ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

معروف فکشن اور ناول نگار مشرف عالم ذوقی کا انتقال ، اردو دنیا میں غم کی لہر

معروف فکشن نگار اور حالات کی عکاسی کرنے والے مشہور ناول نگار مشرف عالم ذوقی کا دہلی کے ایک پرائیویٹ اسپتال میں دل کا دورہ پڑنے سے انتقال ہوگیا ۔ وہ گزشتہ کئی دنوں سے اسپتال میں داخل تھے ۔

  • UNI
  • Last Updated: Apr 19, 2021 06:14 PM IST
  • Share this:
معروف فکشن اور ناول نگار مشرف عالم ذوقی کا انتقال ، اردو دنیا میں غم کی لہر
معروف فکشن اور ناول نگار مشرف عالم ذوقی کا انتقال ، اردو دنیا میں غم کی لہر

نئی دہلی : معروف فکشن نگار اور حالات کی عکاسی کرنے والے مشہور ناول نگار مشرف عالم ذوقی کا آج یہاں ایک پرائیویٹ اسپتال میں دل کا دورہ پڑنے سے انتقال ہوگیا۔وہ گزشتہ کئی دنوں سے اسپتال میں داخل تھے ۔ پسماندگان میں اہلیہ اور ایک بیٹا ہے ۔ ان کی عمر تقریباً 58 سال تھی ۔ ذوقی کو قلب کا عارضہ لاحق تھا ، لیکن وہ اس بار اس سے جانبر نہ ہوسکے۔ وہ عصر حاضر کے معتبرناول نگار تھے۔اپنی منفرد تخلیقات کے سبب وہ نمایاں شناخت رکھتے تھے۔


مشرف عالم ذوقی کی پیدائش 24نومبر 1963کو بہار کے ضلع آرہ میں ہوئی تھی۔ انہوں نے مگدھ یونیورسٹی سے ایم اے کی سند حاصل کی تھی۔ انہوں نے ہمیشہ قلم سے رشتہ نبھایا ۔ انہوں نے دہلی میں سچ بالکل سچ میں بھی کام کیا اور اخیر میں راشٹریہ سہارا کے گروپ ایڈیٹر رہے ۔ ویسے وہ ہمیشہ فری لانس صحافی رہے۔ وہ بنیادی طور پر دوردرشن کے لئے ٹی وی سیریل بناتے تھے اور قلم ہی ان کا ذریعہ معاش تھا۔


ان کی مطبوعات کی تعداد 50 سے زائد ہے۔ ان کے 14 ناول اور افسانے کے آٹھ مجموعے شائع ہوچکے ہیں ۔ حالات حاضرہ میں ان کے لکھے گئے ناول ’مرگ انبوہ‘ اور ’مردہ خانے میں عورت‘ بہت مشہور ہوا ہے اور عالمی سطح پر ان کی پذیرائی ہوئی ہے اور ادیبوں کے درمیان موضوع گفتگو بھی بنا۔


ان کے ناول اور افسانے بہت مشہور ہوئے، ان پر متعدد پی ایچ ڈی ہوچکی ہیں۔ ان کے ناولوں میں ’شہر چپ ہے‘ ’بیان‘،’مسلمان‘، ’لے سانس بھی آہستہ‘، ’آتش رفتہ کا چراغ‘،.’پروفیسر ایس کی عجیب داستان‘، ’نالہ شب گیر‘، ’ذبح‘، ’مرگ انبوہ‘اور موضوع بحث’مردہ خانے میں عورت‘ شامل ہیں۔اس کے علاوہ انہوں نے ہم عصر ادیبوں کے خاکے بھی لکھے۔ دیگر اصناف بھی انہوں نے کتابیں لکھیں۔ 1992میں ان کا پہلا ناول ’نیلام گھر‘ شائع ہوا تھا۔

وہ بنیادی طور پر بہار کے آرہ سے تعلق رکھتے تھے۔ ان کی اہلیہ تبسم فاطمہ بھی افسانہ نگار ہیں ان کے افسانے کا مجموعہ بھی شائع ہوچکا ہے ۔ گزشتہ دو ایک دنوں سے ان کی حالت سدھر رہی تھی ۔ ان کے انتقال اردو دنیا میں زبردست خلا پیدا ہوگیا ہے اور اردو دنیا ایک بہترین افسانہ نگار اور ناول نگار سے محروم ہوگئی ہے۔

جامعہ ملیہ اسلامیہ شعبہ اردو کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر خالد مبشر نے اظہار تعزیت کرتے ہوئے ذوقی کے انتقال کو اردو زبان و ادب، فکشن اور ناول کے لئے زبردست خلا قرار دیا اور کہاکہ ان کے ناول معاشرے کی تلخ حقیقت بیان کرتے ہیں۔ انہوں نے جس بہادری اور بے باکی کے ساتھ معاشرتی مسائل کو جگہ دی ہے یہ ان کی ہی بس کی بات ہے۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Apr 19, 2021 06:14 PM IST