اپنا ضلع منتخب کریں۔

    Mukhtar Abbas Naqvi  نے سچرکمیٹی اور وزیراعظم 15 نکاتی پروگرام کو بتایا خانہ پری اور لیپاپوتی

    مرکزی وزیر برائے اقلیتی امور مختارعباس نقوی (Mukhtar Abbas Naqvi) نے نیٹ ورک 18 کے چینل نیوز 18 اردو کے ساتھ خصوصی گفتگو میں سچر کمیٹی  اور وزیراعظم کے پندرہ نکاتی پروگرام کو خانہ پری اور لیپاپوتی قرار دیا ہے ۔

    مرکزی وزیر برائے اقلیتی امور مختارعباس نقوی (Mukhtar Abbas Naqvi) نے نیٹ ورک 18 کے چینل نیوز 18 اردو کے ساتھ خصوصی گفتگو میں سچر کمیٹی اور وزیراعظم کے پندرہ نکاتی پروگرام کو خانہ پری اور لیپاپوتی قرار دیا ہے ۔

    مرکزی وزیر برائے اقلیتی امور مختارعباس نقوی (Mukhtar Abbas Naqvi) نے نیٹ ورک 18 کے چینل نیوز 18 اردو کے ساتھ خصوصی گفتگو میں سچر کمیٹی اور وزیراعظم کے پندرہ نکاتی پروگرام کو خانہ پری اور لیپاپوتی قرار دیا ہے ۔

    • Share this:
    نئی دہلی : اقلیتوں کے حوالے سے سچر کمیٹی اور رنگناتھ مشرا کمیشن کی سفارشات کا اکثر سوال اٹھتا ہے اور موجودہ این ڈی اے حکومت پر ان سفارشات کو نظر انداز کرنے کے لئے تنقید کا نشانہ بھی بنایا جاتا ہے ۔ تاہم مرکزی وزیر برائے اقلیتی امور مختارعباس نقوی (Mukhtar Abbas Naqvi) نے نیٹ ورک 18 کے چینل نیوز 18 اردو کے ساتھ خصوصی گفتگو میں سچر کمیٹی  اور وزیراعظم کے پندرہ نکاتی پروگرام کو خانہ پری اور لیپاپوتی قرار دیا ہے ۔ دراصل نیوز18 کے نمائندے کے ذریعہ سے وزیراعظم کے پندرہ نکاتی پروگرام کے سلسلے میں 2016 کے بعد سے نگرانی اور رپورٹنگ کے فقدان کو لے کر سوال پوچھا گیا تھا کہ ایسا کیوں ہو رہا ہے؟ مرکزی بجٹ کے آنے سے پہلے ماہرین کے ذریعہ سے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں جس کے جواب میں مختار عباس نقوی نے کہا یہ صرف خانہ پری اور لیپاپوتی تھی جس کے بعد یہ سوال اٹھنا لازمی ہے کیا مودی حکومت وزیراعظم پندرہ نکاتی پروگرام اسکیم کو پوری طرح سے تالا لگا چکی ہے۔

    تفصیلات کے مطابق مختار عباس نقوی نے وزیر اعظم کے 15 نکاتی پروگرام کے بارے میں اٹھائے جانے والے سوال کے جواب میں بڑا بیان دیتے ہوئے کہا کہ سچر کمیٹی اور وزیر اعظم کا 15 نکاتی پروگرام صرف خانہ پری کے لئے تھا، اس سے زیادہ کچھ نہیں ۔ مختار عباس نقوی نے کہا کہ کب کہاں اقلیتوں کے ساتھ ناانصافی ہوئی ہے۔ ہم نے آواس اسکیم کے تحت بنائی گئی رہائش گاہوں کے اعداد وشمار نکالے تو معلوم ہوا کہ جو مکانات بنائے گئے ان میں سے 39 فیصد اقلیتوں ملے ۔   مدرا اسکیم کا فائدہ 40 فیصد سے زیادہ اقلیتی طبقات کو پہنچا ہے۔ مختار عباس نقوی نے کہا کہ اس لئے میرا کہنا ہے کہ سچر کمیٹی اور وزیراعظم 15 نکاتی پروگرام صرف خانہ پری اور لیپاپوتی کے لئے تھے، نقوی نے کہا کہ ہمارا عزم اقلیتی برادری کو بغیر کسی امتیاز کے عزم اور وقار کے ساتھ  ترقی کے راستے پر لے جانا ہے ۔

    غور طلب ہے کہ 2006 میں سابق وزیراعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ کی حکومت کے ذریعہ سے جسٹس راجندر سچر کی سربراہی میں بنائی گئی کمیٹی کی رپورٹ کو دیکھتے ہوئے وزارت اقلیتی امور کا قیام کیا گیا تھا ۔ ساتھ ہی دوسری وزارتوں میں اقلیتوں کے لئے پندرہ فیصدی بجٹ مختص کئے جانے کو لے کر وزیراعظم کے پندرہ نکاتی پروگرام کی اسکیم بھی لائی گئی تھی۔ اس اسکیم کی نگرانی کا کام وزارت اقلیتی امور کو کرنا تھا ۔

    پانچ کروڑ سے زائد اسکالرشپ وزارت کی جانب سے جاری کی گئیں ۔ مرکزی اقلیتی امور کے وزیر مختار عباس نقوی نے بجٹ کے حوالے سے اٹھائے جانے والے سوالات کا جواب دیتے ہوئے نیوز 18 سے خصوصی بات کی ۔ مختار عباس نقوی نے کہا کہ ابھی تک پچھلے پانچ چھ سالوں میں ہم نے ساڑھے پانچ کروڑا سکالر شپ دی ہیں ، جن میں پچاس فیصد لڑکیاں شامل ہیں، ہماری کوشش ہے کہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو اسکالرشپ ملے، جو لوگ بتا رہے ہیں ان کے اعداد و شمار غلط ہیں ۔ اس مرتبہ بھی بڑی تعداد میں وظائف دیے جائیں گے ،  لیکن یہ سمجھنا چاہئے کہ مرکزی حکومت کے اسکالرشپ میں ہم 90 فیصد اسکالرشپ دیتے ہیں جبکہ قبائلی امور سماجی انصاف یا دوسری وزارت 10 فیصد میں ہوتی ہیں ۔ ہماری اسکالرشپ ڈیمانڈ پر نہیں ہوتی، یہ بجٹ پر مبنی ہوتی ہے۔

    مختار عباس نقوی نے آٹھ ہزار کروڑ کے بجٹ کے مطالبے کی حمایت کرتے ہوئے  کہا کہ ان لوگوں کے  منہ میں گھی شکر جو کہہ رہے ہیں ۔ ہم یہ بھی چاہتے ہیں کہ اسکالرشپ کے لئے آنے والی تمام درخواستوں کو اسکالرشپ ملنا چاہئے ۔
    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: