உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    برمی مسلمانوں کی نسل کشی پرمسلم حکمرانوں اور عالمی اداروں کی خاموشی جرم کے مترادف :مفتی عثمانی

    مفتی محفوظ الرحمان عثمانی ، فائل فوٹو

    مفتی محفوظ الرحمان عثمانی ، فائل فوٹو

    نئی دہلی۔ میانمار میں روہنگیا مسلمانوں پر بدھ انتہا پسندوں اور برماکی فوجیوں کے مظالم نےسبھی حدوں کو پار کردیا ہے۔

    • Pradesh18
    • Last Updated :
    • Share this:
      نئی دہلی۔ میانمار میں روہنگیا مسلمانوں پر بدھ انتہا پسندوں اور برماکی فوجیوں کے مظالم نےسبھی حدوں کو پار کردیا ہے۔گزشتہ چار سالوں سے بدھسٹوں نے میانمار کی اقلیت روہنگیائی مسلمانوں پر جبرو استبداد،قتل و غارت گری ،لوٹ مار اور خواتین کی آبروریزی کے دلخراش واقعات عام ہیں،برماکے فوجیوں نے انسانی حقوق کو تار تار کردیا ہے اور مسلسل اس کی خلاف ورزی ہو رہی ہے اس کے باوجود پوری دنیا خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ برمی مسلمانوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتےہوئے ان خیالات کا اظہار مشہور عالم دین و ممتاز ملی رہنما مفتی محفوظ الرحمن عثمانی (بانی و مہتمم جامعۃ القاسم دارالعلوم الاسلامیہ سپول بہار) نے آج کیا۔


      امام قاسم اسلامک ایجوکیشنل ویلفئر ٹرسٹ نئی دہلی کی طرف سے جاری پریس بیان میںانہوں نے کہاکہ    برما کے مسلمانوں کے قتل عام پر اقوام متحدہ کی خاموشی جہاں کئی سوالات کو جنم دیتی ہے، وہیں اس بین الاقوامی ادارے کی مسلمان مخالف فکر اور اس کےتعصب کو بھی اجاگر کرتی ہے۔مفتی عثمانی نے برما میں مظلوم اور نہتے مسلمانوں کی نسل کشی اور ان پربدترین مظالم کے لامتناہی سلسلوں پرعالم اسلام کی چپی پر بھی تنقید کی۔ انہوں نے کہاکہ اسلامی ممالک کی تنظیم (او آئی سی) اقوام متحدہ، انسانی حقوق کے عالمی ادارے اور عالمی برادری بدھسٹوں کی انتہاپسندی پر اپنی خاموشی کو کب ترک کریں گی اور وہاں کے مظلوم لٹے پٹے او راپنا گھر بار چھوڑ کردوسرے ملکوں میں پناہ کیلئے بھٹک رہے مسلمانوں کو انصاف کب ملے گا؟۔ انہوں نے کہا کہ ریاست رخائن میں مسلمانوں کا عرصہ حیات تنگ کردیا گیا ہے اور مردو و خواتین، بزرگ ،بچوں سبھی پر ظلم کے پہاڑ توڑے جارہے ہیں اور وہ ہجرت پر مجبور ہیں۔



      مفتی عثمانی نے کہا کہ ایسے نازک حالات میں مسلم حکمرانوں اور عالمی اداروں کی خاموشی جرم کے مترادف ہے۔انہوں نےکہا کہ ہیومن رائٹس واچ نے جو سیٹلائٹ تصویر جاری کی ہے اس میں بتایا گیا ہےکہ گذشتہ چھ ہفتوں میں روہنگیا مسلمانوں کےسیکڑوں گھر منہدم کر دیے گئے  یا انہیں آگ کے حوالے کردیا گیا ہے۔ یہ برمی مسلمانوں پر ظلم کی انتہا ہے اوررہنگیائی مسلمانوں کو انکے بنیادی حقوق سے محروم رکھا جارہا ہے۔مفتی محفوظ الرحمن عثمانی نےکہاکہ برما کی مظلوم خواتین کی درد بھری کہانی کو سن کر کلیجہ منہ کو آتا ہے، مگر پھر مسلم ممالک خاموش ہیں،عالم اسلام کو ان کی درد بھری کہانی پر توجہ دینی چاہئے اور پوری دنیا میں برماکی حکومت کے خلاف آواز بلند کرنے کی ضرورت ہے۔واضح رہےکہ میانمار میں روہنگیا مسلمانوں کی تعداد تقریبا ۱۱؍لاکھ ہے اور ان کی زیادہ تر تعداد رخائن کے علاقے میں آباد ہے۔ انہیں نہ تو شہریت رکھنے کا حق حاصل ہے اور نہ ہی انہیں بنیادی حقوق فراہم کیے جاتے ہیں۔ میانمار کی زیادہ تر آبادی بدھسٹوں کی ہے اور وہ روہنگیا مسلمانوں کو بنگلہ دیش کے غیر قانونی تارکین وطن سمجھتے ہیں۔
      First published: