உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    حج سبسڈی ختم کریں مگر مخصوص ایئرلائنز سے ٹکٹ خریدنے پر مجبور نہ کریں: مسلم دانشور

    فائل فوٹو

    فائل فوٹو

    لکھنئو عیش باغ عید گاہ کے امام اور مسلم پرسنل بورڈ کے رکن مولانا خالد رشید فرنگی محلی نے کہا کہ یہ جمعیت علمائے ہند سمیت تمام اہم مسلم تنظیموں کا حکومت سے بہت پرانا مطالبہ تھا کہ حج پر دی جانے والی سبسڈی ختم کی جائے۔

    • UNI
    • Last Updated :
    • Share this:

      لکھنئو۔ مرکزی حکومت نے حج سبسڈی مکمل طور پر ختم کردی ہے۔ جبکہ، سپریم کورٹ نے اس کو 2022 تک مرحلے وار ختم کرنے کا حکم دیا تھا۔ اس پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے لکھنئو عیش باغ عید گاہ کے امام اور مسلم پرسنل بورڈ کے رکن مولانا خالد رشید فرنگی محلی نے کہا کہ یہ جمعیت علمائے ہند سمیت تمام اہم مسلم تنظیموں کا حکومت سے بہت پرانا مطالبہ تھا کہ حج پر دی جانے والی سبسڈی ختم کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ لیکن اس کے ساتھ ہی مرکزی حکومت حج کے معاملے میں ایئر لائنز کی من مانی کو بھی ختم کرے۔
      اترپردیش اور اتراکھنڈ کے سابق گورنر مسٹر عزیز قریشی نے کہا کہ سبسڈی ختم ہونے کا خیر مقدم کرتا ہوں مگر حاجیوں کو کسی خاص ایئر لائنز ہی سے ٹکٹ خریدنے کا پابند نہیں کیا جانا چاہئے۔


      لکھنئو شیعہ چاند کمیٹی کے صدر مولانا سیف عباس نے کہا کہ اس سے غریب مسلمانوں کا نقصان ہوگا۔ آل انڈیا مسلم خواتین پرسنل لا بورڈ کی قومی صدر شائستہ عنبر کا کہنا ہے کہ ہم اس معاملے پر جمعیت علمائے ہند اور مسلم پرسنل لا بورڈ کے فیصلے کے ساتھ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی خاص ایئر لائن سے ٹکٹ خریدنے کا دباؤ حکومت کی جانب سے نہیں ہونا چاہئے۔ لکھنؤ کی مسلم کمیونٹی کے اہم علماء کرام نے سپریم کورٹ کے اس فیصلے کا خیر مقدم کیا ۔


      آل انڈیا حج کمیٹی کے رکن اور بھارت کی اہم صوفی درگاہ کچھوچھہ شریف کے مولانا سید محمد اشرف 'ارشد میاں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے دی جانے والی سبسڈی بہت معمولی رقم ، تقریبا 15 یا 16 ہزار تھی اور کچھ شہروں کے لوگوں کو تو مل بھی نہیں پاتی تھی۔ مسٹر اشرف نے کہا کہ اس سبسڈی کی وجہ سے دوسرے مذہب والے سمجھتے تھے کہ مسلمان سرکاری پیسے سے حج پر جاتا ہے۔

      First published: