உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    مسلم مذہبی رہنماوں نے ایم آئی ایم لیڈر اسد الدین اویسی کے بیان کی حمایت کی ، سخت قانون بنانے کا مطالبہ

    سنی مذہبی رہنما مولانا خالد رشید فرنگی محلی اور شیعہ مذہبی رہنما علی حسین

    سنی مذہبی رہنما مولانا خالد رشید فرنگی محلی اور شیعہ مذہبی رہنما علی حسین

    مجلس اتحاد المسلمین کے سربراہ اور ممبر پارلیمنٹ اسد الدین اویسی کے ہندوستانی مسلمانوں پر دئے گئے بیان کی سبھی مسلم مذہبی رہنماوں نے تائید کی ہے، خواہ وہ شیعہ مذہبی رہنما ہوں یا پھر سنی مذہبی رہنما

    • Share this:
      لکھنو : مجلس اتحاد المسلمین کے سربراہ اور ممبر پارلیمنٹ اسد الدین اویسی کے ہندوستانی مسلمانوں پر دئے گئے بیان کی سبھی مسلم مذہبی رہنماوں نے تائید کی ہے، خواہ وہ شیعہ مذہبی رہنما ہوں یا پھر سنی مذہبی رہنما، سبھی نے اویسی کے بیان کی حمایت کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ہندستانی مسلمانوں کو پاکستانی یا پاکستان جانے کیلئے کہے جانے کے خلاف سخت قانون بنایا جانا چاہئے ۔ قابل ذکر ہے کہ ایم آئی ایم لیڈر اویسی نے کہا تھا کہ بار بار ہندوستانی مسلمانوں کو پاکستانی کہے جانے اور پاکستان چلے جانے جیسے بیانات پر قانون بنائے جانے کی ضرورت ہے۔
      اس بات کی وکالت مذہبی رہنماوں نے بھی کی ہے ۔ لکھنو میں عیدگاہ کے امام اور سنی مذہبی رہنما مولانا خالد رشید فرنگی محلی کا کہنا ہے کہ ہندوستانی مسلمانوں کو بار بار پاکستان سے جوڑا جاتا ہے ، ان پر الزام لگایا جاتا ہے ، جس سے ہر ہندوستانی مسلمان کو دلی طور پر تکلیف پہنچتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس لئے اس مسئلے میں سخت قانون بنائے جانے کی ضرورت ہے ، جو لوگ اس طرح کے الزامات لگاتے ہیں ، ان کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جانی چاہئے۔
      شیعہ مذہبی رہنما علی حسین کے مطابق اس طرح کے بیانات دے کر لوگ ملک کا ماحول خراب کرنا چاہتے ہیں ، ان پر کارروائی ہونی چاہئے ۔ یہ ملک ہم سبھی کا ہے، یہاں کوئی ٹھیکہ دار نہیں ہے ، نہ یہ ملک ہندوں کا ہے اور نہ مسلمانوں کا ہے ، یہ انسانوں کا ملک ہے ۔ ایسا بیان دینے والے لیڈروں کے خلاف سختی برتی جانی چاہئے ۔
      خیال رہے کہ اسد الدین اویسی کہا تھا کہ مسلمانو ں کو پاکستان سے جوڑا جاتا ہے، جس طرح ایس سی ‘ ایس ٹی قانون بنایا گیا اسی طرح مسلمانوں کو پاکستانی کہنے کے خلاف بھی قانون بنانا چاہئے ، ملک کی آزادی کے 70سال ہوگئے ہیں، ہندوستانی مسلمانوں نے ملک کی تقسیم کی مخالفت کی تھی ، ہمارے بزرگوں نے بٹوارہ کی تائید نہیں کی ، لیکن بار بار مسلمانوں کو اس سے جوڑا جارہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کی قانون سازی سے ملک مستحکم ہوسکے گا۔
      First published: