اپنا ضلع منتخب کریں۔

    ملائم سنگھ یادو نے اپنی آخری سانس تک سماج واد کے جن اصولوں و آدرشوں پر زندگی گزاری اس کی کوئی دوسری نظیر نہیں

    سیاسی مبصرین ہی نہیں بلکہ اہل علم و دانش بھی یہی مانتے ہیں کہ ملائم سنگھ یادو کی شخصیت کا جادو اس لئے سر چڑھ کر بولتا تھا  کیونکہ ان کی شخصیت مختلف اوصاف کا ایک خوبصورت اور قابل تقلید مجموعہ تھی۔

    سیاسی مبصرین ہی نہیں بلکہ اہل علم و دانش بھی یہی مانتے ہیں کہ ملائم سنگھ یادو کی شخصیت کا جادو اس لئے سر چڑھ کر بولتا تھا کیونکہ ان کی شخصیت مختلف اوصاف کا ایک خوبصورت اور قابل تقلید مجموعہ تھی۔

    سیاسی مبصرین ہی نہیں بلکہ اہل علم و دانش بھی یہی مانتے ہیں کہ ملائم سنگھ یادو کی شخصیت کا جادو اس لئے سر چڑھ کر بولتا تھا کیونکہ ان کی شخصیت مختلف اوصاف کا ایک خوبصورت اور قابل تقلید مجموعہ تھی۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Lucknow, India
    • Share this:
    ہر دلعزیز و معروف رہنما، سماج وادی پارٹی کے بانی و محرک ،غریبوں کسانوں اور نوجوانوں کے ہمدرد ، پسماندہ اور غریب طبقوں کے مسیحا رفیق المک ملائم سنگھ یادو کی رحلت اور ان کے جسدِ خاکی کی آخری رسومات کی ادائے گی کے ساتھ ہی سیاست کے ایک نہایت روشن اور سنہرے عہد کا خاتمہ ہوگیا۔ لکھنئو کرسی روڈ واقع انٹیگرل یونیورسٹی میں تعزیتی اجلاس کے دوران ملائم سنگھ کی سیاسی، تعلیمی اور سماجی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے واضح کیا گیا کہ ملائم سنگھ یادو نے ابتدائی مراحل سے اپنی آخری سانس تک سماج واد کے جن اصولوں اور آدرشوں کے مطابق اپنی زندگی گزاری اس کی کوئی دوسری نظیر نہیں۔

    انٹیگرل یونیورسٹی کے بانی و چانسلر پروفیسر سید وسیم اختر کے مطابق ملائم سنگھ یادو صرف سیاسی لوگوں کے ہی ہر دلعزیز رہنما نہیں تھے بلکہ میدان تعلیم اور زندگی کے دوسرے شعبوں سے وابستہ لوگوں کے بھی پسندیدہ لیڈر تھے، چونکہ وہ خود ایک ٹیچر رہے اس لئے درس و تدریس کی اہمت کو بھی سمجھتے تھے اور ان مسائل سے بھی واقف تھے جو تعلیمی اداروں کو درپیش ہوا کرتے ہیں۔ پروفیسر سید وسیم اختر یہ بھی اعتراف کرتے ہیں کہ ملائم سنگھ یادو اپنی سیکولر اپروچ ، سماجی خدمات اورسبھی طبقوں کو ساتھ لے کر چلنے کے نظریے کے سبب صرف مشہور ہی نہیں تھے بلکہ محبوبیت کی منزلوں میں داخل ہو چکے تھے۔ انہوں نے تین مرتبہ اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ کے منصب پر رہ کر یہاں کی ترقی وکاس اور استحکام کوتو یقینی بنایا ہی ساتھ ہی انہوں نے وزیر دفاع کے اہم عہدے پر رہتے ہوئے بھی ملک کی عظیم اور غیر معمولی خدمات انجام دیں۔

    کہیں بھی نظرآئے پٹ بل یا روٹ ولر تو نگرنگم کے ان نمبروں پر دیں اطلاع، مالک پر ہوگی کاروائی

    ملائم سنگھ یادو کا جانا نہ صرف سیاست میں ایک عہد کا خاتمہ ہے بلکہ ہندوستان میں دم توڑتے سیکولرازم کا بھی بہت بڑا خسارہ ہے۔ ان کو محض 15 سال کی عمر میں ڈاکٹر رام منوہر لوہیا کی ’ نہر ریٹ تحریک ‘ جو کہ کسانوں کو نہر وں سے آب پاشی کے عوض دی جانے والی رقم میں تخفیف کے لئے شروع کی گئی تھی جیل جانا پڑاتھا۔ طالب علمی کے زمانے میں انہوں نے اسٹوڈنٹ یونین کے صدر کا الیکشن جیت کر خود کو مستقبل کا لیڈر ثابت کر دیا تھا۔ ان کے ہم جماعت ان کو اسی دور یعنی زمانہءِ طالب علمی سے ہی ایم ایل اے کہہ کر مخاطب کرنے لگے تھے۔ انہوں نے سخت محنت لگن صلاحیت اور جدوجہد سے صوبائی اور قومی سیاست میں اپنا منفرد مقام متعین کیا۔ ان کی پیدائش اتر پردیش کے اٹاوہ ضلع کے سیفئی گائوں میں 22 نومبر 1939کو ایک متوسط یادو خاندان میں ہوئی تھی ایک اسکول ٹیچر ہونے کے ساتھ ساتھ وہ پہلوانی کا شوق بھی رکھتے تھے۔

    والد ملائم سنگھ کی استھیاں لینے کے بعد اکھلیش یادو نے خاندان کے ساتھ کرایا منڈن

    ساٹھ کی دہائی میں انہوں نے ایک کشتی کے مقابلے میں کئی پہلوانوں کو شکست دی۔ سنیکت سوشلسٹ پارٹی کے جسونت نگر سیٹ سے امید وار رہے نتھو سنگھ ان سے متاثر ہوئے اور پھر ملائم سنگھ دیکھتے ہی دیکھتے اتر پردیش اور ملک کے ایک عظیم لیڈر بن گئے ۔ آج اس عظیم رہنما کی رحلت و رخصت پر انٹیگرل یونیورسٹی سے منسلک ہر شخص نم دیدہ ہے ، یونیورسٹی کے پروچانسلر ڈاکٹر ندیم اختر نے بھی ملائم سنگھ یادو کی عوامی خدمات ، غریب پروری اور سیکولر مزاجی کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ملائم سنگھ یادو سادگی انکساری اور غریب پروری کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

    یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر جاوید مسرت نے انٹیگرل یونیورسٹی کے طلبا و طالبا اور اساتذہ کو ملائم سنگھ یادو کی شخصیت کے مختلف پہلووں سے واقف کراتے ہوئے واضح کیا کہ ملائم سنگھ جیسے لیڈر صدیوں میں پیدا ہوتے ہیں وہ مثبت سیاست میں یقین رکھتے تھے یہی سبب ہے کہ انہوں نےاپنی پوری زندگی عوامی خدمات کی نذر کردی ایک محب وطن اور بہترین رہنما کی حیثیت سے آئین و دستور کی بھی مکمل پاسداری کی اور سماج واد کے اصولوں پر کاربند رہتے ہوئے لوگوں کے مسائل حل کرنے اور ان کے دل جیتنے کا کام بھی کیا ، آج وہ ہمارے درمیان نہیں ہیں لیکن انکی زندگی کے روشن اسباق اور فکر و خیالات ہمیشہ ہماری رہنمائی کرتے رہیں گے ، یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ ریاستی حکومت کے احکامات کے مطابق انٹیگرل یونیورسٹی میں بھی تعزیتی اجلاس و تعزیتی نشست کے انعقاد کو یقینی بنایا گیا اور آنجہانی ملائم سنگھ یادو کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے ان کی آتما کی شانتی کے لئے دعائیں کی گئیں ۔۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: