ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

ملائم سنگھ کی بہونے طلاق ثلاثہ بل کی حمایت کی، راجیہ سبھا میں منظوری کی خواہاں

اپرنا یادونے تین طلاق بل کومرکزی حکومت کا اچھا قدم بتاتے ہوئے اس کا استقبال کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ راجیہ سبھا میں بل کومنظوری ملنی چاہئے۔

  • Share this:
ملائم سنگھ کی بہونے طلاق ثلاثہ بل کی حمایت کی، راجیہ سبھا میں منظوری کی خواہاں
ملائم سنگھ کی بہو اپرنا یادو: فائل فوٹو

ملائم سنگھ کی چھوٹی بہواپرنا یادو نے ایک بارپھرپارٹی لائن سے الگ اسٹینڈ لیا ہے۔ سماجوادی پارٹی (ایس پی ) کے طلاق ثلاثہ بل کی مخالفت کرنے کے باوجود اپرنا یادو نے اس کی حمایت کی ہے۔ انہوں نے اس بل کے پارلیمنٹ کے ایوان بالا راجیہ سبھا میں منظور ہونے پرزوردیا ہے۔


نیوزایجنسی اے این آئی کے مطابق اپرنا یادو نے طلاق ثلاثہ بل کو مرکزی حکومت کواچھا قدم بتاتے ہوئے اس کا استقبال کیا۔ انہوں نے کہا کہ بل کوراجیہ سبھا میں بھی منظورہونا چاہئے۔ انہوں نے لوک سبھا میں مرکزی حکومت کے ذریعہ بل منظورکرانے کی کوشش کی تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہم نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو(این سی آربی) کو دیکھیں گے، تو پتہ چلے گا کہ ہمارے ملک میں، خاص طورپراترپردیش میں خواتین محفوظ نہیں ہیں۔ نہ صرف خواتین کو بلکہ مردوں کو بھی خوایتن تحفظ قانون کے بارے میں جانکاری ہونی چاہئے۔


مرکزی وزیرقانون روی شنکرپرساد نے27 دسمبرکوتین طلاق بل کولوک سبھا میں پیش کیا تھا توسماجوادی پارٹی کے بدایوں سے ممبرپارلیمنٹ دھرمیندریادونےاس کی مخالفت کی تھی۔ انہوں نے کہا تھا کہ تین طلاق سماجی موضوع ہے اوربی جے پی اس معاملے پرسیاست کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ گزشتہ جمعرات کووزیرقانون روی شنکرپرساد نے تین طلاق بل لوک سبھا میں پیش کیا تھا، جہاں اپوزیشن پارٹیوں کے ہنگامے اورایوان سے واک آوٹ کے درمیان یہ بل پاس ہوگیا تھا۔




حکومت اب اس بل کو سال کے آخری دن یعنی 31 دسمبرکو راجیہ سبھا میں پیش کرنے والی ہے۔ اسے دیکھتے ہوئے کانگریس اوربی جے پی دونوں نے اپنے اپنے ممبران پارلیمنٹ کوپارلیمنٹ میں موجود رہنے کا وہپ جاری کیا ہے۔ راجیہ سبھا میں این ڈی اے اتحاد کے پاس اکثریت نہیں ہے۔ بی جے پی 73 سیٹوں کےساتھ یہاں سب سے بڑی پارٹی ہے۔ 245 ممبران والے اس ایوان میں این ڈی اے کے یہاں کل 89 ممران ہیں جبکہ یوپی اے سمیت اپوزیشن پارٹیوں کی تعداد 155 ہے۔
First published: Dec 30, 2018 07:53 PM IST