ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

اقلیتوں کے لئے تعلیمی ادارے کی بنیاد الورمیں یکم اکتوبرکو رکھی جائے گی: مختارعباس نقوی

مرکزی وزیر کے مطابق الورمیں قائم کئے جارہے تعلیمی ادارے کی ابتدا 2020 تک ہوجائے گی۔

  • UNI
  • Last Updated: Sep 26, 2018 12:01 AM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
اقلیتوں کے لئے تعلیمی ادارے کی بنیاد الورمیں یکم اکتوبرکو رکھی جائے گی: مختارعباس نقوی
مختار عباس نقوی ۔ فائل فوٹو

نئی دہلی: اقلیتی امور کے وزیر مختار عباس نقوی نے منگل کے روز کہا کہ غریبوں، پسماندہ، کمزور طبقوں اوراقلیتوں کے لئے بین الاقوامی سطح کےپہلے تعلیمی ادرے کی بنیاد راجستھان کے الور میں اکتوبرمیں رکھی جائے گی۔

مختارعباس نقوی نے منگل کے روزیہاں مولانا آزاد ایجوکیشن فاؤنڈیشن کی 101ویں گورننگ باڈی ور 57 وی جنرل باڈی میٹنگ کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ الور میں قائم کئے جارہے تعلیمی ادارے کی ابتدا 2020 تک ہوجائے گی۔

انہوں نے کہا کہ راجستھان حکومت نے الورضلع کے کشن گڑھ باس تحصیل میں کہرا پپلی گاؤں میں 15 ایکڑ زمین دی ہے۔ اس ادارے میں بین الاقوامی سطح کا تحقیقی مرکز، لیب، کتب خانہ اورابتدا سے اعلی تعلیم کے ساتھ کھیل کود جیسی جدید سہولیات وہاں مہیا کرائی جائیں گی۔

اقلیتی امورکے وزیر نے کہا کہ اقلیتوں کےلئے بین الاقوامی سطح کے تعلیمی ادارے قائم کرنے سے قبل تکنیکی، میڈیکل، آیوروید، یونانی سمیت عالمی سطح کے روزگارکے لئے مہارت فراہم کرنے والے ادارے قائم کئے جائیں گے۔ ان تعلیمی اداروں میں 40 فیصد ریزرویشن لڑکیوں کے لئے مختص کئے جانے کی تجویز ہے۔


یہ بھی پڑھیں:    کشمیرکے تمام مسائل کے لئے کانگریس ذمہ دار ہے: مختارعباس نقوی

الور میں قائم کئے جارہے تعلیمی ادارے کا پورا خاکہ تیار کرنے کے لئے وزارت اقلیت کے افسران اور مولانا آزاد ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے اراکین کی ایک تین رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے، جلد ہی اس ادارے کی تعمیرسے متعلق تفصیلی رپورٹ (ڈی پی آر) تیارکی جائے گی۔
اقلیتی وزارت نے کمزور، پسماندہ اوراقلیتوں کے لئے بین الاقوامی سطح کے تعلیمی اداروں کے قیام کے لئے ایک سال قبل اسکیم بنائی تھی اوراس کے لئے سابق سکریٹری افضل امان اللہ کی قیادت میں 11 رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی تھی۔
مولانا آزاد ایجوکیشن فاؤنڈیشن کی 101ویں گورننگ باڈی اور 57وی جنرل باڈی میٹنگ میں اقلیتوں کے تعلیمی خودانحصاری کی مختلف اسکیموں ’بیگم حضرت محل بالیکا اسکالرشپ، غریب نواز کوشل وکاس یوجنا اور دیگراسکالرشپ پروگراموں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں:   قومی اقلیتی کمیشن کو آئینی درجہ دینے کے حق میں نہیں ہے مرکزی حکومت

یہ بھی پڑھیں:   تین طلاق پرسپریم کورٹ کا فیصلہ غلط اورغیرآئینی: مسلم پرسنل لا بورڈ

 
First published: Sep 26, 2018 12:01 AM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading