உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ملائم سنگھ کو سپریم کورٹ سے ملی راحت ، اجودھیا فائرنگ معاملہ میں درج نہیں ہوگی ایف آئی آر

    ملائم سنگھ کو سپریم کورٹ سے ملی راحت ،اجودھیا فائرنگ معاملہ میں درج نہیں ہوگی ایف آئی آر

    ملائم سنگھ کو سپریم کورٹ سے ملی راحت ،اجودھیا فائرنگ معاملہ میں درج نہیں ہوگی ایف آئی آر

    سپریم کورٹ سے اترپردیش کے سابق وزیر اعلی ملائم سنگھ یادو کو بدھ کو بڑی راحت ملی جب ان پر 1990میں رام مندر تحریک کے دوران ’کارسیوکوں ‘پر گولی چلانے کا حکم دینے پر ایف آئی آر درج کرانے کی عرضی خارج کردی گئی۔

    • UNI
    • Last Updated :
    • Share this:
      سپریم کورٹ سے اترپردیش کے سابق وزیر اعلی ملائم سنگھ یادو کو بدھ کو بڑی راحت ملی جب ان پر 1990میں رام مندر تحریک کے دوران ’کارسیوکوں ‘پر گولی چلانے کا حکم دینے پر ایف آئی آر درج کرانے کی عرضی خارج کردی گئی۔جسٹس اشوک بھوشن اور جسٹس کے ایم جوزف کی بنچ نے تاخیر سے عرضی داخل کرنے کو بنیادبناکر اسے خارج کردیا۔
      عرضی گزار رانا سنگرام سنگھ نے الزام لگایاکہ رام مندر کی تحریک میں پرامن طریقہ سے حصہ لے رہے ’کار سیوک ‘مسٹر یادو کے وزیراعلی کی حیثیت سے گولی چلانے کا حکم دینے کی وجہ سے مارے گئے ۔معاملہ نومبر1990کا ہے ،اس وقت مسٹر یادو اترپردیش کے وزیراعلی اور وشوناتھ پرتاپ سنگھ وزیراعظم تھے ۔
      دو نومبر 1990کولاکھوں کارسیوکوں کی بھیڑ اجودھیا میں جمع تھی اور مسٹر یادو نے بھیڑ کو منتشر کرنے کے لیے گولی چلانے کا حکم دیاتھا۔مسٹر یادو نے کہا تھا کہ ملک کی سلامتی کےلیے اجودھیا میں گولی چلانے کا حکم دینا پڑا تھا۔گولی چلانے کے حکم کے 23سال بعد مسٹر یادو نے کہاتھا کہ اس وقت ان کے سامنے متنازعہ ڈھانچہ بچانے اور ملک کی سلامتی کا سوال تھا ، اس لیے انھیں یہ حکم دیناپڑا ۔اس کے لیے انھیں افسوس ہے ، لیکن ان کے سامنے اور کوئی متبادل نہیں تھا۔
      First published: