ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

مکہ مکرمہ پر یمنی حوثیوں کی جانب سے میزائل داغے جانے کی شدید مذمت ، پڑھئے کس نے کیا کہا ؟

عالم اسلام کے مقدس شہر مکہ مکرمہ پر یمنی حوثیوں کی جانب سے میزائل داغے جانے کے واقعہ پر ہندوستان سمیت پوری مسلم اور عرب دنیا میں شدید رد عمل کا سلسلہ جاری ہے۔ اس حملہ کو اسلام اور مسلمانوں کے خلاف حملہ سے تعبیر کیا جا رہا ہے اور اسے عالم اسلام کی تاریخ میں ایک شرمناک ترین حادثہ قرار دیا جا رہا ہے۔

  • Pradesh18
  • Last Updated: Oct 30, 2016 05:48 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
مکہ مکرمہ پر یمنی حوثیوں کی جانب سے میزائل داغے جانے کی شدید مذمت ، پڑھئے کس نے کیا کہا ؟
علامتی تصویر

نئی دہلی : عالم اسلام کے مقدس شہر مکہ مکرمہ پر یمنی حوثیوں کی جانب سے میزائل داغے جانے کے واقعہ پر ہندوستان سمیت پوری مسلم اور عرب دنیا میں شدید رد عمل کا سلسلہ جاری ہے۔ اس حملہ کو اسلام اور مسلمانوں کے خلاف حملہ سے تعبیر کیا جا رہا ہے اور اسے عالم اسلام کی تاریخ میں ایک شرمناک ترین حادثہ قرار دیا جا رہا ہے۔ پردیش 18 اردو نے اس سلسلہ میں ملک کی مختلف مسلم تنظیموں کے نمائندوں سے بات چیت کر ان کا ردعمل جاننے کی کوشش کی ہے۔ ان نمائندوں نے ایک آواز میں اس حملہ کی پرزور مذمت کی اور اسے ملت اسلامیہ کے لئے انتہائی خطرناک بتایا۔ پڑھیں ، کس نے کیا کہا؟

جماعت اسلامی ہند کے امیر مولانا جلال الدین عمری نے اس حملہ کی پرزور مذمت کرتے ہوئے کہا کہ خدا نخواستہ اگر اس حملہ کی زد میں مکہ مکرمہ اور حرم شریف آجاتا تو یہ انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتا تھا۔ شکر ہے کہ اللہ نے اس حملہ سے مکہ کے عوام کو محفوظ رکھا اور اس سے ہونے والی مہلک تباہی سے بچا لیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم اس حملہ کی سخت مذمت کرتے ہیں اور دونوں ملکوں سے بات چیت کے ذریعہ اپنے اختلافات کو حل کرنے کی اپیل کرتے ہیں۔ اس سوال پر کہ کیا ایران یمنی حوثیوں کو ہتھیار فراہم کر رہا ہے، مولانا نے کہا کہ اس کے بارے میں ہم کچھ نہیں کہہ سکتے۔ یہ تو سعودی عرب کی طرف سے کہا جا رہا ہے کہ حوثیوں کو ایران ہتھیار فراہم کر رہا ہے۔ مولانا نے یہ بھی کہا کہ جب تک دوسرے ذرائع سے اس کی تصدیق نہیں ہو جاتی، اس پر کچھ کہنے سے ہم قاصر ہیں۔

آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کے صدر نوید حامد نے اس واقعہ پر اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا کہ یہ کون سے مسلمان ہیں جو خانہ کعبہ کے شہر پر حملہ کرنے کی جسارت کر رہے ہیں۔ یہ تو حد درجہ کی بیوقوفی اور نالائقی کی بات ہے۔ اس واقعہ کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔ اس معاملہ کی جانچ ہونی چاہئے اور اس میں ملوث لوگوں کے خلاف سخت ترین کارروائی کی جانی چاہئے۔ نوید حامد نے کہا کہ یہ عالمی سیاست کا معاملہ ہے۔ لیکن کیا اس سیاست کے اندر کسی کو خانہ کعبہ کو نشانہ بنانے کی اجازت دی جا سکتی ہے، ہرگز نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ ایران حوثیوں کو سپورٹ کررہا ہے۔ اسی طرح یہ بھی سچائی ہے کہ سعودی عرب بھی کچھ دوسرے لوگوں کی مدد کر کرہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شام میں بھی کچھ ایسا ہی ہو رہا ہے۔ یہ پوچھے جانے پر کہ شام اور یمن کے مسئلہ کا حل کیا ہے، مشاورت کے صدر نے کہا کہ اس معاملہ میں او آئی سی کی میٹنگ ہونی چاہئے۔ شام اور یمن دونوں ملکوں میں جنگ بندی ہونی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ خواہ سنی ہو یا شیعہ مسلمان وہ خانہ کعبہ اور مکہ مکرمہ پر حملہ نہیں کر سکتا۔

معروف عالم دین مولانا مفتی محفوظ الرحمن عثمانی نے اخبار کو جاری کئے گئے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ حوثی باغیوں نے بلیسٹک میزائل سے مکہ مکرمہ کو نشانہ بنا کر پوری دنیا کے مسلمانوں پر حملہ کیا ہے اور یہ عالم اسلام کی تاریخ میں سب سے شرمناک حادثہ ہے ،جن لوگوں نے مکہ مکرمہ پر حملہ کرنے کی کوشش کی ہے وہ پوری مسلم دنیا کے مجرم ہیں اور ایسے لوگ ناقابل معافی ہیں۔مفتی عثمانی نے کہا کہ یمن سے حوثی باغیوں کے ذریعہ مکہ مکرمہ پر کئے جانے والے حملہ سے پوری دنیا میں بے چینی پھیلی ہوئی ہے اور ہر مسلمان فکرمند ہے ۔ مفتی عثمانی نے اپنے بیان میں عرب اتحاد افواج کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب اتحاد کے افواج کی دفاعی طاقت قابل ستائش ہے جنہوں نے بیلیسٹک میزائل کے حملہ کو فضاءمیں ہی ناکام بنا دیا اور اس طرح دشمنان اسلام کی بہت بڑی سازش ناکام ہوگئی۔

ابوالکلام آزاد اسلامک اویکننگ سنٹر، نئی دہلی کے صدر عمومی مولانا محمد رحمانی مدنی صاحب نے اپنے جاری کردہ ایک بیان میں حوثیوں کی سخت تردید کی اور عالم اسلام بالخصوص ہندوستانی مسلمانوں سے اپیل کی کہ اب وقت آ گیا ہے کہ ہمیں مکمل طریقہ سے سعودی عرب کی حمایت میں اٹھ کھڑا ہونا چاہئے اور ایران اور اس کے اتحادیوں کی شرارتوں کی سختی کے ساتھ تردید کرنی چاہئے۔ مولانا نے سورۂ توبہ کی ایک آیت کریمہ کی روشنی میں فرمایا کہ مکہ مکرمہ جیسی مقدس سرزمین پر اگرکوئی شرارت کا ارادہ بھی کرتا ہے تو اللہ رب العالمین نے اسے دردناک عذاب کی وعید سنائی ہے۔

رکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے ناظم عمومی مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی نے یمنی حوثی باغیوں کے ذریعہ مکہ مکرمہ کی طرف بیلسٹک میزائل داغے جانے کی پر زور مذمت کی ہے جسے سعودی قیادت والی اتحادی فورس نے کمال مستعدی و چابکدستی اور ہوشیاری کے ساتھ مقدس شہر سے65 کلو میٹر پہلے ہی تباہ کردیا۔ مولانا اصغر علی نے کہا کہ یہ قابل مذمت حادثہ حوثی ملیشیا اور اسلام و مسلمان دشمن طاقتوں کے آلہ کار ایک ملک کی ظلم وبربریت ، دہشت گردی اور حرم مقدس کی توہین کی آخری انتہاء ہے کہ انہوں نے مسلمانان عالم کے دینی و روحانی مرکز اور اللہ کے پہلے گھر خانہ کعبہ اور وہاں کے باسیو ں کی عظمت و حرمت کو تار تار کرنا اور جان و مال کو نشانہ بنانا شروع کردیا ہے۔
First published: Oct 30, 2016 05:48 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading