ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

مفتی اعظم محمد میاں ثمر دہلوی کا انتقال ، عالم اہلسنت میں غم کی لہر دوڑ

بعد نماز ظہر ہزاروں کی تعداد میں ان کے عقید ت مندوں نے ان کا آخری دیدار کیاجس کی اجازت خود مفتی اعظم نے دی تھی۔

  • UNI
  • Last Updated: Mar 03, 2017 08:48 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
مفتی اعظم محمد میاں ثمر دہلوی کا انتقال ، عالم اہلسنت میں غم کی لہر دوڑ
بعد نماز ظہر ہزاروں کی تعداد میں ان کے عقید ت مندوں نے ان کا آخری دیدار کیاجس کی اجازت خود مفتی اعظم نے دی تھی۔

نئی دہلی: حضرت قاضی اہلسنت و مفتی اعظم محمد میاں ثمر دہلوی سجادہ نشین خانقاہ مسعودیہ مظہریہ مسجد شاہی فحپوری دہلی کا آج قبل مغرب ان کی رہائش گاہ واقع باڑہ ہندو راؤ میں انتقال ہوگیا۔انتقال کی خبر سے پورے عالم اہلسنت میں غم کی لہر دوڑ گئی ۔اس سے قبل بعد نماز ظہر ہزاروں کی تعداد میں ان کے عقید ت مندوں نے ان کا آخری دیدار کیاجس کی اجازت خود مفتی اعظم نے دی تھی۔اطلاع کے مطابق ان کی تدفین ان کی وصیت کے مطابق کل درگاہ حضرت خواجہ باقی بااللہ علیہ الرحمہ میں عمل میں آئے گی ۔

غورطلب ہے کہ مفتی اعظم محمد میاں ثمر دہلوی تقریباً دو ماہ سے علیل تھے ۔ان کا آخری سفر بہار کا ہوا تھا او ر واپسی پر کہرے کی وجہ سے انھیں تقریبا 23 گھنٹے ٹرین میں ہی سفر کرنا پڑے ،گھر واپسی پر ان کی طبعیت اچانک خراب ہوگئی تھی چند روز بعد انھیں پہلے گنگا رام اسپتال میں داخل کیا گیا ، 15 دن بعد انھیں بی ایل کپور اسپتال میں داخل کرایا گیا ۔مریدین کے مطابق مفتی اعظم کواس بات کا بخوبی علم تھا کہ ان کی زندگی کے اب چند روز ہی بچے ہیں اس لئے خادم سے کہہ دیا تھا کہ یہ تمہاری آخری خدمت ہے ۔مفتی اعظم محمد میاں ثمر دہلوی علیہ الرحمہ نے حالات کو دیکھتے ہوئے چند روز قبل ہی اپنے فرزند محمد اسید احمد قادری کو خلافت عطا کردی تھی ۔خاص مریدین کے مطابق حضرت پانچ چھ روز سے دریافت کررہے تھے کہ چاند کی تین تاریخ کب ہے اور آج چاند کی ۳ ہی تاریخ ہے جب وہ مالک حقیقی سے جاملے ۔

آج صبح انھیں اسپتال سے گھرلایا گیا جہاں ڈاکٹروں نے بتایا کہ بس چند گھنٹے ہی باقی ہیں۔یہ خبر جب عام ہوئی ہزاروں کی تعدادمیں ان کے عقیدت مند راجستھان ،ہریانہ وغیرہ سے پہنچے ۔بعد نماز جمعہ لوگوں کو آخری زیارت سے مفتی اعظم نے مشرف فرمایا ۔اس دوران خواتین کی بہت بڑ ی تعداد موجود رہی اور ہر کوئی زیارت کرنے والا نم آنکھوں سے گھر سے نکل رہا تھا ۔چونکہ آخری وقت تھا اسلئے قربا قریب کھڑے ہوکر تلاوت کلام پاک کررہے تھے ۔تلاوت کلام ابھی جاری ہی تھا کہ اچانک سانس رک گئی اور پورے علاقہ میں کہرام مچ گیا ۔یہ خبر آگ کی طرح پھیلی اور عقیدت مندوں کو بے چین کر گئی ۔ہر عقیدت مند کے گھر سے رونے کی صدائیںآرہی تھیں۔ہندوستان میں چند جید علماء میں سے ایک مفتی اعظم محمد میاں ثمردہلوی ایک تھے ۔

First published: Mar 03, 2017 08:48 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading