جیت کر سیاسی سفر کی شروعات کی تھی۔ انہوں نے 1967 میں بھی اسی سیٹ سے کامیابی حاصل کی، جس کے بعد صادق نے انہیں نائب وزیر بنایا۔


      مفتی سعید 1972 میںکابینی وزیر بنے اور اسمبلی میں کانگریس کے لیڈر بھی۔ 1975 میں انہیں کانگریس پارٹی اراکین کا لیڈر اور ریاستی کانگریس کاصدر بنایا گیا، لیکن وہ اگلے دو انتخابات ہار گئے۔ 1986 میں مرکز میں راجیو گاندھی کی حکومت میں بطور کابینی وزیر سیاحت شامل ہونے والے سعید نے ایک سال بعد میرٹھ فسادات سے نمٹنے میں کانگریس پر ناکامی کا الزام لگاتے ہوئے استعفی دے دیا۔ وہیں سن 1989 میں وہ وشوناتھ پرتاپ سنگھ کی حکومت میںملک کے پہلے مسلم وزیر داخلہ بنے۔


      مفتی سعید کے سیاسی سفر میں دو سب سے اہم پڑاؤ سال 1989 اور سال 2015 میں آئے۔ سال 1989 میں وہ آزاد ہندوستان کے پہلے مسلم وزیر داخلہ بنے اور گزشتہ سال وہ دوسری مرتبہ جموں و کشمیر کے وزیر اعلی بنے۔ 12 جنوری کو 80 سال کے ہو جانے والے سعید نے اس مرتبہ جموں وکشمیر کا اقتدار سنبھالنے کے لئے بی جے پی کے ساتھ اتحاد کیا، جس کے لئے اس مسلم اکثریتی ریاست میں اقتدار میں آنے کا یہ پہلا موقع تھا۔


      ملک کے پہلے مسلم وزیر داخلہ کی شیبہ کو اس وقت دھکا لگا، جب وی پی سنگھ کی قیادت والی حکومت نے ان کی تین بیٹیوں میں سے ایک کی رہائی کے عوض میں پانچ افراد کو چھوڑنے کی دہشت گردوں کی ڈیمانڈ کے آگے گھٹنے ٹیک دیئے تھے، جس کے بعد وادی میں دہشت گردی نے سر اٹھانا شروع کردیا تھا۔

      First published: