உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    پردیش 18 اسپیشل: یکساں سول کوڈ پر آر ایس ایس سے منسلک مسلم لیڈران پس وپیش میں کیوں؟

    مسلم خواتین: علامتی تصویر

    مسلم خواتین: علامتی تصویر

    یکساں سول کوڈ کے مسئلے پر پورے ملک میں بحث جاری ہے۔ اس درمیان مسلم آر ایس ایس لیڈر اسے لے کر کنفیوز دکھائی دے رہے ہیں۔

    • Pradesh18
    • Last Updated :
    • Share this:
      نئی دہلی۔ یکساں سول کوڈ کے مسئلے پر پورے ملک میں بحث جاری ہے۔ اس درمیان مسلم آر ایس ایس لیڈر اسے لے کر کنفیوز دکھائی دے رہے ہیں۔ وہ فیصلہ نہیں کر سکے ہیں کہ اس بارے میں حکومت کو کیا رائے دیں۔ مرکزی حکومت پورے ملک میں ایک جیسا قانون تھوپنا چاہتی ہے۔ اس کے لئے وہ یکساں سول کوڈ نافذ کرانے کے تئیں سنجیدہ دکھ رہی ہے۔ قانون کے مسودے پر حکومت نے ملک بھر کے لوگوں سے رائے مانگی ہے۔ مسلم پرسنل لاء بورڈ نے اس کی مخالفت کا فیصلہ کیا ہے۔

      بورڈ کے اس فیصلہ کے بعد سے یہ معاملہ زیادہ گرمايا ہوا ہے۔ کچھ لوگ حمایت تو کچھ اس کی مخالفت میں آ گئے ہیں۔ وہیں آر ایس ایس سے منسلک مسلم لیڈران اس مسئلے پر حکومت کو کیا رائے دیں گے، اس کا فیصلہ وہ ابھی تک نہیں کر سکے ہیں۔ ان لیڈروں کی تنظیم مسلم راشٹریہ منچ نے یکساں سول کوڈ کے معاملے پر ملک بھر کے مسلمانوں سے بات کرنے کے بعد ہی کوئی رائے حکومت کو دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کے لئے کانفرنسیں اور میٹنگیں کی جائیں گی۔ ساتھ ہی دستخطی مہم بھی شروع کئے جائیں گے۔

      مسلم راشٹریہ منچ کے قومی کنوینر محمد افضال کا کہنا ہے کہ كامن سول کوڈ بہت ہی حساس مسئلہ ہے۔ سب سے رائے لینے کے بعد ہی ہم اس پر کوئی فیصلہ لیں گے۔ ایک ماہ میں کانفرنس اور دستخطی مہم کے ذریعے جو رائے سامنے آئے گی وہ حکومت کو بتائی جائے گی۔ مسلم راشٹریہ منچ کے قومی تنظیم کنوینر گریش جويال کا کہنا ہے کہ ہم ملک بھر کے اپنے کارکنوں سے اس معاملے پر بات کریں گے۔ ہمارے کارکن دستخطی مہم بھی چلائیں گے۔ اس میں جو باتیں نکل کر آئیں گی، ویسی ہی رائے ہم حکومت کو دیں گے۔ کسی کے ساتھ عدم مساوات نہیں ہونی چاہئے۔ مسلم ممالک نے اس موضوع پر اصلاحات کی ہیں۔ ان کی یہ اصلاحات کس قدر کامیاب رہیں، ان کا جائزہ لیا جائے گا۔

      تاہم جویال کا کہنا ہے کہ ہم ذاتی طور پر چاہتے ہیں کہ ایک قانون ہو لیکن فیصلہ رائے لینے کے بعد ہی لیں گے۔ آر ایس ایس کی آل انڈیا مجلس عاملہ کے رکن اور سینئر لیڈر اندریش کمار مسلم راشٹریہ منچ کے سرپرست ہیں۔ انہوں نے ہی اسے شروع کیا تھا۔

      مسلم راشٹریہ منچ کا دعوی ہے کہ اس کے ملک بھر میں دس لاکھ سے زیادہ رکن ہیں۔ 356 اضلاع میں شاخیں ہیں۔ اب تک 9 ہزار سے زیادہ مقامات پر پروگرام کئے ہیں۔ اس کا قیام 24 دسمبر، 2002 کو عمل میں آیا تھا۔
      First published: